باہر وبا کا خوف ہے گھر میں بلا کی بھوک
کس موت سے مروں! زرا رائے دیجئے
لاہور کے علاقہ کاہنہ نو میں واقع (بستی عید گاہ) میں واقع ایک انتہائی افسوسناک واقع رونما ہوا ۔ایک گھر کی چھت گرنے سے 20 بچوں سمیت ایک ٹیچر شدید ذخمی ہوئیں واقعے کے نتیجے میں 14 بچے دنیا فانی سے رخصت ہو گئے اور جو باقی بچے وہ ابھی زخمی حالت میں اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ان بچوں کو پڑھا رہی تھیں (حمیدہ بی بی) وہ بھی اس گرنے والی بدقسمت چھت کے ملبے تلے آکر شدید زخمی ہیں اس کے ساتھ ساتھ اس کی ایک بیٹی بھی اس واقعے میں اللہ کو پیاری ہو گئیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سارے واقع کی زمہ داری آخر کس پر عائد ہوتی ہے حکام بالا پر،مالک مکان پر ،غربت اور بےروزگاری اس سب کی زمہ دار ہے یا پھر وہ بد قسمت استانی جو اپنی محنت کے ساتھ غریب بچوں کو معقول فیس کے ساتھ علم کی روشنی فراہم کر رہی تھی ؟بدقسمتی سے حسب معمول تحقیقاتی اداروں کی رپورٹ آچکی ہے جس میں ٹھیکدار،مالک مکان اور مزدوروں کو زمہ دار قرار دیا گیا ہے ۔ما لک مکان کا کہنا ہے کہ بارش کی وجہ سے گھر کی چھت ٹپکتی تھی ۔ہمارا گزر بسر بڑی مشکل سے ہوتا ہے اور میری بیوی میرا ہاتھ بٹانے کے لئے گھر میں بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی ہیں میں خود ایک پھل فروش ہوں اس طرح بڑی مشکل سے ہماری فیملی کا گزر بسر ہورہا تھا ۔مجھے بہت دکھ ہوتا ہے کہ ہمارے حکمران کب ہوش کے ناخن لیں گے ۔ایک دور تھا کہ جب حضرت عمر فاروق کا دور حکومت تھا ۔تو خوف خدا اس قدر تھا کہا گیا کہ!
دریائے فراط کے کنارے اگر کوئی کتا بھی بھوکا مر گیا تو اس کا جواب دہ بھی میں ہوں
ہمارے ہاں تو اتنی بے حسی ہے کہ ساری کی ساری زمہ داری انہیں لوگوں پر ڈال دی جاتی ہے جو پہلے ہی اپنی زندگی بڑی مشکل سے گزار رہے ہوتے ہیں ۔افسوس اس بات پر ہے کہ قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں لیکن بجائے امداد کرنے کے الٹا محنت محنت کرنے والوں کو قصور وار قرار دیا گیا ۔اس بات سے کوئی انکار نہیں ہے کہ ان مزدوروں کو کام سے پہلے گائیڈ کیا جاتا اور حفاظتی اقدامات اٹھائے جاتے تو بہت سی قیمتی جانیں بچ جاتیں۔مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ادارے غفلت کی نیند سو رہے ہیں ۔کیا ہمارے ادارے کا کام نہیں ہے کہ وہ تمام بلڈنگ کا معمول کے مطابق معائنہ کرے؟ ایسا کیوں ہے کہ جب بھی کوئی اس طرح کا واقع رونما ہوتا ہے تو فوری طور پر سب ادارے حرکت میں آجاتے ہیں اور کیا ان اداروں کا کام نہیں ہے کے بروقت اس کے لئے حفاظتی اقدامات اٹھائیں تا کہ اس طرح کے کے جانی اور مالی نقصانات سے بچا جا سکے۔
افسوس اس سارے واقع کی زمہ داری بجائے زمہ دار لوگوں پر ڈالنے کے الٹا اس غریب فیملی پر ڈالی جا رہی ہے جو پہلے سے غربت اور بھوک سے جنگ لڑ رہے ہیں اس کے علاوہ جو ٹیچر ہے وہ بھی شدید ذخمی ہے اور زندگی موت کی جنگ لڑ رہی ہے انہیں اس واقع کا زمہ دار قرار دینا انتہائی افسوسناک عمل ہے ۔ایک تو غریب بھوک سے مر رہا ہے اوپر سے یہ ظلم ان لوگوں کو جینے نہیں دیتا۔تعلیم یافتہ افراد کی شرح پہلے ہی بہت کم ہے جس کی بنیادی وجہ بے جا فیس اور ناقص تعلیمی نظام ہیں ایسے میں اگر کوئی انسان اپنی مدد آپ کے تحت غریب کے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے کوشش میں لگا ہے تو اسے مجرم بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔میری دردمندانہ اپیل ہے حکومت وقت سے کہ ان لوگوں کو مجرم نہ بنایا جائے یہ ایک آزمائش تھی جو اللہ کی طرف سے ہم پر آئی اس آزمائش سمجھ کر آئندہ کے لئے فوری حفاظتی اقدامات کئے جائیں ۔
میں کہیں بھوک سے نہ مرجاوں اے امیر شہر
گر مسقبل ہوں تہماراتو بچا لو مجھ کو
میری سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے درخوست ہے کہ فوری طور پر جہاں تعلیم کی بنیادی ضروریات موجود نہیں ہیں وہاں انکی فراہمی یقینی بنائی جائے۔اور ایسے لوگ جو اپنی مدد آپ کے تحت معاشرے میں علم کی روشنی پہلا رہے ہیں انہیں مجرم نہ بنایا جائے۔شکریہ
اذقلم: ندیم احمد ناداں میو

تحریر : انزلہ صدیقی

 

​موسم بدلتے ہیں تو پرندے اپنی ہجرت کا سفر بدل لیتے ہیں، پتجھڑ کے بعد بہار کی آمد ایک طے شدہ فطری امر ہے، لیکن جب وقت بدلتا ہے تو تاریخ کا رخ بدل جاتا ہے۔ ہم اکثر اپنے اردگرد مٹی کے ڈھیروں، ویران عمارتوں اور ماضی کے آثار کو دیکھ کر سوچتے ہیں کہ زوال کی داستانیں کیسے لکھی جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زوال کبھی اچانک اور یکدم نہیں آتا یہ اس وقت بہت آہستہ سے، دبے پاؤں دستک دیتا ہے جب کوئی معاشرہ گھڑی کی ٹک ٹک کو محض ایک آواز سمجھ کر نظر انداز کرنے لگتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے لمحوں کی قیمت چکانے سے انکار کیا، وقت نے اسے اپنے صفحات سے مٹا کر کسی عبرت ناک کہانی کا حصہ بنا دیا۔

​ادب کی دنیا میں کہا جاتا ہے کہ وقت وہ دریا ہے جس کا پانی دوبارہ کبھی آپ کے پاؤں کو نہیں چھوتا۔ جو قطرہ ایک بار گزر گیا، وہ اب ایک قصہ ہے، ایک یاد ہے یا پھر ایک پچھتاوا۔ حیرت ہوتی ہے کہ ہم اس مٹھی سے پھسلتی ہوئی ریت کو روکنے کی الٹی سیدھی کوششیں تو کرتے ہیں، مگر اس کے درست استعمال کا ہنر سیکھنے سے کتراتے ہیں۔ دنیا کے نقشے پر اگر نظر دوڑائی جائے، تو جن خوابوں کی تعبیریں آج فلک بوس عمارتوں، معاشی استحکام اور جدید ایجادات کی صورت میں دکھائی دیتی ہیں، ان کے پیچھے کوئی جادوئی چراغ نہیں تھا، بلکہ وقت کی قدر کا وہ گہرا احساس تھا جو ان قوموں نے اپنے قومی منشور کا پہلا صفحہ بنا لیا تھا۔ انہوں نے یہ بات جان لی تھی کہ جو قوم سورج نکلنے کے بعد بیدار ہوتی ہے، وہ کبھی دنیا کی قیادت کا خواب نہیں دیکھ سکتی۔

