By Unzila Siddiqui

​History often proves that when arrogance drives a state’s narrative, the truth is the first casualty. In the aftermath of the Falgham incident, we witnessed a display of political theater that was as swift as it was baseless. Within a mere ten minutes—before any investigation could have reasonably begun—the Modi government filed an FIR against Pakistan. It was a calculated move, using a tragic event as a pawn in a larger, more dangerous game.

​But as the dust settled, the narrative began to crumble from within. Even in Jammu and Kashmir, and across various circles in the Indian media, the public began to ask the questions that the authorities were desperate to avoid. Where were the security forces at the hour of the attack? Why were the CCTV cameras conveniently inactive? And how did the attackers manage to escape from a high-security zone without a trace? The lack of answers spoke louder than the accusations themselves.

​As the Indian government doubled down on its tough stance, regional tensions spiked. Amidst the fog of “Operation Sandur”—conducted in the silence of the night—and a flood of conflicting reports on Indian news channels, the atmosphere grew heavy with the threat of escalation.

​It was in this moment of heightened risk that the Pakistan Armed Forces took a definitive stand. Their message was simple: sovereignty is non-negotiable.

​This resolve gave birth to Operation Bunyan al-Marsus. The name is profoundly symbolic, translating to “The Leaden Wall.” It describes a force so united, so tightly knit, that no gap exists for an enemy to exploit. But the true “Leaden Wall” wasn’t just the military hardware; it was the people of Pakistan.

​In an extraordinary display of national character, the entire nation stood shoulder-to-shoulder with its defenders. This wasn’t just a military operation; it was a revival of the national spirit. Our forces met the crisis with courage, wisdom, and an unwavering perseverance that eventually paved the way for de-escalation and a tentative return to peace.

​The lesson of this episode remains etched in our history: the real power of a nation is not found in aggressive rhetoric, but in the unity, tolerance, and cohesion of its people. When a nation stands as a single, undivided force, it becomes invincible.

تحریر: انزلہ صدیقی

غرور اور تکبر سے بھرپور مودی سرکار نے پھلگھم میں ہونے والے حملے کو موہرا بنا کر پاکستان کے خلاف محض 10 منٹ میں ایف آئی آر درج کروائی۔ اس کے بعد بھارتی میڈیا، جموں و کشمیر اور اطراف کے مختلف حلقوں میں بھارتی ریاست کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے۔ عوامی سطح پر یہ سوال کیا جا رہا تھا کہ حملے کے وقت سیکیورٹی فورسز کہاں تھیں؟ سی سی ٹی وی کیمرے کیوں غیر فعال تھے؟ اور حملہ آور کس طرح کارروائی کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوئے؟

چونکہ بھارتی حکومت نے پاکستان پر الزامات عائد کرتے ہوئے سخت مؤقف اختیار کیا، اس کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ پھلگھم واقعے کو بنیاد بنا کر بھارت کی جانب سے مختلف عسکری اور سیاسی اقدامات کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

اس کے بعد بھارتی میڈیا پر متضاد اور غیر مصدقہ خبریں نشر کی جاتی رہیں، جنہیں بعض حلقوں میں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

اس پورے تناظر میں “آپریشن سندور” کا ذکر بھی سامنے آیا، جس کے دوران رات کی تاریکی میں کارروائی کی اطلاعات سامنے آئیں۔

ارشادِ باری تعالیٰ:

وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ

“اور اللہ کی راہ میں ان سے جنگ کرو جو تم سے لڑتے ہیں اور حد سے نہ بڑھو، بے شک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔”

اور ایک مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ

“اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ ہی کا ہو جائے۔”

اس صورتحال کے دوران پاکستان کی مسلح افواج نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ اگر ملک پر حملہ ہوا تو بھرپور دفاع کیا جائے گا۔

اسی تناظر میں “آپریشن بنیان المرصوص” کا آغاز کیا گیا، جس کا تصور اتحاد، استقامت اور مضبوطی کی علامت ہے۔ “بنیان المرصوص” کا مطلب سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے، یعنی ایک ایسی متحد قوت جو دشمن کے مقابلے میں مضبوطی سے کھڑی ہو۔

قرآنِ مجید میں سورۃ الصف میں ارشاد ہوتا ہے:

اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِيْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ

ترجمہ: بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت فرماتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔

اس موقع پر پوری پاکستانی قوم یکجہتی کے ساتھ اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی رہی۔ دفاعِ وطن کے جذبے نے قوم کو ایک لڑی میں پرو دیا۔

پاکستانی افواج نے جرات، حکمت اور استقامت کے ساتھ صورتحال کا سامنا کیا، جبکہ ملک میں قومی یکجہتی کا جذبہ مزید مضبوط ہوا۔

بعد ازاں صورتحال میں کشیدگی کم کرنے اور امن کی طرف پیش رفت کے اشارے بھی سامنے آئے۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَإِن جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ

“اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو آپ بھی اس کی طرف مائل ہو جائیں اور اللہ پر بھروسہ کریں۔”

اس پورے منظرنامے سے یہ سبق ملتا ہے کہ اتحاد، برداشت اور قومی یکجہتی ہی کسی بھی قوم کی اصل طاقت ہے۔

علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا:

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

پاکستان زندہ باد۔

تحریر: ندیم ناداں

 

