جنگی حالات اورذرائع ابلاغ!
تحریر: شیخ خالد زاہد

امریکی صدر ڈولڈ ٹرمپ کچھ روز قبل تک ساری دنیا میں اپنے امن پسند ہونے کا ڈھول دونوںہاتھوں سے پیٹتے سنائی دے رہے تھے(اور اپنے آپ کو دنیا کی خوشحالی کا ٹرمپ کارڈبتارہے تھے) جس کی وجہ پاکستان پر بھارتی جارحیت کے باعث پیدا ہونے والی سنگین صورتحال تھی(کیونکہ دونوںممالک ایٹمی طاقت ہیں)۔ اس صورتحال میں بھارت کو اپنی جان بچانے کیلئے امریکہ کاسہارا لینا پڑا، جس کا تذکرہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریباًاپنی ہر تقریرمیں کیا کہ کس طرح سے انہوں نے دونوں ممالک میں بیچ ثالثی کا کردار ادا کیا اوردنیا کو دو ایٹمی طاقتوں کے ٹکراؤ سے بچایا۔ اس ساری صورتحال کو بھارتی ذرائعابلاغ نے ساری دنیا میں جھوٹ کا لبادہ پہنا کربڑھا چڑھا کر اپنی افواج کی کارگردگیکو پیش کیا، لیکن جھوٹ تو جھوٹ ہوتا ہے جیسے جیسے وقت گزرتا گیا جھوٹ کا رنگ اترتاگیا اور بھارتی ذرائع ابلاغ کو بھی اپنی فوج کی طرح منہ کی کھانی پڑی اور ساریدنیا میں جگ ہنسائی کا سبب تقریباً پورا بھارت ہی بن کر رہ گیا، کسی نے کیا خوبکہا ہے کہ انسان کو بغیرت ہونا چاہئے عزت تو آنی جانی چیز ہے۔دوسری طرف پاکستانیافواج نے اپنی کارگردگی کا لوہا ساری دنیا میں ثبوتوں کے ساتھ پیش کر کے منوایا،جس پر دنیا نے افواج پاکستان کی صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کیا۔یہاں ہم اپنےذرائع ابلاغ کا بھی بھرپور مثبت کردار کو بھی سراہائیں گے کہ جنہوں نے حالات کوانتہائی تدبر اور فہم کے ساتھ عوام تک پہنچایا۔ پاکستانیوں نے ہمیشہ سنگین نوعیتکی معاملات(خارجی ہوں یا داخلی) میں انتہائی بردباری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیاہے۔عوام ہو یا پھر سیاسی قیادت ملک کی بقاء کیلئے سب سرجوڑ کرایک ساتھ بیٹھ جاتےہیں، یہی وجہ ہے کہ ہمارا ایسا گٹھ جوڑ (ہم آہنگی)دیکھ کر کالی بھیڑوں کی بھی ہمتجواب دے جاتی ہے کہ وہ کسی ایسی حرکت کی مرتکب ہوں جس سے وہ نمایاں ہوجائیں اورکیفر کردار کو پہنچ جائیں۔ یہاں اس بات کو بھی تسلیم کرنا چاہئے کہ ہم سبپاکستانیوں کے دل اپنی فوج کے ہر قدم کے ساتھ دھڑکتے ہیں جو ملک کی سلامتی کیلئےنا صرف سرحدوں پر کمر بستہ ہوتے ہیں، داخلتی امن و آمان کو یقینی بناتےہوئے،سفارتی محاذ پر بھی حکومت کی ہر ممکن مدد کرتے دیکھائی دیتے ہیں۔ ہمپاکستانیوں نے ہر ہر مشکل وقت میں ایک ذمہ دار قوم ہونے کا بھرپور ثبوت دیا ہے اوردشمن پر اپنی یکجہتی سے خوفناک تاثر چھوڑا ہے۔
