تحریر: عمر عبدالراحمن جنجوعہ

موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں اگر پاکستان کی پوزیشن کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ملک سفارتی سطح پر ایک مضبوط اور متوازن مقام حاصل کر چکا ہے۔ یہ استحکام کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ موجودہ قیادت کی مربوط حکمتِ عملی، فعال سفارت کاری اور ریاستی اداروں کے باہمی تعاون کا ثمر ہے۔
پاکستان کی اس مضبوط پوزیشن کے پس منظر میں سب سے اہم کردار موجودہ قیادت کا ہے۔ بالخصوص فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں افواجِ پاکستان نے نہ صرف داخلی استحکام کو یقینی بنایا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں بھی اضافہ کیا۔ اسی طرح اسحاق ڈار کی بطور وزیر خارجہ مؤثر اور متحرک سفارت کاری نے پاکستان کو ایک بار پھر عالمی منظرنامے میں اہم کھلاڑی کے طور پر پیش کیا ہے۔
اگر خطے کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے اہم ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات نہایت مستحکم ہیں۔ یہ ممالک خطے میں جاری کشیدگی، خصوصاً ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی تناؤ سے متاثر ضرور ہیں، مگر اس کے باوجود پاکستان ایک متوازن اور قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
بین الاقوامی تھنک ٹینکس جیسے Carnegie Endowment for International Peace، Brookings Institution اور Chatham House بھی اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں اپنی سفارتی حکمتِ عملی کو بہتر بنایا ہے اور ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا مثبت تشخص قائم کیا ہے۔
ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پہلی بار ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ عالمی طاقتیں، خاص طور پر امریکہ، جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے معاملات میں پاکستان کے کردار کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہیں۔ بعض سفارتی حلقوں کے مطابق اہم علاقائی معاملات میں پاکستان کو مشاورتی حیثیت حاصل ہو رہی ہے، جو کہ اس کی 77 سالہ تاریخ میں ایک نمایاں پیشرفت ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی میں بھی پاکستان نے ہمیشہ امن اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ خطے میں جنگ کی فضا کو کم کیا جائے اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کیے جائیں۔ یہی پالیسی پاکستان کو ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست کے طور پر پیش کرتی ہے۔
جہاں تک متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات میں مبینہ تناؤ کی بات ہے، تو حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ محض افواہیں ہیں جنہیں سوشل میڈیا پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ زمینی حقیقت میں دونوں ممالک کے تعلقات بدستور مضبوط اور مستحکم ہیں۔
نتیجتاً، یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اس وقت نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مضبوط اور مثبت پوزیشن میں کھڑا ہے۔ اس کامیابی کا سہرا مؤثر قیادت، بہترین سفارت کاری اور ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو جاتا ہے۔ اگر یہی پالیسی تسلسل کے ساتھ جاری رہی تو پاکستان مستقبل میں مزید مضبوط عالمی کردار ادا کر سکتا ہے۔

تحریر: فرید رزاقی

دنیا ایک بار پھر طاقت کے نئے توازن کی طرف بڑھ رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی رقابت، اور خطے میں بدلتے اتحاد اس بات کا تقاضا کر رہے ہیں کہ ممالک اپنی سفارتی حکمت عملی کو نئے سرے سے ترتیب دیں۔ اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں پاکستان ایک بار پھر ایک اہم اور مؤثر کردار کے طور پر ابھر رہا ہے—اور اس بار یہ محض جغرافیہ نہیں بلکہ حکمت عملی کی کامیابی بھی ہے۔

حالیہ مہینوں میں پاکستان نے جس انداز میں خود کو ایک ذمہ دار اور متوازن ریاست کے طور پر پیش کیا ہے، وہ قابلِ توجہ ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ہو یا مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل، پاکستان نے نہ صرف غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا بلکہ امن کے لیے عملی تجاویز بھی پیش کیں۔ چین کے ساتھ مل کر امن منصوبہ پیش کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام آباد اب عالمی مسائل کے حل میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کی نظر میں بھی پاکستان کا تاثر مثبت سمت میں تبدیل ہو رہا ہے۔
برطانوی اخبار The Guardian نے پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے سرگرم قوت کے طور پر پیش کیا۔
عالمی خبر رساں ادارے Reuters نے پاکستان کی سفارتی واپسی کو ایک “remarkable makeover” قرار دیا۔
امریکی جریدے Foreign Policy نے پاکستان کو ابھرتا ہوا سفارتی کھلاڑی کہا، جبکہ The Diplomat کے مطابق پاکستان دوبارہ عالمی اسٹیج پر نمایاں ہو رہا ہے۔