*ترجمہ*
:*بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں جیسے سیسا پلائی ہوئی دیوار۔*
پاکستان 14 اگست 1947 کو جب دنیا کے نقشے پر ابھر کر سامنے آیا تو دنیا کو یہ ہر گز گوارا نہ تھا کہ مسلمانوں کی کوئی آزاد ریاست ہو جہاں مسلمان اپنے عقائد، مذہب کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔ہندوستان نے بے حد کوشش کی کے پاکستان اس دنیا کے نقشے پر موجود نہ رہے انہوں نے پاکستان بننے سے پہلے بھی انگریزوں کے ساتھ ملکر مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہا کی جس کے نتیجے میں مسلمانوں نے اپنے لئے الگ ملک کی جدوجہد کی اور اللہ کی مدد کے ساتھ قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ملک *پاکستان* بن گیا اور آج پوری دنیا کے لئے مرکزی کردار کی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور اب دنیا کے طاقتور ممالک جو کبھی پاکستان کو ماننے کو تیار تک نہیں تھے آج وہ پاکستان کے علاوہ کسی پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔
ترجمہ: *اوربے شک اللہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے زلت*
پاکستان جب سے معرض وجود میں آیا اسے ختم کرنے کے لئے سازشیں شروع کر دی گئیں اور ہندوستان نے اپنی ہر ممکن کوشش کی کے کسی طرح پاکستان کو دنیا کے نقشے سے مٹا دیا جائے ۔1965 کی جنگ ہو یا پھر 1971 کی جنگ ،کارگل ہو ابھی 2025 میں مئی کے مہینے ہونے والی کوشش الحمدللہ ہندوستان کو ہر جگہ ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اور اللہ کی مدد کے ساتھ پاکستان سرخر و ہوا ۔ 1965 میں دسمبر کے مہینے کا انتخاب کیا گیا اور اس ارادے سے پاکستان پر حملہ کیا گیا کے صبح کا ناشتہ لاہور جم خانہ کلب میں ہوگا ۔مگر خدا کی شان کے 1965 سے لیکر آج تک ہندوستان صرف خواب ہی دیکھتا رہا اور انشاءاللہ یہ اس کا خواب ہی رہے گا۔
2025 مئی کے مہینے سے پہلے پاکستان کی معیشت تنزلی کا شکار تھی ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا اکثر لوگ تو اسے دیوالیہ قرار دے چکے تھے۔ملک میں ہر طرف نفسا نفسی کا عالم تھا ،دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری تھی ،ہر طرف غیر یقینی کی سی صورت حال تھی یعنی کہا جاسکتا ہے ملک پاکستان بے شمار مشکلات کا شکار تھا۔ ہندوستان اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا وہ ہر ممکن کوشش کر رہا تھا کہ پاکستان کو عالمی دنیا میں بلکل تنہا کر دیا جائے اور پھر اپنے ناپاک عزائم جو کہ قیام پاکستان سے تھے وہ انہیں عملی جامہ پہنائے اور پاکستان کو دنیا کے نقشے سے مٹا دے ۔مگر کہاوت ہے نہ کہ!
*جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔*
مکار دشمن کہاں بعض آتا ہے جب اسے 1965 اور 1971 میں اپنے مقاصد حاصل نہیں ہوسکے تو وہ نئ تدبیریں کرنے لگا اور دوبارہ سے خود کو پاکستان کے خلاف کاروائی کے لئے منظم کرنے لگا اور کئی مرتبہ کوشش کی گئ کے جھوٹے واقعات کو بنیاد بنا کر پاکستان پر حملہ کیا جائے۔
مئی 2025 میں پہلگام واقع کروا کر پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ شروع کیا گیا پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوری دنیا کے سامنے ہندوستان کو آزاد تحقیقات کی پیشکش کی گئی مگر ہندوستان اس بات کو جانتا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے یہی وجہ ہے وہ اس پیش کش کو قبول کرنے سی انکار کرتا رہا کیونکہ وہ یہ جانتا تھا کہ یہ انکی سوچی سمجھی منصوبہ بندی کا حصہ ہے جس کا مقصد صرف اور صرف پاکستان پر حملہ کرنا اور دنیا کی نظر میں دہشت گرد ملک قرار دلوا کر عالمی دنیا میں تنہا کرنا تھا۔ہندوستان کی حکومت اور فوج مسلسل بدمعاشی کا مظاہرہ کر رہی تھی اور پاکستانی حکومت اور فوج مسلسل تحمل اور صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے شفاف تحقیقات پر زور دے رہی تھی مگر ہندوستان کا ارادہ کچھ اور تھا وہ تو اپنے ناپاک عزائم کو پورا کرنا چاہتا تھا جس کے لئے وہ ماضی میں متعدد بار کوشش کے باوجود ناکام رہا۔
