معرکہ حق “بنیان المرصوص”

تحریر: ندیم ناداں

 

*ترجمہ*
:*بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں جیسے سیسا پلائی ہوئی دیوار۔*
پاکستان 14 اگست 1947 کو جب دنیا کے نقشے پر ابھر کر سامنے آیا تو دنیا کو یہ ہر گز گوارا نہ تھا کہ مسلمانوں کی کوئی آزاد ریاست ہو جہاں مسلمان اپنے عقائد، مذہب کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔ہندوستان نے بے حد کوشش کی کے پاکستان اس دنیا کے نقشے پر موجود نہ رہے انہوں نے پاکستان بننے سے پہلے بھی انگریزوں کے ساتھ ملکر مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہا کی جس کے نتیجے میں مسلمانوں نے اپنے لئے الگ ملک کی جدوجہد کی اور اللہ کی مدد کے ساتھ قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ملک *پاکستان* بن گیا اور آج پوری دنیا کے لئے مرکزی کردار کی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور اب دنیا کے طاقتور ممالک جو کبھی پاکستان کو ماننے کو تیار تک نہیں تھے آج وہ پاکستان کے علاوہ کسی پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔
ترجمہ: *اوربے شک اللہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے زلت*
پاکستان جب سے معرض وجود میں آیا اسے ختم کرنے کے لئے سازشیں شروع کر دی گئیں اور ہندوستان نے اپنی ہر ممکن کوشش کی کے کسی طرح پاکستان کو دنیا کے نقشے سے مٹا دیا جائے ۔1965 کی جنگ ہو یا پھر 1971 کی جنگ ،کارگل ہو ابھی 2025 میں مئی کے مہینے ہونے والی کوشش الحمدللہ ہندوستان کو ہر جگہ ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اور اللہ کی مدد کے ساتھ پاکستان سرخر و ہوا ۔ 1965 میں دسمبر کے مہینے کا انتخاب کیا گیا اور اس ارادے سے پاکستان پر حملہ کیا گیا کے صبح کا ناشتہ لاہور جم خانہ کلب میں ہوگا ۔مگر خدا کی شان کے 1965 سے لیکر آج تک ہندوستان صرف خواب ہی دیکھتا رہا اور انشاءاللہ یہ اس کا خواب ہی رہے گا۔
2025 مئی کے مہینے سے پہلے پاکستان کی معیشت تنزلی کا شکار تھی ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا اکثر لوگ تو اسے دیوالیہ قرار دے چکے تھے۔ملک میں ہر طرف نفسا نفسی کا عالم تھا ،دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری تھی ،ہر طرف غیر یقینی کی سی صورت حال تھی یعنی کہا جاسکتا ہے ملک پاکستان بے شمار مشکلات کا شکار تھا۔ ہندوستان اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا وہ ہر ممکن کوشش کر رہا تھا کہ پاکستان کو عالمی دنیا میں بلکل تنہا کر دیا جائے اور پھر اپنے ناپاک عزائم جو کہ قیام پاکستان سے تھے وہ انہیں عملی جامہ پہنائے اور پاکستان کو دنیا کے نقشے سے مٹا دے ۔مگر کہاوت ہے نہ کہ!
*جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔*
مکار دشمن کہاں بعض آتا ہے جب اسے 1965 اور 1971 میں اپنے مقاصد حاصل نہیں ہوسکے تو وہ نئ تدبیریں کرنے لگا اور دوبارہ سے خود کو پاکستان کے خلاف کاروائی کے لئے منظم کرنے لگا اور کئی مرتبہ کوشش کی گئ کے جھوٹے واقعات کو بنیاد بنا کر پاکستان پر حملہ کیا جائے۔
مئی 2025 میں پہلگام واقع کروا کر پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ شروع کیا گیا پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوری دنیا کے سامنے ہندوستان کو آزاد تحقیقات کی پیشکش کی گئی مگر ہندوستان اس بات کو جانتا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے یہی وجہ ہے وہ اس پیش کش کو قبول کرنے سی انکار کرتا رہا کیونکہ وہ یہ جانتا تھا کہ یہ انکی سوچی سمجھی منصوبہ بندی کا حصہ ہے جس کا مقصد صرف اور صرف پاکستان پر حملہ کرنا اور دنیا کی نظر میں دہشت گرد ملک قرار دلوا کر عالمی دنیا میں تنہا کرنا تھا۔ہندوستان کی حکومت اور فوج مسلسل بدمعاشی کا مظاہرہ کر رہی تھی اور پاکستانی حکومت اور فوج مسلسل تحمل اور صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے شفاف تحقیقات پر زور دے رہی تھی مگر ہندوستان کا ارادہ کچھ اور تھا وہ تو اپنے ناپاک عزائم کو پورا کرنا چاہتا تھا جس کے لئے وہ ماضی میں متعدد بار کوشش کے باوجود ناکام رہا۔