یہ شہ سرخیاں اس حقیقت کی غمازی کرتی ہیں کہ پاکستان نہ صرف اپنی کھوئی ہوئی جگہ واپس حاصل کر رہا ہے بلکہ ایک نئے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کا سب سے نمایاں پہلو اس کا متوازن رویہ ہے۔ ایک طرف چین کے ساتھ دیرینہ اور مضبوط تعلقات ہیں، جو سی پیک جیسے بڑے منصوبوں کی صورت میں ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، تو دوسری طرف امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری ایک مثبت پیش رفت ہے۔ یہ توازن پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک منفرد حیثیت دیتا ہے—ایک ایسا ملک جو مختلف طاقتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیاں بھی امید افزا ہیں۔ سعودی عرب، ترکی، ایران اور دیگر ممالک کے ساتھ بیک وقت تعلقات نہ صرف پاکستان کے اثر و رسوخ کو بڑھا رہے ہیں بلکہ اسے اسلامی دنیا میں ایک متوازن اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر بھی پیش کر رہے ہیں۔ دفاعی تعاون اور اقتصادی شراکت داری کے نئے مواقع پاکستان کے لیے ترقی کے دروازے کھول رہے ہیں۔

علاقائی سطح پر بھی مثبت امکانات موجود ہیں۔ افغانستان کے ساتھ مذاکرات اور تعاون کے دروازے کھلے ہیں، جبکہ چین کی ثالثی سے استحکام کی نئی راہیں تلاش کی جا رہی ہیں۔ اگر یہ عمل کامیاب ہوتا ہے تو پاکستان نہ صرف اپنے مغربی سرحدی مسائل حل کر سکتا ہے بلکہ وسطی ایشیا تک رسائی کے نئے مواقع بھی حاصل کر سکتا ہے۔

پاکستان کی سفارتی طاقت کا ایک اور اہم پہلو اس کی جغرافیائی حیثیت ہے۔ ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے پاکستان عالمی تجارت، توانائی کے منصوبوں اور علاقائی روابط میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں پاکستان کو نظر انداز نہیں کر سکتیں۔

یقیناً چیلنجز ہر ملک کے ساتھ ہوتے ہیں، لیکن اصل کامیابی اس بات میں ہے کہ ان چیلنجز کو مواقع میں کیسے بدلا جائے۔ پاکستان اس وقت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں اس کے پاس عالمی سطح پر اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے کا سنہری موقع موجود ہے۔

اگر پاکستان اپنی موجودہ متوازن خارجہ پالیسی کو جاری رکھتا ہے، علاقائی روابط کو فروغ دیتا ہے اور عالمی تنازعات میں تعمیری کردار ادا کرتا ہے تو وہ نہ صرف ایک مؤثر سفارتی طاقت بن سکتا ہے بلکہ ایک مستحکم اور باوقار عالمی کردار بھی حاصل کر سکتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان اب محض حالات کا شکار نہیں بلکہ حالات کو اپنے حق میں موڑنے کی صلاحیت حاصل کر رہا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں درست فیصلے پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک نمایاں اور بااثر مقام دلوا سکتے ہیں—اور بظاہر، پاکستان اس سمت میں درست قدم اٹھا رہا ہے۔

تحریر: فرید رزاقی

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر بارود کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ خلیجی ریاستیں دباؤ میں ہیں، عالمی تجارت سست روی کا شکار ہے، اور آبنائے ہرمز—جہاں سے دنیا کے لگ بھگ بیس فیصد تیل گزرتا ہے—ایک مستقل خطرے کی علامت بنتی جا رہی ہے۔ ایسے میں دنیا ایک ایسے کردار کی تلاش میں ہے جو تصادم کی اس آگ کو ٹھنڈا کر سکے، اور حیرت انگیز طور پر اس بار نظریں اسلام آباد پر مرکوز ہیں۔