​ہمارے سماجی رویوں میں ایک عجیب سا تضاد بن چکا ہے۔ ہم اچھے دنوں کا انتظار تو بہت بے صبری سے کرتے ہیں، مگر ان دنوں کو اچھا بنانے کے لیے درکار محنت، عزم اور وقت کی منظم سرمایہ کاری سے ہمیشہ پیچھا چھڑاتے ہیں۔ ہم گھنٹوں بے مقصد بحث و مباحثے، لاحاصل سوشل میڈیا کی دنیا اور لایعنی محفلوں میں گنوا دیتے ہیں، اور پھر شام کو چائے کی پیالی پر گلہ کرتے ہیں کہ حالات نہیں بدل رہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ حالات خود نہیں بدلتے، انہیں بدلنے کے لیے لمحوں کو پسینے سے سینچنا پڑتا ہے۔ تبدیلی کسی معجزے کا نام نہیں، یہ روزمرہ کے ان چند لمحوں کی حفاظت کا نام ہے جنہیں ہم اکثر “چلو کل کر لیں گے کہہ کر سرد خانے کی نذر کر دیتے ہیں۔ یہ کل دراصل وہ خوبصورت سراب ہے جو انسان کو کبھی منزل کے قریب پہنچنے نہیں دیتا، بلکہ ایک ہی دائرے میں گھماتا رہتا ہے۔

​اگر ہم گہرائی میں جا کر دیکھیں تو وقت کی بے قدری صرف ایک انفرادی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک پورے معاشرتی ڈھانچے کا المیہ بن چکا ہے۔ ہمارے ہاں تقریبات کا دیر سے شروع ہونا، دفتری امور میں تاخیری حربے استعمال کرنا اور ملاقاتوں کے طے شدہ وقت کی پاسداری نہ کرنا اب ایک عام سی بات سمجھا جاتا ہے۔ ہم نے اسے “روایت” کا نام دے کر اپنی سستی کو چھپانے کا ایک مستقل بہانہ تراش لیا ہے۔ جب ایک عام شہری سے لے کر اعلیٰ ترین سطح تک وقت کی اس طرح پامالی کی جائے، تو وہاں ترقی کی رفتار خود بخود سست ہو جاتی ہے۔ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے اپنی عدالتوں، اپنے اسکولوں اور اپنے کارخانوں میں سب سے پہلا نظم و ضبط وقت کا قائم کیا۔ وہاں ایک منٹ کی تاخیر کو ایک جرم کی طرح دیکھا جاتا ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ضائع شدہ منٹ کبھی لوٹ کر نہیں آتے۔

​چراغ تبھی روشن رہتا ہے جب اس میں باقاعدگی سے تیل ڈالا جائے اور اس کی لو کی حفاظت کی جائے۔ بالکل اسی طرح، کسی بھی سماج کی معاشی اور اخلاقی ترقی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ اس کے افراد اپنے آج کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ جب تک ہم وقت کی اس انمول دولت کو بے دردی سے لٹاتے رہیں گے اور اپنی ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالتے رہیں گے، تب تک ہم صرف دنیا کی کامیابیوں پر دور کھڑے ہو کر تالیاں بجانے کے قابل ہی رہ جائیں گے۔ تاریخ کا قلم بڑا بے رحم اور منصف ہوتا ہے؛ یہ ان کا نام سنہرے حروف میں لکھتا ہے جو وقت کی نبض پر ہاتھ رکھنا جانتے ہیں، جو صبح کی پہلی کرن کے ساتھ اپنے مقاصد کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں، اور یہ ان قوموں کو گمنامی کے اندھیروں میں دھکیل دیتا ہے جو صرف گھڑی کی سوئیاں دیکھ کر دن گزرنے کا انتظار کرتی ہیں۔

​ترقی کا راز بڑی بڑی تقریروں یا کاغذی منصوبوں میں نہیں، بلکہ اس خاموش عمل میں چھپا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر ہر فرد اپنے دائرہ کار میں سرانجام دیتا ہے۔ جب ایک استاد وقت پر کلاس میں پہنچتا ہے، جب ایک مزدور اپنے کام کے گھنٹوں دیانتداری سے پورے کرتا ہے، اور جب ایک دکاندار اپنے وقت کو گاہکوں کے ساتھ سچائی کی بنیاد پر استعمال کرتا ہے، تو وہ قوم ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو جاتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی بڑے معجزے کی امید میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا بذاتِ خود وقت کے ساتھ سب سے بڑا مذاق ہے۔

​آج سوچنے کی اصل بات یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی اسی پرانی ڈگر پر چلتے رہیں گے یا اپنے انفرادی اور اجتماعی رویوں میں وہ ٹھہراؤ، سنجیدگی اور نظم و ضبط لائیں گے جو ایک باوقار قوم کا حقیقی شیوہ ہوتی ہے؟ کیا ہم وقت کی اس لہر کے ساتھ بہتے چلے جائیں گے یا اس کا رخ موڑنے کی جرات کریں گے؟ فیصلہ کسی اور کا نہیں، ہمارا اپنا ہے، کیونکہ وقت کی بساط پر مہرے بڑی تیزی سے پلٹ رہے ہیں اور گزرتے ہوئے لمحے کسی کے لیے بھی اپنی رفتار سست نہیں کرتے۔ اگر آج بھی ہم نے بیداری کا ثبوت نہ دیا، تو آنے والی نسلیں ہماری سستی کا خمیازہ بھگتیں گی اور تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

تحریر: انزلہ صدیقی

انسانی معاشرے کی بنیاد جس بنیادی اینٹ پر رکھی گئی ہے، اسے ‘برداشت’ کہتے ہیں۔ کائنات کا پورا نظام ایک خاص توازن اور باہمی ہم آہنگی سے چل رہا ہے۔ درخت زمین سے جڑے ہیں، دریا اپنے راستوں پر رواں ہیں، اور رات دن کو راستہ دے رہی ہے۔ اس پورے نظام میں ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنے کا ایک خاموش معاہدہ موجود ہے۔ لیکن جب ہم انسانی معاشرت، اور بالخصوص اپنے سیاسی منظر نامے پر نگاہ ڈالتے ہیں، تو روح کانپ اٹھتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہم نے اختلافِ رائے کو ایک گناہِ کبیرہ بنا دیا ہے اور سیاست، جو کبھی نظریات کی جنگ اور عوامی خدمت کا ذریعہ ہوا کرتی تھی، اب محض ذاتی دشمنی اور انا کا اکھاڑا بن چکی ہے۔ سیاست میں برداشت کا یہ فقدان ہمارے پورے معاشرتی ڈھانچے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔

 

 

اگر ہم ماضی کے دریچوں میں جھانکیں، تو سیاست کا ایک انتہائی خوبصورت اور باوقار چہرہ سامنے آتا ہے۔ ایک ایسا دور بھی تھا جب سیاسی رہنما پارلیمنٹ کے اندر ایک دوسرے پر سخت ترین تنقید کرتے تھے، لیکن جیسے ہی ایوان سے باہر نکلتے، تو ایک دوسرے کے ساتھ چائے کی پیالی پر بیٹھ کر مسکراتے ہوئے گفتگو کرتے تھے۔ وہ نظریات کے مخالف تھے، ایک دوسرے کے وجود کے دشمن نہیں تھے۔ ان کا لہجہ تلخ ضرور ہوتا تھا، لیکن اس تلخی میں بھی ایک رکھ رکھاؤ، ایک تہذیب اور ایک ادبی چاشنی ہوا کرتی تھی۔ وہ لفظوں کا چناؤ اس طرح کرتے تھے کہ بات بھی پوری ہو جائے اور سامنے والے کی عزتِ نفس پر حرف بھی نہ آئے۔ مگر آج کا سیاسی منظر نامہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ اب گفتگو میں دلیل کی جگہ چیخ و پکار نے لے لی ہے ۔

 

 

کسی بھی معاشرے کی پختگی کا اندازہ اس بات سے نہیں لگایا جاتا کہ وہاں سب کی رائے ایک ہے، بلکہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہاں مختلف آراء کو کتنی عزت اور احترام کے ساتھ سنا جاتا ہے۔

 

 

برداشت کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ دوسرے کی بات سے اتفاق کریں۔ برداشت کا اصل مفہوم یہ ہے کہ آپ کو دوسرے کے اختلاف کرنے کے حق کو تسلیم کرنا ہوگا۔ جمہوریت کا حسن ہی اس بات میں ہے کہ یہاں ہر رنگ، ہر نسل اور ہر نظریے کے انسان کو اپنی آواز اٹھانے کا حق حاصل ہو۔ جب ہم سیاست سے اس حسن کو چھین لیتے ہیں، تو جمہوریت ایک ایسی آمریت کی شکل اختیار کر لیتی ہے جہاں صرف ایک ہی آواز کو درست مانا جاتا ہے۔ آج ہماری سیاست میں یہ چلن عام ہو چکا ہے کہ جو میرے ساتھ نہیں، وہ ملک کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا۔ یہ سوچ انتہائی خطرناک ہے، کیونکہ یہ معاشرے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتی ہے اور محبتوں کی جگہ نفرتوں کی دیواریں کھڑی کر دیتی ہے۔