6مئ کی رات تھی رمضان المبارک کا مہینہ تھا عوام نے حسب معمول 6 مئی کو افطاری کی اور اسی طرح مساجد میں تراویح کی نماز ادا کی گئ ۔مگر پھر اچانک رات کو 2بجے کے قریب ہندوستان کی فضائیہ نے لاہور مریدکے میں پہلا حملہ کرتے ہوئے مسجد اور مدرسے کو نشانہ بنایا جہاں مسلمان نہتے بچے اور بچیاں تعلیم حاصل کررہے تھے اور انہیں شہید کیا گیا اس کے بعد مختلف مقامات پر فضائی حملے کئے گئے۔پاکستانی فوج اور حکومت ابھی بھی ہمت اور صبر کا مظاہرہ کررہی تھی اور چاہتی تھی کے خطے کا امن و سکون برباد نہ ہو مگر ہمارے اس رویے کو دشمن نے کمزوری سمجھا اور مسلسل نہتی عوام اور مساجد پر حملے جاری رکھے ۔پاکستان اب تک صرف دفاعی پوزیشن پر تھا اور مسلسل ہندوستان اور پوری دنیا کو یہ موقع دے رہا تھا کہ وہ امن خراب نہ ہونے دیں مگر پوری دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی کسی ملک کی طرف سے ہندوستان کو نہیں روکا جارہا تھا ۔3 دن تک مسلسل ڈرون حملے لاہور اور اسلام آباد، پشاور کے علاوہ کئی شہروں بالخصوص آزاد کشمیر میں بھی کئے جاتے رہے اور پاکستان کی غیور عوام اس کا مقابلہ کر رہی تھی اور جذبہ اس قدر بڑھ گیا تھا کہ 1965 کا منظر دوبارہ سامنے آگیا جب ملک کی فوج اور عوام ایک دوسرے کے شانہ بشانہ لڑے تھے بلکل ویسے ہی ملک کا بچہ بچہ اپنی فوج اور حکومت کے ساتھ کھڑا ہوگیا اور فوج کے حق میں ریلیاں نکالی جارہی تھیں۔اور آرمی چیف اور حکومت سے دشمن کو بھرپور جواب دینے کا مطالبہ زور پکڑ رہا تھا  ۔آخرکار وہ دن آگیا جب پاکستان کی حکومت اور افواج کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور 10 مئی 2025 کی صبح فجر کی نماز کے بعد پاکستانی افواج کے غیرت مند سپہ سالار نے اپنی بہادر افواج کو انڈیا پر حملہ کرنے حکم دیا اور پھر دنیا نے یہ منظر دیکھا کہ پاکستان کے جانباز شاہین اور بری افواج دشمن پر ایسے جھپٹی کے 3 گھنٹے تک دشمن ملک کے دارالحکومت دلی پر صرف اور صرف پاکستانی فضائیہ کا مکمل کنٹرول تھا ۔ہندوستان بلکل بے بس ہوگیا دفاعی نظام جو کہ سب سے مہنگا ترین ائیر ڈیفنس سسٹم تھا اسے تباہ کیا گیا اور اپنے مشن کا کامیابی کے ساتھ مکمل کرکے واپس پاکستان آکر فضائیہ کے جوانوں نے بتایا کہ
*جھپٹنا ،پلٹنا پلٹ کر جھپٹنا*
*لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ*
*پرندوں کی دنیا کادرویش ہوں میں*
*کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ*
یہی خاصہ ہے ہم شاہینوں کا  ہمارے صبر کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ہم کمزور تھے بلکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ عام لوگوں کی جانیں جائیں اور دنیا کا امن تباہ ہو ۔پاکستان کی بری افواج نے جس طرح مزائل سے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا وہ منظر دنیا میں تاریخ رقم کرگیا ۔
پاکستان نے 10 مئی کے دن تین گھنٹے کی جنگ میں یہ بتا دیا ساری دنیا کو تم لاکھ تدبیریں کرو اور بے شک تعداد میں بھی بہت زیادہ آو مگر ہمارا اللہ اور جذبہ شہادت تم پر اس قدر بھاری ہے کہ تم چاہ کر اسے شکست نہیں دے سکتے ۔پاک فضائیہ نے تین گھنٹے میں دلی کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لیکر نا صرف ہندوستان بلکہ ساری دنا کو یہ بات سمجھ آگئی کہ پاکستان کی امن کی خواہش کمزوری نہیں تھی بلکہ وہ نہیں چاہتے تھے دنیا کا امن سکون برباد ہو ہر طرف عام لوگوں کا خون بہے اور دشمن ممالک کو بھی سبق اور پیغام مل گیا  جو یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ پاکستان کو آسانی  سے فتح کرلیں گے ۔یقینن ہمارے ملک کی غیور عوام، افواج پاکستان اور حکومت نے پوری دنیا کو یہ پیغام دے دیا کہ!
*تم دس بندے آکر پاکستان کو لے جاو گے تمہاری آنے والی دس نسلیں بھی پاکستان کو نہیں لے کر جاسکتیں،پاکستان ہمیشہ زندہ باد رہے گا۔*