یہ وہی پاکستان ہے جسے گزشتہ برسوں میں بھارت نے عالمی سطح پر بدنام کرنے کے لیے ہر ممکن حربہ آزمایا۔ اربوں ڈالر کی لابنگ، یورپ میں جعلی بیانیہ سازی، فیک میڈیا نیٹ ورکس اور منظم پراپیگنڈا—سب کچھ اس مقصد کے لیے تھا کہ پاکستان کو عالمی تنہائی میں دھکیل دیا جائے۔ مگر وقت نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ جھوٹ کا سفر مختصر اور سچ کی جڑیں گہری ہوتی ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ آج جب خطہ ایک بڑے بحران کے دہانے پر ہے، پاکستان نہ صرف سفارتی محاذ پر سرگرم ہے بلکہ اسے معاشی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔ خلیجی ممالک سے توانائی کا انحصار، ترسیلاتِ زر—جو پچاس فیصد سے زائد حصہ رکھتی ہیں—اور بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ، یہ سب پاکستان کو ایک نازک پوزیشن میں رکھتے ہیں۔ ایسے حالات میں اکثر ممالک کسی ایک بلاک کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں، مگر پاکستان نے اس کے برعکس ایک متوازن اور باوقار راستہ اختیار کیا ہے۔

یہی پاکستان کی اصل طاقت ہے۔
اسلام آباد میں بیک ڈور ڈپلومیسی جاری ہے، رابطے بڑھ رہے ہیں، اور ایک سنجیدہ کوشش کی جا رہی ہے کہ خطے کو مزید تباہی سے بچایا جائے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے اہم ممالک بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو نئی جہت دے رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان پر اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے—وہ بھی ایسے وقت میں جب خود پاکستان معاشی چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔

دوسری طرف بھارت کی صورتحال خاصی معنی خیز ہے۔
جو ملک خود کو خطے کا فیصلہ کن کھلاڑی سمجھتا تھا، آج وہ سفارتی منظرنامے میں کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ نہ اسے کسی اہم امن عمل میں شامل کیا جا رہا ہے، نہ ہی اس کی آواز کو وہ اہمیت دی جا رہی ہے جس کا وہ دعویدار تھا۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا یہ کہنا کہ “ہم دلال ملک نہیں ہیں” دراصل ایک سفارتی مایوسی کا اظہار ہے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ کردار نہ ہونے پر جملے ہی باقی رہ جاتے ہیں۔

یہی بھارت ماضی میں روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کا کریڈٹ لینے کے لیے بے چین تھا، مگر آج جب پاکستان عملی طور پر امن کی کوششوں میں مصروف ہے تو اسے طنز کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ دوہرا معیار اب دنیا سے پوشیدہ نہیں رہا۔

اعداد و شمار بھی اس بدلتے منظرنامے کی تصدیق کرتے ہیں۔ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، دفاعی و سیکیورٹی تعاون میں وسعت آئی ہے، اور اسٹریٹیجک پارٹنرشپ کی باتیں اب محض بیانات تک محدود نہیں رہیں بلکہ عملی شکل اختیار کر رہی ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ پاکستان نے ایک مشکل راستہ چنا ہے
دباؤ کے باوجود توازن، اور مفادات کے باوجود اصول۔
یہی وہ فرق ہے جو پاکستان کو دیگر ممالک سے ممتاز بنارہا ہے۔

آج کا پاکستان نہ صرف ایک ایٹمی طاقت ہے بلکہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ابھر رہا ہے، جو جنگ کی آگ میں تیل ڈالنے کے بجائے اسے بجھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اور یہی وہ کردار ہے جسے دنیا آج سراہ رہی ہے۔

حقیقت اب کسی وضاحت کی محتاج نہیں رہی:
جو پاکستان کو تنہا کرنے نکلے تھے، آج خود تنہائی کا شکار ہیں۔
جو پاکستان کو غیر ذمہ دار کہتے تھے، آج اسی کے کردار کو تسلیم کر رہے ہیں۔
اور جو خود کو خطے کا لیڈر سمجھتے تھے، وہ آج محض تماشائی بن کر رہ گئے ہیں۔
اسلام آباد آج صرف ایک دارالحکومت نہیں بلکہ یہ ایک سوچ ہے، ایک توازن ہے، اور ایک ایسے پاکستان کی پہچان ہے جو دباؤ کے باوجود جھکا نہیں، بلکہ دنیا کو راستہ دکھارہا ہے اور وہ امن کا راستہ ہے۔ یعنی جس پاکستان کو دنیا کے لیے بھارتی لابی نے خطرہ بنا کر پیش کیا وہ پاکستان اب دنیا میں امن کا پیامبر بن کر کھڑا ہے۔