 

 

اس پورے منظر نامے میں سوشل میڈیا نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ جہاں ٹیکنالوجی کو انسانوں کو قریب لانا چاہیے تھا، وہاں اس نے فاصلوں اور تلخیوں میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ آج ہر شخص اپنے ہاتھ میں ایک ورچوئل ہتھیار لیے بیٹھا ہے اور جیسے ہی کسی کی رائے اس کی پسند کے معیار پر پوری نہیں اترتی، وہ اس پر لفظی گولیوں کی بوچھاڑ کر دیتا ہے۔

 

 

نرم اور دھیمے لہجے کی طاقت ہمیشہ چنگھاڑنے والی آواز سے زیادہ ہوتی ہے۔ جب آپ دھیمے لہجے میں دلیل کے ساتھ بات کرتے ہیں، تو وہ سننے والے کے دل میں اترتی ہے۔ لیکن جب آپ چیخ کر اپنی بات منوانے کی کوشش کرتے ہیں، تو سامنے والا آپ کی بات سننے کے بجائے اپنے دفاع کی دیواریں اونچی کر لیتا ہے۔ ہماری سیاسی قیادت کو یہ سمجھنے کی سخت ضرورت ہے کہ ان کا ہر بول، ان کا ہر عمل اور ان کا ہر اشارہ لاکھوں انسانوں کے رویوں کی تشکیل کرتا ہے۔ اگر قیادت خود ٹی وی اسکرینوں پر بیٹھ کر غصے، نفرت اور عدم برداشت کا مظاہرہ کرے گی، تو گلی محلوں میں رہنے والے عام کارکن سے تہذیب کی امید کیسے رکھی جا سکتی ہے؟

 

 

سیاست میں برداشت کے اس فقدان نے ہماری نوجوان نسل کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ نوجوان، جو کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں، اب سیاست کو ایک تعمیری عمل کے بجائے ایک تخریبی کھیل سمجھنے لگے ہیں۔ ان کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ رہی ہے کہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے بدتمیزی، جارحیت اور دوسروں کو نیچا دکھانا ضروری ہے۔ یہ ایک ایسی فکری پستی ہے جس کے نتائج ہمیں آنے والی کئی دہائیوں تک بھگتنا پڑیں گے۔ اگر ہم نے اب بھی اپنے رویوں پر نظرِ ثانی نہ کی، تو ہم ایک ایسا معاشرہ بن جائیں گے جہاں امن و آشتی کا تصور صرف کتابوں تک محدود رہ جائے گا۔

 

 

 

اختلاف کا ہونا زندگی کی علامت ہے۔ اگر اس دنیا میں سب لوگ ایک ہی جیسا سوچنے لگیں، تو یہ کائنات بے رنگ اور بے جان ہو جائے۔ فکر کا یہ تنوع ہی انسانی ارتقاء کا ضامن ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سیاست میں مکالمے کی روایت کو دوبارہ زندہ کریں۔ مکالمہ وہ راستہ ہے جہاں دو مختلف سوچ کے حامل افراد ایک دوسرے کے سامنے بیٹھتے ہیں، اپنی بات کہتے ہیں اور دوسرے کی بات کو ٹھنڈے دل سے سنتے ہیں۔ مکالمے کا مقصد کسی کو ہرانا یا خود کو سچا ثابت کرنا نہیں ہوتا، بلکہ اس کا مقصد ایک درمیانی راستہ تلاش کرنا ہوتا ہے جہاں سب کا بھلا ہو۔

 

 

آئیے، ایک لمحے کے لیے رکیں اور سوچیں کہ ہم اپنے ملک کو کس سمت لے کر جا رہے ہیں۔ سیاست اقتدار کے حصول کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک امانت ہے جس کا مقصد عوام کی فلاح و بہبود ہے۔ جب تک ہماری سیاست میں رواداری، درگزر اور ایک دوسرے کے احترام کا جذبہ بیدار نہیں ہوگا، ہم ایک مہذب قوم نہیں بن سکتے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی دھارے اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک میز پر بیٹھیں اور یہ عہد کریں کہ وہ اپنے لہجوں میں نرمی، دلوں میں وسعت اور سیاست میں برداشت کو دوبارہ جگہ دیں گے۔

 

 

ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، اقتدار کے سورج طلوع اور غروب ہوتے رہتے ہیں، لیکن جو چیز باقی رہ جاتی ہے وہ انسان کا کردار اور اس کا رویہ ہے۔ اگر ہم نے سیاست کی اس جنگ میں اپنی اخلاقیات اور تہذیب کو کھو دیا، تو پھر حاصل ہونے والی کوئی بھی فتح دراصل ہماری سب سے بڑی شکست ہوگی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نفرتوں کے اس بازار کو بند کریں اور محبت، اخوت اور برداشت کے چراغ روشن کریں، تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ایک پرامن اور مہذب ماحول میں سانس لے سکیں۔

 

 

 

 

Written By :  Unzila Siddiqui

 

The sun is spitting fire, the streets are deserted, and even the birds are hiding. We used to say that changing seasons bring color to Pakistan. Now, they just bring dread. By the time June rolls around, it feels as if someone has opened the hatch of a blast furnace directly over our heads. You don’t need a thermometer to tell you this; the melting, shimmering asphalt on the roads of Lahore, Karachi, Sukkur, and Nawabshah is proof enough that we are standing on the edge of an annual disaster.

 

Every year, the headlines are splashed with terms like ‘heatwave’, ‘heatstroke’, and ‘heat exhaustion.’ But let’s be clear: these are not just medical jargon or dry statistics. They are the bloody, painful stories of human beings breathing their last in overcrowded emergency wards and filling up local mortuaries. It is a tragedy we witness every single year, weep over for a week, and promptly forget.

 

As a nation, we suffer from a strange blindness. Until the disaster knocks on our own front door, or until one of our own family members collapses, we treat it as “just another news story” and flip the page.

 

We complain bitterly when the mercury touches 45°C or 50°C, but we conveniently ignore our own guilt. In the name of progress and “modernization,” we have paved over our cities, turning them into concrete jungles. Where dense, shady trees once stood, we built housing societies and commercial plazas. We axed the trees, filled the canals with dirt, and now that the earth is baking, we sit in our air-conditioned rooms wondering why it’s so hot outside. This is nature’s whip, punishing us for our own greed. Climate change is no longer a textbook debate. It is standing on our doorstep, and it’s furious.

 

Every summer, doctors scream the same warnings into the void: learn the difference between heat exhaustion and heat stroke. It is quite literally a matter of life and death.

 

Heat exhaustion is your body’s final warning. When you work for hours in the blinding heat, losing water and salt through sweat, your head throbs, you get dizzy, and your body turns to lead. If you stop, move to the shade, and drink water or ORS, you survive. But if you keep pushing, you enter the kill zone: heat stroke. This is where your internal cooling system completely breaks down. You stop sweating. Your temperature shoots up past 104°F. Your brain short-circuits, and you collapse. At that point, you have minutes to live before your organs fail.

 

But as a columnist, I cannot look at this purely as a medical crisis. There is a dark, ugly class divide hidden behind this heatwave.

 

The sun is supposed to be the ultimate equalizer—it shines on everyone. But the reality on the ground is brutally unequal. For those privileged enough to sit inside insulated homes or offices, this weather is just an annoyance, a reason to complain about the electricity bill. But for those who earn their bread under the open sky, it is a daily battle for survival.

 

For those privileged enough to sit inside insulated homes or offices, this weather is just an annoyance. But for those who earn their bread under the open sky, it is a daily battle for survival.

 

The easiest targets for this scorching afternoon are the daily wage laborers, swinging heavy iron tools by the roadside just to feed their kids tonight. It targets the delivery riders, weaving through traffic on roads that feel like ovens, just so someone can get a hot meal delivered to a cold room. The security guard standing at attention in a thick uniform, the pushcart vendor, the laborers baking at brick kilns—these are the front-line soldiers of this disaster, and they are always the first to die.