آجذرائع اور سماجی ابلاغ کی بنیاد پرساری دنیا میں کیا کچھ ہو رہا ہے، کسی کو انصافکے کٹھرے میں لانے سے لے کر کسی کو اس کے برے کام کی سزا دلوانے تک کی ذمہ داری انہی ذرائع کی مرہون منت سجھائی دیتا ہے۔ ہم پاکستانیوں کی زندگیوں میں بہت سارےایسے امور اچانک سے شامل کر دئیے جاتے ہیں جن کی نا تو ہم نے کوئی تربیت حاصل کیہوتی ہے اور نا ہی اس کا تذکرہ درسگاہوں سے میسر ہوتا ہے، سماجی ابلاغ اس کا منہبولتا ثبوت ہے جس کی بہتات سے ہمارا معاشرہ عدم توازن کا شکار ہوتا چلا جارہا ہے۔اس کا سب سے بڑا نقصان معاشرتی اقدار کو پہنچا ہے، ہماری نئی نسل اجتماعی زندگیوںسے نکل کر انفرادی ہوتی چلی جارہی ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ایک ہی کمرےمیں موجود لوگ ایک دوسرے سے گفتگو کرنے کی بجائے اپنے اپنے موبائل میں مصروف دیکھےجاسکتے ہیں اور تقریباً فیصلے سماجی ابلاغ پر ہی کرلئے جاتے ہیں۔
بظاہرحالات کی سنگینی میں کسی قسم کی کمی محسوس نہیں کی جارہی، البتہ مذاکرات کا چرچاضرور سنائی دے رہا ہے اورغیر مصدقہ اطلاعت کے مطابق امریکہ نے ایران کو اپنا پندرہرنقاطی امن معاہدہ بھیج دیا ہے اور ایران نے اپنے چھ مطالبے ساری دنیا کے سامنےرکھ دئیے ہیں۔ ان حالات کی سنگینی کو انتہائی تدبر کیساتھ ہمارے ذرائع ابلاغ نےسنبھالا ہوا ہے اورہر قسم کی ہنگامی صورتحال کو بہت خوبی سے سنبھالا ہوا ہے اور یہکردار قابل ستائش ہے۔خبروں کا ایسا توازن کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے کیونکہ جوطاقتور ہوتا ہے اسی کی خبریں اور اسی کی کامیابی دیکھائی اور بتائی جاتی ہیں۔اسرائیل اور امریکہ جو بظاہر زمین پر طاقت کا منبہ سمجھے جاتے ہیں اور جہاں چاہتےرہے ہیں اپنی مرضی سے حملہ آور ہوجاتے رہے ہیں، اسی متکبر سوچ کے اپنے ناپاک عزائمکی تکمیل کیلئے ایران پر چڑھائی کردی، ایک اندازے کے مطابق ان کا سمجھنا تھا دودنیا پھر زیادہ سے زیادہ تین دن میں ایران گھٹنے ٹیک دیگا اور ان سے امن کی بھیکمانگے گایا پھر ایران میں اندرونی خلفشار پیدا ہوجائے گا(جس طرح عراق، لیبیا اوردیگر ممالک میں ہوتا آیا ہے) لیکن وقت گواہی دے گا کہ ایک ایسا ملک جس پر تقریباتین دہائیوں سے زیادہ سے بے شمار پابندیاں لگی ہوئیں تھیں ایسامقابلہ کر رہا ہے کہحملہ آوروں کی نیندیں حرام کردی ہیں اور انہیں اب اپنے ملک میں چھپنے کی جگہ نہیںمل رہی ہے۔ ایران نے عزم شہادت کا ایسا علم بلند کر رکھا ہے کہ ان کے رہنما شہیدہورہے ہیں لیکن علم کو نیچے نہیں گرنے دیا جا رہا ہے اور ایک سے بڑھ کر ایکاولولازم میدان میں تیار کھڑا دیکھائی دیتا ہے۔ایران کا نظریہ شھادت ہے جس کیبدولت کوئی خوف انہیں جھکنے پر آمادہ نہیں کرسکتا۔ ایران کے عزم اور حوصلے کیبدولت آمریکہ اور اسرائیل کو دنیا نے ان کی اس مسلط کی ہوئی جنگ میں پہلی دفعہتنہا چھوڑ دیا ہے اوردنیا کے امن کی خاطر غیر جانبدار رہنے کا واضح فیصلہ کر لیاہے۔