تحریر: عمر خطاب

موجودہ عالمی اور علاقائی تناظر میں پاکستان کی سفارتی پوزیشن کے حوالے سے بین الاقوامی ادارے اور ماہرین مختلف لیکن گہرے جائزے پیش کرتے ہیں۔ امریکی جریدے فارن پالیسی (Foreign Policy) نے اپنی حالیہ رپورٹ میں پاکستان کو خطے کا سفارتی فاتح قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد نے امریکہ، چین، سعودی عرب اور ایران کے درمیان ایک متوازن خارجہ پالیسی اپنا کر اپنی سفارتی تنہائی کا بڑی حد تک خاتمہ کر دیا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مؤثر فکسر (Fixer) یا پیغام رساں کے طور پر پاکستان کا کردار اسے خطے کے دیگر ممالک، خاص طور پر بھارت کے مقابلے میں ایک نمایاں پوزیشن دے رہا ہے جس کی وجہ سے واشنگٹن میں اسے ایک مفید شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس سفارتی پیش رفت کے ساتھ ساتھ پاکستان اپنی قومی حکمتِ عملی میں بھی بڑی تبدیلی لا رہا ہے، جہاں امریکہ میں متعین پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ کے مطابق ملک اب جغرافیائی سیاست سے ہٹ کر جغرافیائی معاشیات (Geoeconomics) پر توجہ مرکوز کر رہا ہے تاکہ توانائی، معدنیات اور آئی ٹی جیسے شعبوں میں طویل مدتی اقتصادی تعاون حاصل کیا جا سکے۔ اسی سلسلے میں سی پیک (CPEC) فیز 2 کے تحت چین کے ساتھ صنعتی ترقی، جدت اور تکنیکی تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ نجی شعبے کے لیے ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ تاہم، ان کامیابیوں کے ساتھ ساتھ کچھ سنگین خدشات بھی موجود ہیں، جیسا کہ الجزیرہ (Al Jazeera) کے تجزیہ کار ایرک شاہزار اس سفارتی تیزی کو کسی معجزے کے بجائے دباؤ کے تحت لیا گیا فیصلہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد پیدا ہونے والے خلا اور معدنی سفارت کاری کی ضرورت نے پاکستان کو دوبارہ مرکزِ نگاہ بنایا ہے، لیکن بلوچستان میں مقامی آبادی کو شامل کیے بغیر معدنی وسائل کی پالیسیاں بنانا داخلی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستان کی سفارتی ساکھ کے لیے ایک اور بڑا چیلنج اس کی اپنی سرحدوں پر جاری کشیدگی ہے، فروری 2026 سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان باقاعدہ مسلح تصادم جاری ہے جس کے نتیجے میں دونوں جانب جانی نقصان اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی ہے۔ اسپیشل یوریشیا (SpecialEurasia) کی رپورٹ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتی ہے کہ ایک طرف پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف اس کی داخلی سکیورٹی کی غیر یقینی صورتحال اور سرحدوں پر جاری جنگ اس کی بین الاقوامی ساکھ اور غیر جانبدار ثالث کی حیثیت پر سوالیہ نشان کھڑے کر رہی ہے۔

میرے خیال میں مجموعی طور پر ماہرین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ پاکستان کی موجودہ سفارتی پوزیشن بہتر ضرور ہوئی ہے لیکن یہ ایک بھربھری بنیاد پر کھڑی ہے اور جب تک ریاست اپنے اندرونی سیاسی بحرانوں، معاشی کمزوریوں اور داخلی سکیورٹی کو مستحکم نہیں کرتی، یہ بین الاقوامی فوائد عارضی ثابت ہو سکتے ہیں۔ 😊