 

Meanwhile, our administration does what it always does: nothing, until the bodies start piling up. Only when the hospitals are overflowing do the authorities scramble to hold “emergency meetings”—which are always too little, too late. To make matters worse, unannounced load-shedding becomes even more brutal in the peak of summer, and the lack of clean drinking water in poor neighborhoods remains a permanent curse.

 

But can the rest of us wash our hands of this? Do we have no moral backbone left? We spend thousands on superficial luxuries every day. Can we not put out a simple clay pot (matka) of cold water outside our gates for passersby and birds? Can we not tell our security guards, maids, and drivers to sit down and rest between noon and 4:00 PM? Humanity demands that we lighten their load, but our collective apathy has become far deadlier than the sun.

 

We need to stop treating this as a passing season. This heat is our permanent reality, and we have to fight it.

 

Our municipal corporate bodies need to stop issuing meaningless press releases and actually set up functional, fully equipped heatstroke centers in every hospital, stocked with ice, water, and emergency meds.

 

More than that, we have to look out for each other. Handing a glass of cold water to a sweating laborer or offering a patch of shade to someone who has none isn’t just charity—right now, it is the highest form of worship.

 

Until we realize that shade and clean water are fundamental human rights, and not luxuries reserved for the rich, these heatwaves will keep filling our graveyards. It is time to tear down the concrete and bring back the green. If we don’t act now to save our land and our poorest citizens, nature’s revenge next year will be even worse—and we won’t even have the time left to regret it.

تحریر: انزلہ صدیقی

 

 آگ برس رہا ہے، سڑکیں سنسان ہیں، اور پرندے بھی چھاؤں ڈھونڈ رہے ہیں ۔کہتے ہیں موسم بدلتے ہیں تو رنگ لاتے ہیں، مگر اب ہمارے ہاں موسم بدلتے ہیں تو رنگ نہیں، بلکہ خوف اور سنسنی لاتے ہیں۔ جون کا آغاز ہوتے ہی یوں لگتا ہے جیسے آسمان سے کسی نے آگ کی بھٹی کا منہ اس دھرتی کی طرف کھول دیا ہو۔ سورج سوا نیزے پر ہو یا نہ ہو، لیکن لاہور, کراچی، سکھر اور نوابشاہ کی سڑکوں پر پگھلتا ہوا لک لکاتا ڈامر (کولتار) اور اڑتی ہوئی لو یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ ہم کسی قدرتی آفت کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ یہ جو ہر سال مئی اور جون کے مہینوں میں اخبارات کی سرخیوں میں ’ہیٹ ویو‘، ’ہیٹ سٹروک‘ اور ’ہیٹ ایگزاسشن‘ جیسے بھاری بھرکم انگریزی الفاظ جلی حروف میں چھپتے ہیں نا، یہ محض طبی اصطلاحات یا خشک سائنسی اعداد و شمار نہیں ہیں۔ یہ ہمارے اردگرد جیتے جاگتے انسانوں کی بے بسی، سسکتی سانسوں، ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز کی افراتفری اور سرد خانوں میں گرتی لاشوں کی وہ دردناک داستانیں ہیں جنہیں ہم ہر سال دیکھتے ہیں، روتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں۔

 

 

ہم بحیثیت قوم بھی عجیب المیے کا شکار ہیں۔ جب تک کوئی آفت ہمارے اپنے گھر کا دروازہ نہ کھٹکھٹا دے، جب تک ہمارا اپنا کوئی پیارا اس کی زد میں نہ آ جائے، ہم اسے ’صرف ایک خبر‘ سمجھتے ہیں اور صفحہ پلٹ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ پچھلے چند سالوں سے مئی اور جون کے مہینے پچھلے سارے ریکارڈ توڑ رہے ہیں۔ درجہ حرارت جب 45 اور 50 ڈگری کو چھونے لگتا ہے تو ہم ہائے وائے مچاتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ اس تپش کو دعوت دینے میں ہمارا اپنا کتنا ہاتھ ہے۔ ہم نے ترقی اور جدیدیت کے نام پر اپنے شہروں کو کنکریٹ اور سیمنٹ کا جنگل بنا دیا۔ جہاں گھنے اور سائے دار درخت ہوا کرتے تھے، وہاں ہم نے بڑی بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیاں اور کمرشل پلازے کھڑے کر دیے۔ درخت بے دردی سے کاٹے گئے، نہریں اور تالاب مٹی سے بھر دیے گئے، اور اب جب زمین تپ رہی ہے تو ہم ائیر کنڈیشنر کی ٹھنڈک میں بیٹھ کر سائے تلاش کر رہے ہیں۔ یہ قدرت کا وہ تازیانہ ہے جو ہمیں ہمارے ہی کیے کی سزا دے رہا ہے۔ Global Warming یا موسمیاتی تبدیلی اب کوئی کتابی بحث نہیں رہی، یہ ہمارے دروازے پر کھڑی ایک تلخ حقیقت ہے۔

 

 

طبی ماہرین ہر سال چیخ چیخ کر تھک جاتے ہیں کہ بھائی! ہیٹ ویو کے دوران اپنے جسم کے نظام کو سمجھو۔ ’ہیٹ ایگزاسشن‘ اور ’ہیٹ سٹروک‘ میں ایک واضح فرق ہے جسے جاننا ہر شہری کے لیے زندگی اور موت کا سوال بن سکتا ہے۔ جب شدید گرمی میں انسان مسلسل کام کرتا ہے اور اس کے جسم کا پانی اور نمکیات پسینے کے راستے ختم ہونے لگتے ہیں، تو سر میں شدید درد، چکر آنا، متلی، کمزوری اور جسم نڈھال ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ ’ہیٹ ایگزاسشن‘ ہے—یعنی آپ کے جسم کا آخری انتباہ (Warning Sign) کہ بس اب رک جاؤ۔ اگر اس موڑ پر انسان خود کو نہ سنبھالے، کسی ٹھنڈی یا سائے دار جگہ پر نہ جائے، اور فوری طور پر او آر ایس یا نمکول کا پانی نہ پیے، تو معاملہ اگلی ہولناک سٹیج پر چلا جاتا ہے جسے ہم ’ہیٹ سٹروک‘ کہتے ہیں۔ اور ہیٹ سٹروک کوئی ملاحظہ یا مذاق نہیں ہے۔ یہ وہ جان لیوا حالت ہے جہاں انسانی جسم کا اپنا قدرتی کولنگ سسٹم مکمل طور پر فیل ہو جاتا ہے۔ پسینہ آنا بند ہو جاتا ہے، جسم کا درجہ حرارت 104 یا 105 ڈگری تک پہنچ جاتا ہے، دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور انسان بے ہوش ہو کر گر پڑتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں زندگی اور موت کے درمیان فاصلہ چند منٹوں کا رہ جاتا ہے، اور اگر فوری طبی امداد نہ ملے تو اعضاء ناکارہ ہو جاتے ہیں۔

 

لیکن یہاں ایک کالم نگار کی حیثیت سے مجھے اس معاشرتی اور طبقاتی فرق (Social Inequality) کا اعتراف کرنا ہے جو اس ہیٹ ویو کے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ گرمی تو سب کے لیے برابر ہونی چاہیے تھی، کیونکہ سورج تو سب پر یکساں چمکتا ہے، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس ہیٹ ویو کا اثر ہر ایک پر یکساں نہیں ہوتا۔ جو لوگ اپنے گھروں یا دفاتر کی چھت تلے محفوظ ہیں، ان کے لیے یہ موسم صرف ایک سفری کوفت یا عام سی پریشانی ہے، لیکن جن کا روزگار ہی کھلے آسمان تلے ہے، ان کے لیے یہ ایک کڑی آزمائش بن جاتا ہے۔ شدید گرمی کی یہ لہر ان لوگوں کے لیے تو شاید اتنی مہلک نہ ہو جنہیں سائے اور چار دیواری کی سہولت میسر ہے، لیکن ہمارے معاشرے کا وہ طبقہ جو شدید دھوپ میں باہر نکلنے پر مجبور ہے، وہ اس کا سب سے پہلا شکار بنتا ہے۔ اس تپتی دوپہر کا پہلا اور سب سے آسان نشانہ وہ دہاڑی دار مزدور ہے جو اپنے بچوں کے دو وقت کے چولہے کے لیے سڑک کنارے لوہے کے اوزار اور بیلچہ چلا رہا ہوتا ہے۔ اس کا نشانہ وہ بائیک رائیڈر ہے جو کسی کے گھر پیزا یا پارسل پہنچانے کے لیے تندور بنی سڑکوں پر خوار ہو رہا ہوتا ہے۔