تحریر: انزلہ صدیقی

 

3 مئی کو دنیا بھر میں “عالمی یومِ آزادیٔ صحافت” منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد صحافت کی آزادی، صحافیوں کے حقوق اور سچ بولنے کے حق کو عالمی سطح پر تسلیم کرنا اور اسے اجاگر کرنا ہے۔ یہ دن دنیا بھر کے ان تمام صحافیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع ہے جو حق کی خاطر برسرِ پیکار ہیں۔

 

3 مئی کو عالمی یومِ صحافت سے منسوب کرنے کی بنیاد 1991 میں افریقہ کے شہر ونڈہوک (Windhoek) میں ہونے والے ایک اہم اعلامیے (Windhoek Declaration) سے پڑی، جس میں آزاد اور خودمختار صحافت کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ بعد ازاں، اقوامِ متحدہ نے 1993 میں باضابطہ طور پر 3 مئی کو عالمی یومِ صحافت قرار دیا۔

 

صحافت اور آزادیٔ اظہارِ رائے کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ آزادیٔ صحافت معاشرے کا وہ آئینہ ہے جس میں خبروں اور تجزیوں کے ذریعے وہ حقائق سامنے لائے جاتے ہیں جو عام طور پر عوام کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ صحافت صرف خبریں پہنچانے کا نام نہیں، بلکہ یہ مظلوم کی آواز بننے اور معاشرتی برائیوں کو بے نقاب کرنے کا ذریعہ ہے۔ آزادیٔ صحافت ہر اس صحافی کا بنیادی حق ہے جو اپنے ملک اور پیشے سے مخلص ہے۔

 

آج کے دور میں جہاں معلومات کی بھرمار ہے، وہاں سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ جہاں سوشل میڈیا کے بے شمار فوائد ہیں، وہیں اس کے ذریعے جھوٹی خبروں اور افواہوں کے پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ ایسے حالات میں ہمیں ایسی صحافت کی ضرورت ہے جو سچ اور جھوٹ میں فرق واضح کرنے کی جرات رکھتی ہو۔ جو نہ صرف خبر دے، بلکہ اس کی تصدیق، تحقیق اور شفافیت کو بھی یقینی بنائے۔

 

یہ دن ہمیں سبق دیتا ہے کہ صحافت محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ صحافی کا قلم معاشرے کی اصلاح کا طاقتور ذریعہ بن سکتا ہے، بشرطیکہ اسے دیانتداری اور سچائی کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ ہمیشہ مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور غیر مصدقہ خبریں پھیلانے سے گریز کریں۔

 

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ایک آزاد، مضبوط اور ذمہ دار صحافت ہی ایک روشن اور باشعور معاشرے کی ضمانت ہے۔ آئیے اس عالمی یومِ صحافت کے موقع پر ہم سب عہد کریں کہ سچ کا ساتھ دیں گے، آزادیٔ اظہار کا احترام کریں گے اور صحافت کے وقار کو برقرار رکھنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔

 

فیض احمد فیض کا یہ مشہور مصرع یاد رہے:

“بول کہ لب آزاد ہیں تیرے، بول زباں اب تک تیری ہے

 

حق اور سچ کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والے تمام صحافیوں کو سلام

 

پاکستان زندہ باد!

Written By: Unzila Siddiqui

May 3 is observed globally as World Press Freedom Day, a solemn occasion dedicated to honoring the courage and sacrifice of journalists who have risked—and, in many cases, laid down—their lives in the unwavering pursuit of truth and justice. This day stands as a tribute to their resilience, integrity, and enduring commitment to informing humanity.

 

The purpose of this day is to recognize and reaffirm the essential principles of press freedom, the rights of journalists, and the universal right to express truth without fear or repression. It offers a moment to acknowledge those members of the press who continue to uphold these ideals despite intimidation, censorship, and adversity.

 

The origins of this observance trace back to the landmark Windhoek Declaration of 1991, adopted in the African city of Windhoek, which underscored the indispensable need for a free, independent, and pluralistic press. In recognition of its significance, the United Nations formally proclaimed May 3 as World Press Freedom Day in 1993.Journalism and freedom of expression are inextricably linked. A free press serves as the conscience of society, illuminating truths that might otherwise remain obscured. It is not merely a conduit for information, but a powerful instrument for amplifying marginalized voices, exposing injustice, and fostering accountability. The freedom of the press remains a fundamental right of every journalist devoted to truth and ethical responsibility.

In the contemporary information landscape, the principle of press freedom is widely acknowledged, yet its practical realization often remains fraught with challenges. Journalists who dare to speak candidly frequently encounter opposition, scrutiny, and orchestrated misinformation. Nevertheless, many persist with remarkable courage, steadfast in their mission to uphold truth and transparency.
In an age characterized by an overwhelming influx of information, the discernment between fact and falsehood has become increasingly complex. While digital platforms and social media have democratized access to information, they have simultaneously accelerated the proliferation of misinformation. In such an environment, the role of responsible journalism becomes ever more critical—journalism grounded in verification, rigorous research, and unwavering transparency.

This day serves as a powerful reminder that journalism transcends the boundaries of a mere profession; it is a profound responsibility. The pen, when guided by truth and integrity, possesses the transformative power to shape societies and inspire reform. Equally, the public bears a responsibility to seek information from credible sources and refrain from disseminating unverified narratives.
In conclusion, a free, robust, and responsible press is the cornerstone of an enlightened and informed society. On this World Press Freedom Day, let us collectively reaffirm our commitment to truth, uphold the sanctity of free expression, and honor the noble mission of journalism.

As George Orwell profoundly stated:

“Journalism is printing what someone else does not want printed; everything else is public relations.”

A tribute to all those journalists whose sacrifices continue to illuminate the path of truth and justice.