تحریر: مہوش فضل جٹ
عالمی  سطح پر پاکستان 2025-2026 کے لیے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوا ہے، جو عالمی سطح پر اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی علامت ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان 2026 سے تین سال کے لیے انسانی حقوق کونسل کا ممبر بھی منتخب ہو چکا ہے۔
دسمبر 2025 میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کی نشاندہی پاکستان کی ایک بڑی سفارتی جیت تصور کی جا رہی ہے۔
ستمبر 2025 میں پاکستان اور سعودی عرب نے ایک تزویراتی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت
ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
چین کے ساتھ تعلقات مزید گہرے ہوئے ہیں خاص طور پر سی پیک کے دوسرے مرحلے اور علاقائی امن کے لیے مشترکہ اقدامات کے حوالے سے
ایران اور امریکہ/اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی میں پاکستان ایک ثالث اور امن پسند قوت کے طور پر ابھرا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے تہران، ریاض اور واشنگٹن کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
ا کنامک ڈپلومیسی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بڑا محور  ہے تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔
بھارت کے ساتھ تعلقات تاحال منجمد ہیں، جبکہ افغانستان کے ساتھ سرحد اور دہشت گردی کے معاملات بدستور ایک چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
مجموعی طور پر پاکستان کی سفارتی پوزیشن پچھلے چند سالوں کے مقابلے میں بہتر اور مستحکم ہوئی ہے۔ تاہم، ملکی سیاسی استحکام اور معاشی اصلاحات اس سفارتی کامیابی کو طویل مدتی نتائج میں بدلنے کے لیے ضروری ہیں۔  مشرقِ وسطیٰ کے بحرانوں (جیسے ایران اسرائیل کشیدگی) میں پاکستان کو اپنا توازن برقرار رکھنے میں سخت محنت کرنی پڑ رہی ہے۔ اگرچہ سفارتی پوزیشن بہتر ہوئی ہے، لیکن کچھ رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں ملک کے اندر سیاسی تناؤ اور امن و امان کی صورتحال (خاص طور پر دہشت گردی کے حالیہ واقعات) بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے امیج کو متاثر کرتے ہیں۔۔ ورنہ مئی وار میں جس طرح پاکستان نے بھارت کو دن میں تارے دکھائے ہیں اس اقدام نے پاکستان کو پوری دنیا میں ثابت کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان  نا صرف سفارتی محاز پر مستحکم نظر آتا ہے بلکہ اسرائیل ، ایران، امریکہ جنگ روکنے کے لیے بھی کاوش کرنا نظر آ رہا ہے۔ اب بات کر لی جائے جنگی صورتحال کی تو امریکہ کو تو ویسے ہی شاید اپنی پاور دکھانے کا  بخار چڑھ جاتا ہے لیکن یہ جلد ہی اتر بھی جاتا ہے۔
تین اپریل دو ہزار چھبیس۔۔۔ جنگ کے چھتیس ویں روز۔۔۔
   ایرانی میزائل  ٹیکنالوجی    نے   ۔۔۔  چھیتر ملین ڈالر    کا  ایف  ایٹین  ہارنٹ  فضا میں اڑا دیا ۔۔
ایک سو دس ملین  ڈالر کا ایف  ففٹین  ایگل بھی      ایرانی میزائل کا نشانہ بنا ۔۔۔بے جان پرندے کی طرح زمین پر آ گرا
 اور پھر ۔۔۔ امریکا کا غرور۔۔  سو ملین ڈالر کا ایف   تھرٹی فائیو بھی شکار ہوا
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق تین جنگی طیاروں کے علاوہ دو ریسکیو ہیلی کا پٹر بھی تباہ ہوئے
 ایران نے  تین امریکی  فائٹر جیٹس        تباہ نہیں کیے ،،،امر یکی  فوجی  طاقت  کا بیانیہ خلیج میں غرق کردیا