 

ٹریفک سگنل پر کھڑا سکیورٹی گارڈ، ریڑھی بان، اور بھٹے پر کام کرنے والے مزدور اس آفت کے ہراول دستے ہیں جنہیں موت سب سے پہلے اپنی آغوش میں لیتی ہے۔

ہمارے انتظامی ڈھانچے کا روایتی المیہ یہ رہا ہے کہ ہم ہمیشہ پیش بندی کے بجائے حادثہ گزر جانے کے بعد اقدامات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ جب حالات قابو سے باہر ہونے لگتے ہیں اور ہسپتالوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے، تب جا کر ہنگامی اقدامات کا فیصلہ کیا جاتا ہے، جو کہ تلافی کے لیے کافی نہیں ہوتا۔ لوڈ شیڈنگ کا جن اس شدید گرمی میں مزید بے لگام ہو جاتا ہے، غریب بستیوں میں پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی ایک مستقل عذاب بن چکی ہے۔ اس سنگین صورتحال میں متعلقہ اداروں کی منصوبہ بندی اور ترجیحات کا فقدان واضح طور پر محسوس ہوتا ہے، جس پر اب سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن کیا بحیثیت معاشرہ ہم بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟ کیا ہماری کوئی اخلاقی ذمہ داری نہیں بنتی؟ ہم جو روزانہ لاکھوں روپے فضول کاموں میں اڑا دیتے ہیں، کیا ہم اپنے گھروں اور دکانوں کے باہر راہگیروں اور پرندوں کے لیے پانی کا ایک مٹکا یا ٹینک نہیں رکھ سکتے؟ کیا ہم اپنے ماتحت کام کرنے والے ملازمین، چوکیداروں اور مزدوروں کو دوپہر بارہ سے چار بجے کے درمیان کام سے تھوڑا سا آرام نہیں دے سکتے؟ انسانیت تو یہ کہتی ہے کہ اس موسم میں ان کا بوجھ ہلکا کیا جائے، مگر افسوس کہ ہماری بے حسی موسم کی شدت سے زیادہ مہلک ہو چکی ہے۔

 

خدارا! اس ہیٹ ویو کو معمولی مت سمجھیں۔ جب تک بہت زیادہ مجبوری نہ ہو، دوپہر کے وقت گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں۔ پانی کا استعمال اس حد تک کریں کہ پیاس نہ بھی ہو تو بھی چند گھونٹ پی لیں۔ اپنے بچوں اور بزرگوں کا خاص خیال رکھیں کیونکہ ان کا مدافعت کا نظام اس سختی کو برداشت نہیں کر پاتا۔ پیاس بجھانے کے لیے چائے یا کیفین والے مشروبات کے بجائے لسی, لیموں پانی اور ستو کا استعمال کریں۔

موسمِ گرما کی یہ شدت اب کوئی عارضی آفت نہیں بلکہ ہماری سالانہ حقیقت بن چکی ہے۔ ہمیں اب اس کے ساتھ جینا اور اس سے لڑنا سیکھنا ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انتظامیہ صرف کاغذی کارروائیوں یا نمائشی اقدامات کے بجائے ہسپتالوں میں عملی طور پر ایسے فعال ’ہیٹ سٹروک سینٹرز‘ قائم کرے جہاں ادویات، پانی اور برف کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ لیکن سب سے بڑھ کر، ہمیں ایک دوسرے کا سہارا بننا ہوگا۔ اس تپتے ہوئے موسم میں کسی پیاسے کو پانی کا ایک گلاس پلا دینا، کسی سائے سے محروم انسان کو چند لمحوں کی چھاؤں فراہم کر دینا، اس وقت دنیا کی سب سے بڑی عبادت ہے۔ اگر ہم اب بھی نہ جاگے، اگر ہم نے اپنی زمین اور اپنے غریب انسانوں پر رحم نہ کھایا، تو یاد رکھیے کہ قدرت کا یہ انتقام اگلی بار اس سے بھی زیادہ ہولناک ہوگا، اور پھر پچھتاوے کے لیے ہمارے پاس وقت بھی نہیں بچے گا۔

جب تک ہم یہ نہیں سمجھیں گے کہ سایہ اور ٹھنڈا پانی کسی تعیش کا نام نہیں بلکہ شہریوں کا بنیادی حق ہے، تب تک گرمی کی یہ لہریں ہمارے ہسپتالوں کو لاشوں سے بھرتی رہیں گی۔ اب وقت ہے کہ ہم کنکریٹ کے جنگلوں کو دوبارہ سبزہ زاروں میں تبدیل کریں۔ گرمی کا یہ عذاب صرف قدرت کی طرف سے نہیں، بلکہ درختوں کی بے رحمی سے کٹائی اور ہماری اپنی غفلت کا نتیجہ بھی ہے۔ لیکن بحیثیتِ شہری، ہمارا فرض ہے کہ ہم اس موسم میں اپنا اور اپنے آس پاس کے لوگوں کا خیال رکھیں۔ یاد رکھیں، آپ کی تھوڑی سی توجہ اور صحیح معلومات کسی کی زندگی بچا سکتی ہے۔

تحریر: انزلہ صدیقی

آج کے دور میں جہاں ٹیکنالوجی کی اہمیت و افادیت ہے اور اب ہماری ضرورت بھی بن چکی ہے، اس کا اثر ہماری زندگی میں بہت حائل ہو چکا ہے۔ گزشتہ چند سال قبل ٹی وی اسکرین پر ایک آئس کریم کا اشتہار نظر سے گزرا تھا۔ آج وہی اشتہار اپنی آنکھوں سے سچ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

​کل ہی کا واقعہ ہے۔ ڈائننگ ٹیبل (dining table) پر کھانا لگایا جا رہا تھا۔ سب کو اپنے اپنے کمروں سے آوازیں دے کر بلایا گیا۔ ہر فرد اپنے کمرے سے نکلا، ہاتھ میں موبائل فون تھام رکھا تھا۔ کچن سے ڈائننگ ٹیبل اور پورے کمرے میں کھانے کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ لیکن کھانے کی ٹیبل پر عجیب خاموشی تھی۔ گھر کا ہر فرد سر جھکائے بیٹھا ہوا تھا، آپس میں بات چیت کے بجائے ہاتھوں میں اسمارٹ فون تھام رکھا تھا، انگلیاں موبائل پر ٹک ٹک چل رہی تھیں، سر جھکائے آنکھیں موبائل فون پر ٹکائے بیٹھے ہوئے تھے اور کسی نے کانوں میں ایئر پوڈز لگائے ہوئے تھے۔ حتیٰ کہ خاموشی اتنی گہری تھی کہ ایک دوسرے کی موجودگی کا بھی پتہ نہیں چل رہا تھا۔ ایک ہی چھت کے نیچے ہو کر بھی ایک دوسرے کے لیے انجان ہو چکے تھے۔

​ٹیکنالوجی نے میلوں دور کے فاصلوں پر ہمیں جوڑا تو ہے لیکن رشتوں کی کوالٹی، اہمیت و وقت ختم کر دیا ہے۔ گھر میں رونق، ساتھ مل کے بیٹھنا اور بیٹھک میں باتوں کی گونج اب سنائی نہیں دیتی۔ قریب ہو کر بھی میلوں کی دوری ہے۔ آج بظاہر سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی نے ہمیں جوڑا تو ہے لیکن ہمیں اپنے ساتھ بیٹھے والدین، بہن بھائیوں سے ناآشنا کر دیا ہے۔ جہاں آج کے دور میں وائی فائی کے سگنل مضبوط ہوئے اور ہم میلوں دور بیٹھے لوگوں کی پوسٹ کو دھیان سے پڑھ رہے ہیں اور ان کی اسٹوریز کو لائیک (like) اور کمنٹ (comments) کر رہے ہیں، وہیں دلوں کے سگنل کمزور ہو گئے ہیں۔ اپنے ساتھ رہنے والے گھر کے افراد اور والدین کو وقت و اہمیت نہیں دیتے اور بچوں پر توجہ نہیں دیتے۔ وہیں پیچیدہ مسائل جنم لیتے ہیں اور گھریلو جھگڑوں کو جگہ ملتی ہے۔