اب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ کو ختم کرنا چارہے ہیں انہیں اسرائیل کیپسپائی دیکھائی دینا شروع ہوگئی ہے، لیکن اب ایران جو عرصہ دراز سے اس فیصلہ کنمعرکہ کے انتظار میں تھا،جسکی وجہ سے ایران اس مسلط شدہ جنگ کو لمبا کرنا چاہتاہےاورانجام کیلئے اپنی شرائط منوانے تک جنگ کو جاری رکھنے کا عندیہ دیا جا چکاہے۔ایران دنیاکو واضح پیغام دینا چاہتا ہے کہ ایران نا تو کسی کے خوف میں مبتلاءرہا ہے اور نا ہی کسی کے ساتھ کا محتاج ہے۔آبنائے ہرمز نے دنیا کی شہہ رگ کا کامکیا ہے جس کا تعلق ایران سے ہے یہاں ایران نے اپنی طاقت کا لوہا منوایا ہے اورامریکہ اور اسرائیل پر بھرپور دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہاں یہ بھی سمجھنا چاہئے کہصورتحال کو کس خوبی اور بہترین جنگی حکمت عملی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔شائد اسیحکمت عملی کو سمجھنے کیلئے امریکی صدر نے کچھ وقت کیلئے حملے روکنے کا اعلان کیاہے۔
آمریکہکا یہ دعوی کے ایران اس جنگ کو روکنا چاہتا ہے کہاں تک درست ہے آنے والے کچھ دنوںمیں پتہ چل جائے گا۔ کیا یہ جنگ امریکہ کے دئے گئے پندرہ نکاتی معاہدے کے تحت اپنےمنطقی انجام کو پہنچے گی یا پھر ایران کے دئیے گئے چھ نکات اس جنگ پر اثر اندازہونگے۔دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ امریکہ نے جاپان پر جب ایٹم بم مارا تھا اس وقتجاپان مستحکم و منظم حکمت عملی کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا، امریکہ اگر ایٹم بمنا مارتا تو آج دنیا کی صورتحال مختلف ہوتی اور طاقت کا توازن بھی۔ دنیا کو یہضرور ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ اگر ایران جیسا ملک پسپائی کی طرف جائے گا تو وہاپنی پوشیدہ بھرپور صلاحیت کے ساتھ جہاں تک ممکن ہوسکے گا حملہ کرے گا(ہم تو ڈوبےہیں صنم، تم کو بھی لے ڈوبییں گے)۔ ایران کیلئے سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ آج تکمسلم دنیا اپنا ایک موقف واضح کرنے سے قاصر ہے کہ وہ کہاں اور کس کے ساتھ کھڑےہیں۔کیا یہ جنگ تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہوجائے گی، کیا قرب قیامت کی نشانیاںپوری ہوچکی ہیں، اسرائیل نے تو اپنی اس جنگ کو مذہبی لڑائی قرار دے دیا ہے اور وہاسے اپنے نجات دہندہ (دجال) کے آنے تک جاری رکھنا چاہتے ہیں۔آمریکہ اس جنگ میں تیلپر قبضہ کرنے کی خواہش لے کر کھڑا ہوا ہے جبکہ اسرائیل کو گریٹر اسرائیل بننے میںجن جن ممالک سے خطرہ ہے وہ ان سے لڑرہے ہیں۔ یعنی دواتحادی (امریکہ اوراسرائیل)پوشیدہ طور پر دو الگ الگ مقاصد کے حصول کیلئے دنیا کے امن کو داؤ پرلگائے ہوئے ہیں۔





Leave a Reply
Want to join the discussion?Feel free to contribute!