جنگ کے دوران سعودی عرب میں امریکی اڈے پر ایرانی حملے نے
تین سوملین ڈالر  کا امریکی    ای ۔ تھری   سینٹری   وارننگ طیارہ    جلا کر راکھ کردیا
کویتی افواج نے  فرینڈلی فائرنگ میں  تین  امریکی  ایف   ففٹین تباہ کردیے۔۔۔
امریکا  ابتک    دس ان مینڈ    ڈرونز سمیت  بیس  سے زیادہ فائٹر  جیٹس   گنوا چکا
خلیج میں امریکا کے  تمام   تیرہ ایئر بیسز پر   حملے ،،  ابراہام لنکن  اور جیرالڈ فورڈ  پر میزائل حملے،، اورآبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ۔ ایران    کی اہم کامیا بیاں ہیں  ۔۔
 دوسری جانب ،،  سیز فائر کے لیے ٹرمپ کی بے چینی ،         ایرانی  رجیم سے   رابطوں کے سچے جھوٹے  دعوے،، امریکا کی  جنگ سے  باہر آنے کی خواہش    اور   آبنائے ہرمز کھلوانے میں ناکامی بھی دنیا کے سامنے ہے
لیکن پھر بھی امریکا       جنگ میں برتری کا دعوے دارہے ۔۔۔
 ٹرمپ نے   یکم اپریل کو       دعویٰ کیا  ۔۔۔ ایران کی نوے فیصد فوجی طاقت   توڑی دی ،  جوہری صلاحیت ختم کردی ،،
 دواپریل کو  امریکی انٹیلی جنس   رپورٹ نے         انکشاف کیا ” ایران      کی     فوجی  طاقت          تاحال    خطرناک حد تک فعال ہے “
 تین اپریل کی رات  ۔۔ ایرانی میزائلوں نے    امریکا کے تین جدید ترین  فائٹر جیٹس گرا کر اپنی فعالیت کا ثبوت دے دیا ۔۔۔ ایسا  پہلی بار نہیں ہوا ۔۔   امریکاغیر معمولی  فوجی نقصان ۔۔ امریکا کی  ہر  جارحیت کا معروف منظر نامہ ہے
 یہ امریکا کی جنگی تاریخ کا وہ     سچ ہے   ۔۔۔۔  جو پانچ   جھو ٹے بیا نیوں سے  جڑا ہے ،،  اور ان  جھوٹے بیانیوں سے جڑی  ہیں  ۔۔ امریکا کی  پانچ بڑی جنگیں ۔۔۔۔    ان        جنگوں میں سب سے   کامن ہے      امریکا کی  ” اسٹریٹجک   مس کیلکولیشن “۔۔۔
    سب سے پہلے  ویت نام جنگ ۔۔ امریکا  کے لیے ڈراؤنا خواب ۔۔۔ بیس سال میں اربوں ڈالر خرچ کر کے   پچاس ہزار امریکی فوجی تابوت اٹھائے ،،ذلت آمیز شکست کو واشنگٹن نے   جھوٹے بیانیہ سے کیمو فلاج   کیا ،،اور،،جنوبی ویتنام  میں جمہوریت کو اپنی فتح بتایا
 پھر آتی ہے دوہزار تین کی   عراق  جنگ۔۔۔ جو    کیمیائی ہتھیاروں کے جھوٹے الزام پر امریکی فوج نے  آٹھ سا ل تک لڑی  ،، ڈیڑھ لاکھ عراقی ماردیئے ،، چار ہزار امریکی فوجی جنگ میں کام آئے ،، لیکن کیمیائی ہتھیار نہ ملے ۔۔۔ آخرکار  جارج بش نے  طیارے کے  ڈیک پر کھڑے ہو کر  عراق  مشن  مکمل ہونے   کا اعلان کیا ۔۔۔اور جنگ ختم کردی
  دوہزار گیارہ میں  لیبیا  میں   رجیم  چینج آپریشن ۔۔۔ امریکا  اور  نیٹو نے بمباری کی ،،  قذافی اوراس   کی ساری اسٹیبلشمنٹ ماردی ،، ہلری کلنٹن نے  تمسخرانہ ہنسی   اڑائی اور کہا  “We came, we saw, he died.”۔۔۔۔۔۔
 لیبیا کا  پرانا  نظام اکھیڑ کر امریکا  چلتا بنا ،، لیبیا  خانہ جنگی میں اجڑ گیا ، قبائلی جنگوں نے اقتدار تقسیم ،، اور ،،ملک  غلاموں کی منڈی بنا دیا ،،لیکن امریکا نے  کبھی خود کوذمہ دار نہیں مانا
افغانستان میں وار آن  ٹیرر کے  بیس سال ،،،  امریکا کو دو ٹریلین ڈالر میں پڑے  ،،  دوحہ معاہدہ پر   سیو  کوریڈور ملا تو امریکی میرین۔۔  ووطن لوٹے ۔۔لیکن خالی ہاتھ  ۔۔ صدر بائیڈن نے   بیس سالہ جنگ کو غلطی کے   بجائے  آرڈرلی ٹرانزیشن   کہا
 اور اب  ۔۔۔  ایران جنگ ۔۔۔       NARITIVE  سے  بیٹل فیلڈ تک ۔۔۔۔ سب    کچھ  پہلے جیسا