تحریر: ندیم احمد ناداں

قرآن مجید اللہ تعالٰی کی طرف سے اپنے آخری نبی حضرت محمد پر نازل کی گئی آخری کتاب ہے اور اس کی فضیلت تمام مخلوقات پر ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالٰی کی فضیلت اپنی مخلوق پر ہے ۔یہ تلاوت،ہدایت اور شفاعت کا عظیم ذریعہ ہے اس کو پڑھنے اور عمل کرنے والا انسان افضل ترین کہلاتا ہے۔
دور حاضر اور آج سے پہلے جتنے انسان اس دنیا میں آئے ،چلے گئے، جوآئیں گے اور جو موجودہ ہیں وہ تمام قرآن مجید سے زندگی کے ہر ایک پہلو کے حوالے سے علم حاصل کر سکتے ہیں گویا یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ! *قرآن مجید محض ایک کتاب نہیں بلکہ مکمل ضابطہ حیات ہے* اور اس کے پڑھنے والوں کو افضل ترین قرار دیا گیا ہے ۔
ترجمعہ:*تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور اسے دوسروں کو سکھائے۔*
اگر میں دور حاضر پر نظر ڈالوں تو ہر طرف بے سکونی اور تباہی ہے آج کا انسان دنیا کی رنگینیوں کی وجہ سے کائنات کی دلفریبیوں ،شیطان مردود کی چالوں اور نفس امارہ کی ریشہ دوانیوں کو سمجھنے سے قاصر ہے۔قدم قدم پر جال بچھے ہوئے ہیں،۔انسان آجکل انسانیت سے گر کر حیوانیت کے ذلیل ترین گڑھے میں جا گرا ہے اسے کچھ سمجھ بوجھ نہیں یا پھر جانتے ہوئے بھی انجان بنا ہوا ہے ۔ جب میں یہ سب ہوتے دیکھتا ہوں تو پھر کہنا پڑتا ہے کہ! *شیطان کی اب کوئی ضرورت نہیں یا رب بربادی انساں کو انساں ہی کافی ہے* جب دنیا میں ظلم و جبر کفرو شرک کی تاریکیاں اس قدر پھیل گئی لاکھوں کروڑوں انسان اپنی ہی ہاتھوں سے بنائے گئے بتوں (معبودوں ) کے آگے جھکائے سر اٹھانے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔اخلاقی قدریں مکمل تباہ ہوچکی تھیں جس وقت ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا تو اللہ نے ساری انسانیت کے لئے تاقیامت مکمل ضابطہ حیات قرآن مجید حضرت محمد کے ذریعہ عطاء فرمائی جس میں اللہ نے زندگی کے تمام شعبوں خواہ وہ سیاسی ہوں ،سماجی ہوں عبادات،شجاعت،عدالت، امانت،سخاوت،سعادت،تہذیب وامان بودوباش، قیام وطعام ،لین دین پیارو محبت غرض زندگی کے ہر پہلو پہلو پر ایک مکمل ضابطہ حیات دے کر بھیجا اور کسی بھی پہلو کو خالی نہ چھوڑا۔
اب اگر آج کے معاشرے پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے ہم نے کتاب اللہ کو صرف الماری کی زینت بنا کر رکھ دیا ہے ہم قرآن مجید کو صرف چند مواقع پر استعمال کرتے ہیں جیسا کہ کسی سے وعدہ کرنے کے لئے،بیٹی کی رخصتی کرنی ہو یا پھر عدالت انصاف میں گواہی دینی ہو۔اس کے علاوہ ھمارے دلوں میں نہ تو خوف خدا ہے اور نہ ہی انسانیت نام کی ہم میں کوئی چیز باقی رہ گئ ہے ۔
قرآن مجید میں تو اللہ ہمیں وعدہ پورا کرنے کا حکم دیتا ہے مگر ہم زندگی میں وعدہ خلافی کرتے ہوئے بعض نہیں آتے ارے وعدہ پورا کرنا تو بہت دور ہم قرآن مجید پر رکھے گئے ہاتھ تک کی لاج نہیں رکھ پاتے اور بڑی آسانی کے ساتھ ایک دوسرے کو دھوکا دے کر فخر محسوس کرتے ہیں ۔عدالت انصاف میں قرآن مجید پر جھوٹی گواہی دے کر امیروں کو بچانے کے بعد خود کو بہت بہادر سمجھنے والے حقیقت میں اس وقت بزدل ترین ہوتے ہیں ۔بیٹی کو قرآن مجید کے سائے میں ہم رخصت تو کرتے ہیں مگر افسوس یہ نہیں بتاتے کے اپنے ازدواجی زندگی کو قرآن مجید کے مطابق گزارنا۔