​جہاں موبائل فون کے اتنے فائدے ہیں، وہیں اس کے نقصانات بھی ہماری زندگیوں میں مائل ہو گئے ہیں۔ موبائل فون ہاتھ میں ہو تو ہماری نیندیں غائب ہو جاتی ہیں۔ ذاتی زندگی میں اس کا اثر بہت گہرا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایک گھر میں رہتے ہوئے کال پر گفتگو ہوتی ہے۔ شوہر و بیوی کے درمیان بات چیت کی جگہ اب واٹس ایپ (WhatsApp) اسٹیٹس نے لے لی ہے۔ بزرگوں کی بات نہیں سنی جاتی، بچوں کی پرورش پر توجہ نہیں۔ جب بچے اپنے سامنے والدین کو موبائل فون استعمال کرتے دیکھتے ہیں اور اپنے پیرنٹس (parents) سے اگنور ہوتے ہیں، تو توجہ نہ ملنے کی صورت میں وہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کے باعث ان کا ذہن کمزور ہوتا ہے اور اس سے ان کی پرسنیلٹی (personality) پر اثر پڑتا ہے، جس کے باعث وہ چڑچڑاپن کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔

​سوشل میڈیا پر ہم اپنی خوشیاں تو دکھاتے ہیں مگر اصل زندگی میں ہم اکیلے پن اور تنہائی (loneliness) کا شکار ہیں۔ ایک دوسرے سے برتری حاصل کرنے کی دوڑ میں اور سوشل میڈیا پر اسٹیٹس اپ لوڈ کرنے کے چکر میں ہم نے اپنے آپ کو اس کا غلام بنا لیا ہے۔ اس کے باعث آج اپنے آپ کو ہم نے خود ذہنی دباؤ میں ڈال دیا ہے اور بچوں کی بدتمیزی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

​ہمیں تھوڑا ڈیجیٹل ڈیٹوکس (digital detox) کی ضرورت ہے۔ اپنے آپ کو بہتر بنانے کے لیے اپنے اوپر توجہ دینی ہوگی اور اپنے گھر کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے اپنے اردگرد کے لوگوں کو وقت دینا ہوگا۔ ہر چیز کو بیلنس میں رکھنا ضروری ہے۔ کھانے کی ٹیبل پر موبائل فون استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اپنے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرنی چاہیے۔ قریبی ساتھیوں کے حال اور احوال معلوم کرنے کے لیے ان سے ملنا چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو لائیکس بٹورنے کے چکر میں ہم اپنی اصل زندگی کی محبتیں کھو بیٹھیں۔ بہتر مستقبل کے لیے بہترین ماحول کا ہونا لازمی ہے، اس کی شروعات مجھے، آپ کو، ہم سب کو کرنی ہوگی۔

“کیسی اداسی ہے کہ الفاظ بھی خاموش ہیں،

رشتے بھی ادھورے اور احساس بھی خاموش ہیں”

کالم : فرید رزاقی
صدر، پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ اینڈ کری ایٹرز

کبھی کبھی قومیں لفظوں سے نہیں بلکہ تصویروں، رنگوں اور احساسات سے بولتی ہیں۔ “معرکۂ حق” کی تصویری نمائش بھی کچھ ایسی ہی ایک خاموش مگر طاقتور گفتگو تھی جس نے لاہور کے پلاک ہال کو صرف ایک نمائش گاہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے قومی جذبے اور فکری بیداری کا مرکز بنا دیا۔ بطور صدر پی ایف یو سی میرے لیے یہ لمحہ بے حد باعثِ فخر تھا کہ ہم نے اس قومی جذبے اور تخلیقی اظہار سے بھرپور پروگرام کو نہ صرف ترتیب دیا بلکہ اسے ایک ایسی صورت دی جو فن، صحافت اور حب الوطنی کے حسین امتزاج کی عکاس بن گئی۔
یہ محض ایک تقریب نہیں تھی، بلکہ ایک احساس تھا جو دیواروں پر آویزاں تصویروں سے جھلک رہا تھا۔ وہ تصویریں جو صرف رنگوں کا کھیل نہیں بلکہ ایک ایسے عزم کی کہانی تھیں جس نے یہ ثابت کیا کہ پاکستان آج بھی اپنے دفاع، وقار اور خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرتا۔
اس نمائش کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ تھی کہ یہاں صرف ماضی نہیں دکھایا گیا بلکہ ایک ایسا حال بھی پیش کیا گیا جو قوم کو اس کی اصل طاقت یاد دلاتا ہے۔ طلبہ و طالبات کے فن پاروں میں کہیں حوصلہ تھا، کہیں عزم، کہیں قربانی کا جذبہ اور کہیں وہ غیر متزلزل یقین جو پاکستانی قوم کی شناخت ہے۔
تقریب کا افتتاح اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کیا، جن کی گفتگو میں ریاستی وقار اور قومی اعتماد کی جھلک نمایاں تھی۔ ان کے ہمراہ صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات، چیئرمین دی یونیورسٹی آف لاہور اویس رؤف، چئیرمین آرار گروپ ہمایوں سرور، سی ای او چیزیئس فوڈز عمران اعجاز، چیئرمین چیلتن گروپ نجم مزاری، رحمان عزیز خان ، ممبر قومی اسمبلی محترمہ شمائلہ رانا نے بھی نمائش کا دورہ کیا اس موقع پر جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ ایک کم عمر آرٹسٹ جس کی اس مصوری مقابلے میں دوسری پوزیشن آئی ہے اس کے گردوں کا ڈائیلیسز چل رہا ہے انہوں ے فی الفور احکامات جاری کرتے ہوئے اس بچے کے تمام تر علاج کی ذمہ داری خود لینے کا اعلان کیا۔

تقریب میں دفاعی امور کے ماہرین بریگیڈیئر نادر میر، بریگیڈیئر سید غضنفر علی، بریگیڈیئر شاہد، بریگیڈیئر ٹیپو کریم اور کرنل شاہد حسین کی شرکت نے اس قومی مکالمے کو مزید وقار، سنجیدگی اور دفاعی بصیرت عطا کی، جن کی موجودگی وطنِ عزیز کے دفاعی پہلوؤں سے وابستہ فکری مضبوطی کی عکاس تھی۔
بلال احمد بٹ ، ڈاکٹر طارق شیرف زادہ سیرت اسکالر، غلام علی بیویو کریٹ اداکار راشد محمود اور دیگر معزز شخصیات کی موجودگی نے اس بات کو مزید مضبوط کیا کہ یہ نمائش صرف آرٹ نہیں بلکہ قومی سوچ کی نمائندگی ہے۔
یہاں صحافت بھی موجود تھی، سیاست بھی، فن بھی اور ریاستی اداروں کا اعتماد بھی۔ سلمان غنی، ایثار رانا ،عبدالمجید ساجد، صفدر علی خان،مصطفے کمال پاشا، میاں سیف الرحمان ، جیسے صحافیوں کی موجودگی اس بات کی علامت تھی کہ سچائی اور قومی بیانیہ آج بھی ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ جبکہ حسن مرتضیٰ، جواد احمد اور دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے اس بات کو اجاگر کیا کہ اختلافات اپنی جگہ، مگر وطن کی بات پر سب ایک ہیں۔


