محبت کیوں باقی نہ رہی
تحریر: ندیم احمد ناداں

ویسے تو آجکل معاشرے میں انسان کے سفاک،جھوٹے،بے ایمان،دھوکے باز ہونے کی کوئی حد باقی نہیں رہی مگر کبھی کبھی ایسا منظر سامنے آتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔میں اپنی زندگی کے تجربے سے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آجکل معاشرے میں محبت صرف نام کی باقی رہ گئی ہے دل میں تو سب صرف نفرت،بغض،حسد،کینہ،جھوٹ، دھوکے نے جگہ بنا لی ہے ،یہ انسانوں کو کیا ہوگیا ہے کہ محبت نام تھا جس کا وہ کہاں گم ہو گئی ہے؟
کسی نے ایک زمانے میں بیٹوں کے ہاتھوں ماں کے قتل پر ایک شعر لکھا تھا!
*محبت اب زمینی شے نہیں ہے*
*تو اس کو ڈھونڈ خوابوں کے نگر میں*
معاشرے کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ بیٹا باپ کو قتل کررہا ہے اور باپ بیٹے کو قتل کر رہا ہے بھائی کو بھائی سے لڑوایا جارہا ہے کہیں بہن کو بھائی سے جائدادیں اور عہدے رشتوں سے زیادہ اہم ہو چکے ہیں دولت اور عہدوں کی بنیاد پر تعلقات کو نبھایا جارہا ہے جو غریب ہے اسے اہمیت نہیں دی جارہی اور جو امیر ہے اسے بے حس ہونے کے باوجود عزت اور فوقیت دی جارہی ہے نتیجہ رشتوں سے اعتبار اٹھتا جارہا ہے چھوٹی چھوٹی باتوں پر انسان ایک دوسرے کو مارنے پر تلے ہیں، بیوی کو خاوند کے مقابلے میں کھڑا کیا جارہا ہے اور اسے گھر بسانے کی بجائے خاوند کو چھوڑ دینے کی بات کی جارہی ہے نتیجہ بہت ساری لڑکیاں کم عمری میں ہی طلاق کا تمغہ ماتھے پر سجائے گھروں میں بیٹھی ہوئی ہیں ۔وجہ معلوم کرو تو پتہ چلتا ہے کہ عدم برداشت سب سے بڑی وجہ ہے آجکل کی لڑکیاں کہتی ہیں کہ شوہر نے سمجھا نہیں، ساس نے زندگی اجیرن کی ہوئی ہے اور دوسری طرف شوہر سے پوچھو تو معلوم ہوا کہ بیوی کو کام کرنا پسند نہیں ہے ،ماں کی خدمت کرنا اسے برا لگتا ہے اور بحث ومباحثے کو اولین ترجیح دیتی ہیں اور نتیجہ طلاق کی صورت میں برآمد ہو رہا ہے،کہیں گھریلو ناچاقی پر عورت کو بےدردی کے ساتھ قتل کیا جارہا ہے تو کہیں ایک سرکاری سکول ٹیچر کو گولی مار کر قتل کر دیا جاتا ہے بات معمولی سی ہوتی ہے اور نتیجہ اتنا خوفناک اور حیرت انگیز! یہ اتنی نفرت لوگوں کے اندر کہاں سے بھر گئی ہے؟ انسان کی جان کو اتنا سستا کیوں سمجھ لیا گیا ہے؟
محبت تو فاتح عالم ہوا کرتی تھی تو اب نفرت کیوں سایہ فگن ہوگئ ہے ،رشتے کچے دھاگوں کی طرح ٹوٹ رہے ہیں، والدین اولاد سے دور ہورہے ہیں اور بھائی بہنوں سے ،میاں بیوی کو آپس میں لڑ وایا جارہا ہے ،چھوٹی چھوٹی باتوں پر رائی سے پہاڑ بن رہے ہیں۔بڑا دل رکھنے والے کہیں گم ہو گئے ہیں چھوٹے دلوں والے ہر طرف رقص کرتے نظر آتے ہیں آسائشوں کی خواہش اور دولت کی کشش نے حالات بگاڑ کر رکھ دئے ہیں، محبت کو تو جیسے دیمک نے کھا لیا ہو! انسان ایک دوسرے پر اعتبار نہیں کر پارہا نفسا نفسی کا عالم ہے ،ہر انسان وہی کچھ کر رہا ہے جس میں صرف اس کی ذات کو سکون ملے چاہے اس کے لئے اسے کسی بھی دوسرے انسان کی جان کیوں نہ لینی پڑے۔ماں باپ نے اولاد کو لاوارث چھوڑ دیا ہے۔میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا ہوں کہ کہ آخر کیا واقعی ہی لا تعلقی کا جھگڑا چل رہا ہے ماں باپ کے لئے تو بچے مرے جاتے تھے چاہے مصروفیات کتنی ہی کیوں نہ ہوں کتنے ہی بڑے عہدے پر کیوں نہ ہوں پھر آج یہ کیا ہوا کہ ماں سے ملاقات کا کہہ دیا تو اسے بڑا جرم سمجھ لیا گیا اور اسے بنیاد بنا کر تعلق کو ہی ختم کردیا۔میرے ایک استاد نے کہا تھا کہ ندیم!
جس معاشرے میں سے ایمانداری اور انصاف رخصت ہوجائے تو وہاں سے محبت بھی رخصت ہو جاتی ہےاس وقت تو اس بات کا مطلب سمجھ نہیں آیا تھا کہ ایمانداری کا محبت سے کیا تعلق مگر اب جب میں مختلف واقعات دیکھتا ہوں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ پہلے ہم انسان سے وعدہ کرتے ہیں اور پھر وعدہ خلافی کر کے اپنا اعتبار کھو دیتے ہیں اور اگر انہیں ان کی غلطی بتائی جائے تو دشمنی پر اتر آتے ہیں اور یہاں تک کہ انسان کو موت کے گھاٹ اتارنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔
پہلے میں سمجھتا تھا کہ زن،زر،زمین نفرت کی بنیاد ہیں مگر اب جو بات سامنے آئی ہے اور وہ سب سے آگے نکل چکی ہے وہ ہے *حسد* جس نے محبت کے پاکیزہ رشتے کو جڑ سے ختم کرکے رکھ دیا ہے ،گھروں میں نظر دوڑائیں، دفاتراور گلی محلے کا جائزہ لیں ،دکانداروں اور رشتہ داروں کے خیالات سنیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سب کے سب *حسد* کی آگ میں جل رہے ہیں۔کہتے ہیں رزق کا وعدہ اللہ تعالٰی نے کیا ہے مگر یقین نہیں رکھتے میں نے کئی رکشہ چلانے والوں کو اس بات پر بڑی طرح جھگڑا کرتے دیکھا کہ اس نے سواری کیوں بٹھا لی اور یہ جھگڑا گالم گلوچ سے ہوتے ہوئے تشدد تک پہنچ گیا ،افسوس دلوں کی کشادگی ،محبت ،ایمانداری اور وعدہ ،امانت میں خیانت کرکے کہتے ہیں کہ معاشرے سے برکت اٹھ گئی ہے *مگر میں یہ کہتا ہوں کہ سچائی تو یہ ہے کہ برکت سے پہلے محبت اٹھ گئی ہے




Leave a Reply
Want to join the discussion?Feel free to contribute!