اپنے ہر کام میں قرآن مجید کی راہنمائی لینا تاکہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل ہو سکے۔ عدالت انصاف میں ہم قتل کے مجرموں کو جھوٹی گواہی کے ذریعے ہم بے گناہ ثابت کر دیتے ہیں اور جو بے گناہ ہے اسے ہم پھانسی کے پھندے تک پہنچا دیتے ہیں۔مگر افسوس شرم ہمیں پھر نہیں آتی اور پھر کہتے ہیں معاشرے میں بد امنی اور بے سکونی ہے ۔ارے معاشرے میں بے سکونی، تباہی وبربادی کیوں نہ ہو جب ناحق کسی کو تنگ کیا جائے گا ۔زیادتی کی جائے گی ،ناجائز قبضے کئے جائیں گے، ،ناحق لوگوں کو قتل کیا جائے گا،طاقتوروں کو چھوڑ دیا جائے اور غریب کو سزا دی جائے گی ۔جب تک یہ سب کچھ ہوتا رہے گا نہ تو معاشرے میں امن و سکون باقی رہ سکے گا اور نہ ہی ملک و قوم ترقی کر سکے گی تو میں بلا خوف کہوں گا کہ جب تک ہم سب اپنی زندگی میں قرآن مجید کو صحیح معنوں پڑھ کر عملی زندگی کا حصہ نہیں بنائیں گے نا تو انسان کی زندگی سکون میں آئے گی اور نہ ہی ہمار ہ ملک اور قوم امن و ترقی کا گہوارہ بن سکے گا ۔کسی شاعر نے اس منظر کی عکاسی کچھ اس طرح سے کی ہے کہ!
*ہر کوئی مست ہے ذوق تن آسانی ہے*
*تم مسلماں ہو ! یہ انداز مسلمانی ہے!*
*حیدری فقر ہے نہ دولت عثمانی ہے ۔*
*تم کو اسلاف سی کیا نسبت روحانی ہے ؟*
*وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر*
*اور تم خوار ہوئے تار ک قرآں ہو کر*
 ویسے تو یہ موضوع اتنا وسیع ہے کہ میں جتنا بھی لکھتا رہوں کم ہے مگر مختصر! میں اللہ سے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالٰی ہمیں صحیح معنوں میں قرآن مجید کو پڑھنے ،سمجھنے اور عملی طور پر زندگیوں شامل کرنے اور دوسروں کی اصلاح کے لئے استعمال کرنے کی توفیق عطاء فرمائے! آمین
تحریر: ندیم احمد ناداں
ویسے تو آجکل معاشرے میں انسان کے سفاک،جھوٹے،بے ایمان،دھوکے باز ہونے کی کوئی حد باقی نہیں رہی مگر کبھی کبھی ایسا منظر سامنے آتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔میں اپنی زندگی کے تجربے سے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آجکل معاشرے میں محبت صرف نام کی باقی رہ گئی ہے دل میں تو سب صرف نفرت،بغض،حسد،کینہ،جھوٹ، دھوکے نے جگہ بنا لی ہے ،یہ انسانوں کو کیا ہوگیا ہے کہ محبت نام تھا جس کا وہ کہاں گم ہو گئی ہے؟
کسی نے ایک زمانے میں بیٹوں کے ہاتھوں ماں کے قتل پر ایک شعر لکھا تھا!
*محبت اب زمینی شے نہیں ہے*
*تو اس کو ڈھونڈ خوابوں کے نگر میں*
معاشرے کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ بیٹا باپ کو قتل کررہا ہے اور باپ بیٹے کو قتل کر رہا ہے بھائی کو بھائی سے لڑوایا جارہا ہے کہیں بہن کو بھائی سے جائدادیں اور عہدے  رشتوں سے زیادہ اہم ہو چکے ہیں دولت اور عہدوں کی بنیاد پر تعلقات کو نبھایا جارہا ہے جو غریب ہے اسے اہمیت نہیں دی جارہی اور جو امیر ہے اسے بے حس ہونے کے باوجود عزت اور فوقیت دی جارہی ہے نتیجہ رشتوں سے اعتبار اٹھتا جارہا ہے چھوٹی چھوٹی باتوں پر انسان ایک دوسرے کو مارنے پر تلے ہیں، بیوی کو خاوند کے مقابلے میں کھڑا کیا جارہا ہے اور اسے گھر بسانے کی بجائے خاوند کو چھوڑ دینے کی بات کی جارہی ہے نتیجہ بہت ساری لڑکیاں کم عمری میں ہی طلاق کا تمغہ ماتھے پر سجائے گھروں میں بیٹھی ہوئی ہیں ۔