 اپنی چھیڑی ہر جنگ میں    امریکا نے شکست کھائی  یا مشن فیل ہوا،، لیکن انکل سام نے۔۔۔   کبھی  ناکامی کو لفظوں کا جامہ   پہنایا  تو   کبھی     بیانیہ  کی چادر اوڑ ھ لی ۔۔۔ لیکن د نیا پر اپنا دبدبہ  ۔۔۔اور ۔۔ امریکا میں    اپنا بھرم قائم رکھا
   ۔۔ ایران     کا امریکا  اور اسرائیل کے ساتھ جنگ میں ملوث ہونا ۔۔۔     پاور آف بیلنس کے   اصول پر    کچھ فٹ نہیں  بیٹھتا ،، دیکھا جائے تو ایک  طرف   دنیا کی سپر پاور امریکا  ،، اور اس کا اتحادی ،، اسرائیل،،  جو   دنیا بھر میں           بھرپور   معاشی ، فوجی ، سیاسی  اثر ونفوذ رکھتا ہے
 اور  دوسری جانب  ،،        تیس سالوں سے   معاشی  فوجی  تجارتی  پابندیاں سہنے والا  ایران،،    جو پہلے انقلاب کے  تھپیڑے کھاتا رہا ،،  پھر   آٹھ سالہ  عراق  جنگ   کے ہاتھوں ہلکان ہوا ،،  اور پھر امریکی   پابندیوں نے     ایران کا  گلا گھونٹا ،،لیکن اس کے باوجود    دنیا  ۔۔۔ایران کو    اپنے طاقت ور دشمن کے مقابلے میں          تن کر کھڑا دیکھ رہی ہے ۔۔۔ کیا اس کی وجہ     پچیس سو سالوں سے  ایرانی  قوم کا   ہمیشہ    سپر پاور ز سے    ہونے وا لے ٹکراؤ ہے ۔۔۔ یا ا  یہ          انقلابی رجیم    جذبہ   شہادت ۔۔   سب سے اہم ۔۔   ایران کا  Calibrated Escalation      ہے ،،  سادہ الفاظ میں  نپے تلے  اور   کیلکو لیٹڈ            جواب پر مبنی جنگی  پالیسی    بھی ایران کی جنگی  تاریخ  سے  آئی ہے  یا ۔۔    پاسداران انقلاب کے   اسٹریٹجک دماغوں  کا       خراج  ہے
ایران  تو   چاہتا ہی ہے  کہ امریکا کو مغربی ایشیا سے باہر نکالے ،، لیکن اسرائیل کیوں چاہتا ہے کہ امریکا اب     مشرق وسطیٰ سے  نکل جائے ؟؟ کیا  ایران   کے   ہاتھوں           جنگی نقصان  ،،  جنگوں سے تھکے امریکا  کو  جنگ سے ہی نہیں     مشرق وسطیٰ سے بھی نکال    لے جائے گا ؟؟    اسرائیل   کے خیال میں    امریکی فوجی  چھتری ہٹنے پر   عرب ملکوں   سے نمٹنا  ، گریٹر اسرائیل   کی جانب بڑھنا  آسان ہوگا ۔۔   ۔۔یہ جیو پولیٹیکل تھیوری  ہے،، جو    مشرق وسطیٰ میں پاکستان کے آئندہ کردار کا عکس   دکھا رہی ہے ،، اب سوال یہ ہے  کہ       یہ کس حد تک حقیقت سے قریب ہے
اگر امریکہ واقعی مشرق وسطیٰ میں اپنا کردار کم کرتا ہے تو یقینی طور پر یہ اسرائیل کے ایک موقع ہوگا ،،لیکن         پاک سعودی دفاعی  معاہدہ پاکستان کو    مشرق وسطیٰ سے  جوڑ رہا  ہے ،،  ممکنہ اسرائیلی پیش  قدمی یا   طاقتی توازن بگاڑنے کی کوشش   پر    پاکستان  کا ردعمل  اور     مڈل ایسٹ میں ممکنہ     کردار کتنا موثر ہوگا؟
ایران نے امریکہ کے بعض مطالبات کو “غیر منطقی” قرار دے کر فی الحال اسلام آباد میں ملاقات سے انکار کیا ہے، جس کی وجہ سے مذاکراتی عمل میں تعطل پیدا ہوا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ کردار صرف سفارتی نہیں بلکہ بقا کا مسئلہ بھی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش اور جنگ کی وجہ سے ملک میں ایندھن کی قیمتیں اور معاشی بحران شدید ہو رہا ہے۔
پاکستان اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں “سفارت کاری کا مرکز بنا ہوا ہے اگرچہ مذاکرات ابھی تک کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے، لیکن پاکستان کی جانب سے مسلسل رابطے اور علاقائی طاقتوں کو یکجا کرنا اسے اس بحران کا سب سے اہم    وصیلہ بناتا ہے۔۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