سب سے زیادہ متاثر کن لمحہ وہ تھا جب نوجوان فنکاروں نے اپنے فن پارے پیش کیے۔ یہ صرف پینٹنگز نہیں تھیں، بلکہ ایک نسل کا اپنے وطن سے مکالمہ تھا۔ ایک ایسا مکالمہ جس میں فخر بھی تھا اور امید بھی۔
مصوری مقابلے میں شریک تمام فنکاروں کو اعزازات سے نوازا گیا، جبکہ پہلی تین پوزیشن حاصل کرنے والوں کے لیے کیش انعامات نے ان کی محنت کو ایک عملی پذیرائی دی۔ مگر اصل انعام وہ حوصلہ تھا جو ہر شریک کو ملا۔
اس پورے تخلیقی سفر میں ججز میڈیم صائمہ، مس افق جاوید، علی حمزہ اور عمران صاحب کا کردار انتہائی اہم تھا۔ ان کی فنی رہنمائی اور منصفانہ فیصلہ سازی نے اس مقابلے کو وقار عطا کیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہ نمائش صرف فنکاروں کی نہیں بلکہ ایک فکری تربیت بھی تھی تو غلط نہ ہوگا۔
اسی طرح عمران احمد کاڈیہ کی انتظامی محنت اس پروگرام کی ریڑھ کی ہڈی تھی۔ وہ خاموشی سے، مگر مسلسل، اس پورے نظام کو جوڑنے میں مصروف رہے جہاں ہر چیز اپنے وقت اور اپنے انداز میں مکمل نظر آئی۔
اور پھر وہ لمحہ جب یہ سب کچھ ایک ہی احساس میں سمٹ آیا، کہ پاکستان صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک زندہ نظریہ ہے۔ چیئرمین پی ایف یو سی فرخ شہباز وڑائچ نے بجا کہا کہ آج کا پاکستان دنیا کے سامنے ایک نئے اعتماد، نئے تشخص اور نئی پہچان کے ساتھ کھڑا ہے۔ جناب چیئرمین فرخ شہاز وڑائچ نے اس نمائش کو ممکن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ان کا تہہ دل سے شکریہ۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ ایسی تقریبات صرف ایونٹس نہیں ہوتیں، یہ یاد دہانیاں ہوتی ہیں۔ ہمیں یہ یاد دلاتی ہیں کہ قومیں صرف فوج یا سیاست سے نہیں بنتیں، بلکہ قلم، فن، نوجوانوں کے خواب اور اجتماعی شعور سے بنتی ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آرگنائزنگ کمیٹی کے آراکین محمد نور الہدیٰ،عبالماجد ملک ، اظہر تھراج ، ساجد خان، وقار اسلم، فرحان خان، سعدیہ خالد، نے جس عزم، نظم اور خلوص کے ساتھ اس پورے پروگرام کو ممکن بنایا، وہ اپنی جگہ ایک الگ کہانی ہے۔ ان کا یہ اجتماعی کردار اس بات کی دلیل ہے کہ جب نیت قومی ہو تو کام خود راستہ بنا لیتا ہے۔
معرکۂ حق کی یہ نمائش دراصل ایک دن کی سرگرمی نہیں تھی، یہ ایک سوچ تھی جو یہ کہہ رہی تھی کہ پاکستان صرف نقشے پر ایک خطہ نہیں، بلکہ دلوں میں بسنے والا ایک یقین ہے۔

By Unzila Siddiqui

​History often proves that when arrogance drives a state’s narrative, the truth is the first casualty. In the aftermath of the Falgham incident, we witnessed a display of political theater that was as swift as it was baseless. Within a mere ten minutes—before any investigation could have reasonably begun—the Modi government filed an FIR against Pakistan. It was a calculated move, using a tragic event as a pawn in a larger, more dangerous game.

​But as the dust settled, the narrative began to crumble from within. Even in Jammu and Kashmir, and across various circles in the Indian media, the public began to ask the questions that the authorities were desperate to avoid. Where were the security forces at the hour of the attack? Why were the CCTV cameras conveniently inactive? And how did the attackers manage to escape from a high-security zone without a trace? The lack of answers spoke louder than the accusations themselves.

​As the Indian government doubled down on its tough stance, regional tensions spiked. Amidst the fog of “Operation Sandur”—conducted in the silence of the night—and a flood of conflicting reports on Indian news channels, the atmosphere grew heavy with the threat of escalation.

​It was in this moment of heightened risk that the Pakistan Armed Forces took a definitive stand. Their message was simple: sovereignty is non-negotiable.

​This resolve gave birth to Operation Bunyan al-Marsus. The name is profoundly symbolic, translating to “The Leaden Wall.” It describes a force so united, so tightly knit, that no gap exists for an enemy to exploit. But the true “Leaden Wall” wasn’t just the military hardware; it was the people of Pakistan.

​In an extraordinary display of national character, the entire nation stood shoulder-to-shoulder with its defenders. This wasn’t just a military operation; it was a revival of the national spirit. Our forces met the crisis with courage, wisdom, and an unwavering perseverance that eventually paved the way for de-escalation and a tentative return to peace.

​The lesson of this episode remains etched in our history: the real power of a nation is not found in aggressive rhetoric, but in the unity, tolerance, and cohesion of its people. When a nation stands as a single, undivided force, it becomes invincible.

تحریر: انزلہ صدیقی

غرور اور تکبر سے بھرپور مودی سرکار نے پھلگھم میں ہونے والے حملے کو موہرا بنا کر پاکستان کے خلاف محض 10 منٹ میں ایف آئی آر درج کروائی۔ اس کے بعد بھارتی میڈیا، جموں و کشمیر اور اطراف کے مختلف حلقوں میں بھارتی ریاست کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے۔ عوامی سطح پر یہ سوال کیا جا رہا تھا کہ حملے کے وقت سیکیورٹی فورسز کہاں تھیں؟ سی سی ٹی وی کیمرے کیوں غیر فعال تھے؟ اور حملہ آور کس طرح کارروائی کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوئے؟

چونکہ بھارتی حکومت نے پاکستان پر الزامات عائد کرتے ہوئے سخت مؤقف اختیار کیا، اس کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ پھلگھم واقعے کو بنیاد بنا کر بھارت کی جانب سے مختلف عسکری اور سیاسی اقدامات کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

اس کے بعد بھارتی میڈیا پر متضاد اور غیر مصدقہ خبریں نشر کی جاتی رہیں، جنہیں بعض حلقوں میں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

اس پورے تناظر میں “آپریشن سندور” کا ذکر بھی سامنے آیا، جس کے دوران رات کی تاریکی میں کارروائی کی اطلاعات سامنے آئیں۔

ارشادِ باری تعالیٰ:

وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ

“اور اللہ کی راہ میں ان سے جنگ کرو جو تم سے لڑتے ہیں اور حد سے نہ بڑھو، بے شک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔”

اور ایک مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ

“اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ ہی کا ہو جائے۔”

اس صورتحال کے دوران پاکستان کی مسلح افواج نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ اگر ملک پر حملہ ہوا تو بھرپور دفاع کیا جائے گا۔

اسی تناظر میں “آپریشن بنیان المرصوص” کا آغاز کیا گیا، جس کا تصور اتحاد، استقامت اور مضبوطی کی علامت ہے۔ “بنیان المرصوص” کا مطلب سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے، یعنی ایک ایسی متحد قوت جو دشمن کے مقابلے میں مضبوطی سے کھڑی ہو۔

قرآنِ مجید میں سورۃ الصف میں ارشاد ہوتا ہے:

اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِيْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ

ترجمہ: بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت فرماتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔

اس موقع پر پوری پاکستانی قوم یکجہتی کے ساتھ اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی رہی۔ دفاعِ وطن کے جذبے نے قوم کو ایک لڑی میں پرو دیا۔

پاکستانی افواج نے جرات، حکمت اور استقامت کے ساتھ صورتحال کا سامنا کیا، جبکہ ملک میں قومی یکجہتی کا جذبہ مزید مضبوط ہوا۔

بعد ازاں صورتحال میں کشیدگی کم کرنے اور امن کی طرف پیش رفت کے اشارے بھی سامنے آئے۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَإِن جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ

“اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو آپ بھی اس کی طرف مائل ہو جائیں اور اللہ پر بھروسہ کریں۔”

اس پورے منظرنامے سے یہ سبق ملتا ہے کہ اتحاد، برداشت اور قومی یکجہتی ہی کسی بھی قوم کی اصل طاقت ہے۔

علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا:

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

پاکستان زندہ باد۔

تحریر: ندیم ناداں

 