وجہ معلوم کرو تو پتہ چلتا ہے کہ عدم برداشت سب سے بڑی وجہ ہے آجکل کی لڑکیاں کہتی ہیں کہ شوہر نے سمجھا نہیں، ساس نے زندگی اجیرن کی ہوئی ہے اور دوسری طرف شوہر سے پوچھو تو معلوم ہوا کہ بیوی کو کام کرنا پسند نہیں ہے ،ماں کی خدمت کرنا اسے برا لگتا ہے اور بحث ومباحثے کو اولین ترجیح دیتی ہیں اور نتیجہ طلاق کی صورت میں برآمد ہو رہا ہے،کہیں گھریلو ناچاقی  پر عورت کو بےدردی کے ساتھ قتل کیا جارہا ہے تو کہیں ایک سرکاری سکول ٹیچر کو گولی مار کر قتل کر دیا جاتا ہے بات معمولی سی ہوتی ہے اور نتیجہ اتنا خوفناک اور حیرت انگیز! یہ اتنی نفرت لوگوں کے اندر کہاں سے بھر گئی ہے؟ انسان کی جان کو اتنا سستا کیوں سمجھ لیا گیا ہے؟
محبت تو فاتح عالم ہوا کرتی تھی تو اب نفرت کیوں سایہ فگن ہوگئ ہے ،رشتے کچے دھاگوں کی طرح ٹوٹ رہے ہیں، والدین اولاد سے دور ہورہے ہیں اور بھائی بہنوں سے ،میاں بیوی کو آپس میں لڑ وایا جارہا ہے ،چھوٹی چھوٹی باتوں پر رائی سے پہاڑ بن رہے ہیں۔بڑا دل رکھنے والے کہیں گم ہو گئے ہیں چھوٹے دلوں والے ہر طرف رقص کرتے نظر آتے ہیں آسائشوں کی خواہش اور دولت کی کشش نے حالات بگاڑ کر رکھ دئے ہیں، محبت کو تو جیسے دیمک نے کھا لیا ہو! انسان ایک دوسرے پر اعتبار نہیں کر پارہا نفسا نفسی کا عالم ہے ،ہر انسان وہی کچھ کر رہا ہے جس میں صرف اس کی ذات کو سکون ملے چاہے اس کے لئے اسے کسی بھی دوسرے انسان کی جان کیوں نہ لینی پڑے۔ماں باپ نے اولاد کو لاوارث چھوڑ دیا ہے۔میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا ہوں کہ کہ آخر کیا واقعی ہی لا تعلقی کا جھگڑا چل رہا ہے ماں باپ کے لئے تو بچے مرے جاتے تھے چاہے مصروفیات کتنی ہی کیوں نہ ہوں کتنے ہی بڑے عہدے پر کیوں نہ ہوں پھر آج یہ کیا ہوا کہ ماں سے ملاقات کا کہہ دیا تو اسے بڑا جرم سمجھ لیا گیا اور اسے بنیاد بنا کر تعلق کو ہی ختم کردیا۔میرے ایک استاد نے کہا تھا کہ ندیم!
جس معاشرے میں سے ایمانداری اور انصاف رخصت ہوجائے تو وہاں سے محبت بھی رخصت ہو جاتی ہےاس وقت تو اس بات کا مطلب سمجھ نہیں آیا تھا کہ ایمانداری کا محبت سے کیا تعلق مگر اب جب میں مختلف واقعات دیکھتا ہوں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ پہلے ہم انسان سے وعدہ کرتے ہیں اور پھر وعدہ خلافی کر کے اپنا اعتبار کھو دیتے ہیں اور اگر انہیں ان کی غلطی بتائی جائے تو دشمنی پر اتر آتے ہیں اور یہاں تک کہ انسان کو موت کے گھاٹ اتارنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔
پہلے میں سمجھتا تھا کہ زن،زر،زمین نفرت کی بنیاد ہیں مگر اب جو بات سامنے آئی ہے اور وہ سب سے آگے نکل چکی ہے وہ ہے *حسد* جس نے محبت کے پاکیزہ رشتے کو جڑ سے ختم کرکے رکھ دیا ہے ،گھروں میں نظر دوڑائیں، دفاتراور گلی محلے کا جائزہ لیں ،دکانداروں اور رشتہ داروں کے خیالات سنیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سب کے سب *حسد* کی آگ میں جل رہے ہیں۔کہتے ہیں رزق کا وعدہ اللہ تعالٰی نے کیا ہے مگر یقین نہیں رکھتے میں نے کئی رکشہ چلانے والوں کو اس بات پر بڑی طرح جھگڑا کرتے دیکھا کہ اس نے سواری کیوں بٹھا لی اور یہ جھگڑا گالم گلوچ سے ہوتے ہوئے تشدد تک پہنچ گیا ،افسوس دلوں کی کشادگی ،محبت ،ایمانداری اور وعدہ ،امانت میں خیانت کرکے کہتے ہیں کہ معاشرے سے برکت اٹھ گئی ہے *مگر میں یہ کہتا ہوں کہ سچائی تو یہ ہے کہ برکت سے پہلے محبت اٹھ گئی ہے