6مئ کی رات تھی رمضان المبارک کا مہینہ تھا عوام نے حسب معمول 6 مئی کو افطاری کی اور اسی طرح مساجد میں تراویح کی نماز ادا کی گئ ۔مگر پھر اچانک رات کو 2بجے کے قریب ہندوستان کی فضائیہ نے لاہور مریدکے میں پہلا حملہ کرتے ہوئے مسجد اور مدرسے کو نشانہ بنایا جہاں مسلمان نہتے بچے اور بچیاں تعلیم حاصل کررہے تھے اور انہیں شہید کیا گیا اس کے بعد مختلف مقامات پر فضائی حملے کئے گئے۔پاکستانی فوج اور حکومت ابھی بھی ہمت اور صبر کا مظاہرہ کررہی تھی اور چاہتی تھی کے خطے کا امن و سکون برباد نہ ہو مگر ہمارے اس رویے کو دشمن نے کمزوری سمجھا اور مسلسل نہتی عوام اور مساجد پر حملے جاری رکھے ۔پاکستان اب تک صرف دفاعی پوزیشن پر تھا اور مسلسل ہندوستان اور پوری دنیا کو یہ موقع دے رہا تھا کہ وہ امن خراب نہ ہونے دیں مگر پوری دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی کسی ملک کی طرف سے ہندوستان کو نہیں روکا جارہا تھا ۔3 دن تک مسلسل ڈرون حملے لاہور اور اسلام آباد، پشاور کے علاوہ کئی شہروں بالخصوص آزاد کشمیر میں بھی کئے جاتے رہے اور پاکستان کی غیور عوام اس کا مقابلہ کر رہی تھی اور جذبہ اس قدر بڑھ گیا تھا کہ 1965 کا منظر دوبارہ سامنے آگیا جب ملک کی فوج اور عوام ایک دوسرے کے شانہ بشانہ لڑے تھے بلکل ویسے ہی ملک کا بچہ بچہ اپنی فوج اور حکومت کے ساتھ کھڑا ہوگیا اور فوج کے حق میں ریلیاں نکالی جارہی تھیں۔اور آرمی چیف اور حکومت سے دشمن کو بھرپور جواب دینے کا مطالبہ زور پکڑ رہا تھا  ۔آخرکار وہ دن آگیا جب پاکستان کی حکومت اور افواج کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور 10 مئی 2025 کی صبح فجر کی نماز کے بعد پاکستانی افواج کے غیرت مند سپہ سالار نے اپنی بہادر افواج کو انڈیا پر حملہ کرنے حکم دیا اور پھر دنیا نے یہ منظر دیکھا کہ پاکستان کے جانباز شاہین اور بری افواج دشمن پر ایسے جھپٹی کے 3 گھنٹے تک دشمن ملک کے دارالحکومت دلی پر صرف اور صرف پاکستانی فضائیہ کا مکمل کنٹرول تھا ۔ہندوستان بلکل بے بس ہوگیا دفاعی نظام جو کہ سب سے مہنگا ترین ائیر ڈیفنس سسٹم تھا اسے تباہ کیا گیا اور اپنے مشن کا کامیابی کے ساتھ مکمل کرکے واپس پاکستان آکر فضائیہ کے جوانوں نے بتایا کہ
*جھپٹنا ،پلٹنا پلٹ کر جھپٹنا*
*لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ*
*پرندوں کی دنیا کادرویش ہوں میں*
*کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ*
یہی خاصہ ہے ہم شاہینوں کا  ہمارے صبر کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ہم کمزور تھے بلکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ عام لوگوں کی جانیں جائیں اور دنیا کا امن تباہ ہو ۔پاکستان کی بری افواج نے جس طرح مزائل سے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا وہ منظر دنیا میں تاریخ رقم کرگیا ۔
پاکستان نے 10 مئی کے دن تین گھنٹے کی جنگ میں یہ بتا دیا ساری دنیا کو تم لاکھ تدبیریں کرو اور بے شک تعداد میں بھی بہت زیادہ آو مگر ہمارا اللہ اور جذبہ شہادت تم پر اس قدر بھاری ہے کہ تم چاہ کر اسے شکست نہیں دے سکتے ۔پاک فضائیہ نے تین گھنٹے میں دلی کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لیکر نا صرف ہندوستان بلکہ ساری دنا کو یہ بات سمجھ آگئی کہ پاکستان کی امن کی خواہش کمزوری نہیں تھی بلکہ وہ نہیں چاہتے تھے دنیا کا امن سکون برباد ہو ہر طرف عام لوگوں کا خون بہے اور دشمن ممالک کو بھی سبق اور پیغام مل گیا  جو یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ پاکستان کو آسانی  سے فتح کرلیں گے ۔یقینن ہمارے ملک کی غیور عوام، افواج پاکستان اور حکومت نے پوری دنیا کو یہ پیغام دے دیا کہ!
*تم دس بندے آکر پاکستان کو لے جاو گے تمہاری آنے والی دس نسلیں بھی پاکستان کو نہیں لے کر جاسکتیں،پاکستان ہمیشہ زندہ باد رہے گا۔*