*ترجمہ*
:*بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں جیسے سیسا پلائی ہوئی دیوار۔*
پاکستان 14 اگست 1947 کو جب دنیا کے نقشے پر ابھر کر سامنے آیا تو دنیا کو یہ ہر گز گوارا نہ تھا کہ مسلمانوں کی کوئی آزاد ریاست ہو جہاں مسلمان اپنے عقائد، مذہب کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔ہندوستان نے بے حد کوشش کی کے پاکستان اس دنیا کے نقشے پر موجود نہ رہے انہوں نے پاکستان بننے سے پہلے بھی انگریزوں کے ساتھ ملکر مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہا کی جس کے نتیجے میں مسلمانوں نے اپنے لئے الگ ملک کی جدوجہد کی اور اللہ کی مدد کے ساتھ قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ملک *پاکستان* بن گیا اور آج پوری دنیا کے لئے مرکزی کردار کی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور اب دنیا کے طاقتور ممالک جو کبھی پاکستان کو ماننے کو تیار تک نہیں تھے آج وہ پاکستان کے علاوہ کسی پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔
ترجمہ: *اوربے شک اللہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے زلت*
پاکستان جب سے معرض وجود میں آیا اسے ختم کرنے کے لئے سازشیں شروع کر دی گئیں اور ہندوستان نے اپنی ہر ممکن کوشش کی کے کسی طرح پاکستان کو دنیا کے نقشے سے مٹا دیا جائے ۔1965 کی جنگ ہو یا پھر 1971 کی جنگ ،کارگل ہو ابھی 2025 میں مئی کے مہینے ہونے والی کوشش الحمدللہ ہندوستان کو ہر جگہ ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اور اللہ کی مدد کے ساتھ پاکستان سرخر و ہوا ۔ 1965 میں دسمبر کے مہینے کا انتخاب کیا گیا اور اس ارادے سے پاکستان پر حملہ کیا گیا کے صبح کا ناشتہ لاہور جم خانہ کلب میں ہوگا ۔مگر خدا کی شان کے 1965 سے لیکر آج تک ہندوستان صرف خواب ہی دیکھتا رہا اور انشاءاللہ یہ اس کا خواب ہی رہے گا۔
2025 مئی کے مہینے سے پہلے پاکستان کی معیشت تنزلی کا شکار تھی ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا اکثر لوگ تو اسے دیوالیہ قرار دے چکے تھے۔ملک میں ہر طرف نفسا نفسی کا عالم تھا ،دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری تھی ،ہر طرف غیر یقینی کی سی صورت حال تھی یعنی کہا جاسکتا ہے ملک پاکستان بے شمار مشکلات کا شکار تھا۔ ہندوستان اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا وہ ہر ممکن کوشش کر رہا تھا کہ پاکستان کو عالمی دنیا میں بلکل تنہا کر دیا جائے اور پھر اپنے ناپاک عزائم جو کہ قیام پاکستان سے تھے وہ انہیں عملی جامہ پہنائے اور پاکستان کو دنیا کے نقشے سے مٹا دے ۔مگر کہاوت ہے نہ کہ!
*جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔*
مکار دشمن کہاں بعض آتا ہے جب اسے 1965 اور 1971 میں اپنے مقاصد حاصل نہیں ہوسکے تو وہ نئ تدبیریں کرنے لگا اور دوبارہ سے خود کو پاکستان کے خلاف کاروائی کے لئے منظم کرنے لگا اور کئی مرتبہ کوشش کی گئ کے جھوٹے واقعات کو بنیاد بنا کر پاکستان پر حملہ کیا جائے۔
مئی 2025 میں پہلگام واقع کروا کر پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ شروع کیا گیا پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوری دنیا کے سامنے ہندوستان کو آزاد تحقیقات کی پیشکش کی گئی مگر ہندوستان اس بات کو جانتا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے یہی وجہ ہے وہ اس پیش کش کو قبول کرنے سی انکار کرتا رہا کیونکہ وہ یہ جانتا تھا کہ یہ انکی سوچی سمجھی منصوبہ بندی کا حصہ ہے جس کا مقصد صرف اور صرف پاکستان پر حملہ کرنا اور دنیا کی نظر میں دہشت گرد ملک قرار دلوا کر عالمی دنیا میں تنہا کرنا تھا۔ہندوستان کی حکومت اور فوج مسلسل بدمعاشی کا مظاہرہ کر رہی تھی اور پاکستانی حکومت اور فوج مسلسل تحمل اور صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے شفاف تحقیقات پر زور دے رہی تھی مگر ہندوستان کا ارادہ کچھ اور تھا وہ تو اپنے ناپاک عزائم کو پورا کرنا چاہتا تھا جس کے لئے وہ ماضی میں متعدد بار کوشش کے باوجود ناکام رہا۔
6مئ کی رات تھی رمضان المبارک کا مہینہ تھا عوام نے حسب معمول 6 مئی کو افطاری کی اور اسی طرح مساجد میں تراویح کی نماز ادا کی گئ ۔مگر پھر اچانک رات کو 2بجے کے قریب ہندوستان کی فضائیہ نے لاہور مریدکے میں پہلا حملہ کرتے ہوئے مسجد اور مدرسے کو نشانہ بنایا جہاں مسلمان نہتے بچے اور بچیاں تعلیم حاصل کررہے تھے اور انہیں شہید کیا گیا اس کے بعد مختلف مقامات پر فضائی حملے کئے گئے۔پاکستانی فوج اور حکومت ابھی بھی ہمت اور صبر کا مظاہرہ کررہی تھی اور چاہتی تھی کے خطے کا امن و سکون برباد نہ ہو مگر ہمارے اس رویے کو دشمن نے کمزوری سمجھا اور مسلسل نہتی عوام اور مساجد پر حملے جاری رکھے ۔پاکستان اب تک صرف دفاعی پوزیشن پر تھا اور مسلسل ہندوستان اور پوری دنیا کو یہ موقع دے رہا تھا کہ وہ امن خراب نہ ہونے دیں مگر پوری دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی کسی ملک کی طرف سے ہندوستان کو نہیں روکا جارہا تھا ۔3 دن تک مسلسل ڈرون حملے لاہور اور اسلام آباد، پشاور کے علاوہ کئی شہروں بالخصوص آزاد کشمیر میں بھی کئے جاتے رہے اور پاکستان کی غیور عوام اس کا مقابلہ کر رہی تھی اور جذبہ اس قدر بڑھ گیا تھا کہ 1965 کا منظر دوبارہ سامنے آگیا جب ملک کی فوج اور عوام ایک دوسرے کے شانہ بشانہ لڑے تھے بلکل ویسے ہی ملک کا بچہ بچہ اپنی فوج اور حکومت کے ساتھ کھڑا ہوگیا اور فوج کے حق میں ریلیاں نکالی جارہی تھیں۔اور آرمی چیف اور حکومت سے دشمن کو بھرپور جواب دینے کا مطالبہ زور پکڑ رہا تھا  ۔آخرکار وہ دن آگیا جب پاکستان کی حکومت اور افواج کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور 10 مئی 2025 کی صبح فجر کی نماز کے بعد پاکستانی افواج کے غیرت مند سپہ سالار نے اپنی بہادر افواج کو انڈیا پر حملہ کرنے حکم دیا اور پھر دنیا نے یہ منظر دیکھا کہ پاکستان کے جانباز شاہین اور بری افواج دشمن پر ایسے جھپٹی کے 3 گھنٹے تک دشمن ملک کے دارالحکومت دلی پر صرف اور صرف پاکستانی فضائیہ کا مکمل کنٹرول تھا ۔ہندوستان بلکل بے بس ہوگیا دفاعی نظام جو کہ سب سے مہنگا ترین ائیر ڈیفنس سسٹم تھا اسے تباہ کیا گیا اور اپنے مشن کا کامیابی کے ساتھ مکمل کرکے واپس پاکستان آکر فضائیہ کے جوانوں نے بتایا کہ
*جھپٹنا ،پلٹنا پلٹ کر جھپٹنا*
*لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ*
*پرندوں کی دنیا کادرویش ہوں میں*
*کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ*
یہی خاصہ ہے ہم شاہینوں کا  ہمارے صبر کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ہم کمزور تھے بلکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ عام لوگوں کی جانیں جائیں اور دنیا کا امن تباہ ہو ۔پاکستان کی بری افواج نے جس طرح مزائل سے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا وہ منظر دنیا میں تاریخ رقم کرگیا ۔
پاکستان نے 10 مئی کے دن تین گھنٹے کی جنگ میں یہ بتا دیا ساری دنیا کو تم لاکھ تدبیریں کرو اور بے شک تعداد میں بھی بہت زیادہ آو مگر ہمارا اللہ اور جذبہ شہادت تم پر اس قدر بھاری ہے کہ تم چاہ کر اسے شکست نہیں دے سکتے ۔پاک فضائیہ نے تین گھنٹے میں دلی کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لیکر نا صرف ہندوستان بلکہ ساری دنا کو یہ بات سمجھ آگئی کہ پاکستان کی امن کی خواہش کمزوری نہیں تھی بلکہ وہ نہیں چاہتے تھے دنیا کا امن سکون برباد ہو ہر طرف عام لوگوں کا خون بہے اور دشمن ممالک کو بھی سبق اور پیغام مل گیا  جو یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ پاکستان کو آسانی  سے فتح کرلیں گے ۔یقینن ہمارے ملک کی غیور عوام، افواج پاکستان اور حکومت نے پوری دنیا کو یہ پیغام دے دیا کہ!
*تم دس بندے آکر پاکستان کو لے جاو گے تمہاری آنے والی دس نسلیں بھی پاکستان کو نہیں لے کر جاسکتیں،پاکستان ہمیشہ زندہ باد رہے گا۔*