تحریر: عمر عبد الرحمن جنجوعہ

عالمی منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے، اور ایسے میں پاکستان کا ابھرتا ہوا مثبت چہرہ نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں بین الاقوامی اداروں اور عالمی طاقتوں کی جانب سے پاکستان کے بارے میں جو تاثرات سامنے آئے ہیں، وہ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ملک درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ عالمی اداروں نے پاکستان کی معاشی استحکام، اصلاحات اور پالیسی اقدامات کو سراہا ہے، جو ایک بڑی سفارتی اور اقتصادی کامیابی ہے۔
اس مثبت تبدیلی کے پیچھے جہاں ریاستی اداروں کا مضبوط کردار ہے، وہیں قیادت کی بصیرت بھی نمایاں ہے۔ فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر کی قیادت میں سیکیورٹی صورتحال میں بہتری آئی ہے، جس نے سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا۔ ان کی پیشہ ورانہ حکمت عملی نے نہ صرف داخلی استحکام کو مضبوط کیا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں بھی اضافہ کیا۔
اسی طرح شہباز شریف نے بطور وزیر اعظم معاشی بحالی، سفارتی روابط اور ترقیاتی منصوبوں پر بھرپور توجہ دی۔ ان کی حکومت نے مشکل فیصلے کیے، جن کے مثبت اثرات اب سامنے آ رہے ہیں۔ بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ، عالمی فورمز پر فعال شرکت اور علاقائی تعاون کے فروغ میں ان کا کردار قابل ذکر ہے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی سفارتی محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کیا اور مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی سفارتی کوششوں کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کو ایک ذمہ دار اور ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اب اگر ہم آج کے عالمی حالات، خصوصاً ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو دیکھیں تو صورتحال مزید حساس ہو جاتی ہے۔ اس ممکنہ بڑے تصادم، جسے بعض حلقے تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ قرار دے رہے تھے، نے پوری دنیا کو اضطراب میں مبتلا کر دیا۔ تاہم اس کشیدگی میں عارضی جنگ بندی اور پھر مستقل جنگ بندی کی کوششوں میں پاکستان کا کردار نہایت اہم اور قابل تحسین رہا۔
پاکستان نے نہ صرف سفارتی سطح پر متوازن اور ذمہ دار مؤقف اپنایا بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے بھی دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ امن کا علمبردار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کا مورال بلند ہوا اور اس کی حیثیت ایک سنجیدہ اور مؤثر ریاست کے طور پر مزید مستحکم ہوئی۔ حتیٰ کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور پڑوسی ملک کے اعتدال پسند سیاسی رہنما بھی پاکستان کے کردار کو سراہنے پر مجبور نظر آئے، جو ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔
اسی تناظر میں شہباز شریف کے سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے دورے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، جن کے ذریعے پاکستان نے مسلم دنیا کو قریب لانے اور مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی کوشش کی۔ دوسری جانب حافظ عاصم منیر اور محسن نقوی کا ایران کے دارالحکومت تہران جانا ایک غیر معمولی اقدام تھا۔ جنگ زدہ حالات میں کسی ملک کی اعلیٰ قیادت کا خود وہاں جانا کم ہی دیکھنے میں آتا ہے، مگر یہ پاکستان کے امن کے لیے سنجیدہ عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
یہ تمام اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان نے نہ صرف اپنے آپ کو عالمی سطح پر منوایا بلکہ ایک ذمہ دار، فعال اور امن پسند ریاست کے طور پر اپنی پہچان بھی مضبوط کی۔ یہ کامیابیاں ان ہی افراد کی قیادت میں ممکن ہوئیں، جو آج ملک کو مشکل حالات سے نکال کر استحکام کی طرف لے جا رہے ہیں۔
تاہم، اس تمام مثبت پیش رفت کے باوجود ایک تلخ حقیقت بھی موجود ہے۔ ملک کے اندر ایک ایسا طبقہ بھی پایا جاتا ہے جو ہر کامیابی کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اس گروہ کے نزدیک ایک خاص شخصیت کی اہمیت پاکستان سے بھی بڑھ کر ہے، اور یہی سوچ قومی بیانیے کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ جب بھی پاکستان عالمی سطح پر کوئی کامیابی حاصل کرتا ہے، یہ عناصر تنقید کا طوفان کھڑا کر دیتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس داخلی تنقید اور انڈین میڈیا کے بیانیے میں حیرت انگیز مماثلت نظر آتی ہے۔ بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کوئی نئی بات نہیں، مگر جب ملک کے اندر سے بھی وہی آوازیں بلند ہوں تو یہ لمحہ فکریہ بن جاتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ عناصر دانستہ یا نادانستہ طور پر دشمن کے بیانیے کو تقویت دے رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی اجتماعی کاوشوں کا نتیجہ ہوتی ہے، نہ کہ کسی ایک فرد یا گروہ کی۔ ہمیں شخصیات سے بالاتر ہو کر سوچنا ہوگا۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ کون سا وژن، کون سی پالیسی اور کون سی حکمت عملی ملک کو آگے لے جا رہی ہے۔ اگر پاکستان عالمی سطح پر مثبت پہچان بنا رہا ہے، تو اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے، نہ کہ اسے متنازع بنایا جائے۔
آج دنیا کے بیشتر ممالک پاکستان کی تعریف کر رہے ہیں۔ خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری، چین کے ساتھ اقتصادی تعاون، اور مغربی دنیا کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان ایک بار پھر عالمی برادری میں اپنی جگہ مضبوط کر رہا ہے۔ چند مخالف آوازوں کو چھوڑ کر، عالمی سطح پر پاکستان کو ایک ذمہ دار، پرامن اور ترقی پذیر ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ تنقید جمہوریت کا حسن ہے، مگر تعمیری تنقید اور منفی پروپیگنڈے میں فرق ہوتا ہے۔ اگر تنقید کا مقصد صرف مخالفت برائے مخالفت ہو، تو وہ قومی مفاد کے خلاف جاتی ہے۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہماری گفتگو، ہمارے بیانات اور ہمارا رویہ ملک کے لیے فائدہ مند ہے یا نقصان دہ۔
پاکستان اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ درست فیصلے، مضبوط قیادت اور قومی یکجہتی اسے ترقی کی راہ پر گامزن رکھ سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دیں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ دنیا ہمیں کس نظر سے دیکھ رہی ہے، اور ہم خود اپنے بارے میں کیا تاثر قائم کر رہے ہیں۔
اگر ہم نے متحد ہو کر مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا جاری رکھا، تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان نہ صرف خطے بلکہ دنیا کی ایک مضبوط اور باوقار معیشت بن کر ابھرے گا۔ لیکن اگر ہم اندرونی اختلافات اور غیر ضروری تنقید میں الجھے رہے، تو یہ سفر مشکل ہو سکتا ہے۔
آخر میں یہی کہنا مناسب ہوگا کہ پاکستان کا روشن مستقبل ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم اس سفر میں رکاوٹ بننا چاہتے ہیں یا اس کا حصہ بن کر ملک کو ترقی کی نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتے ہیں۔

تحریر: ندیم احمد ناداں

انڈیا سے معرکہ کے بعد پاکستان کا وقار جس تیزی کے ساتھ دنیا میں ابھر کر سامنے آیا ہے ناقابل یقین ہے ۔وہ ملک جو کچھ عرصہ پہلے تک بلکل پستی کا شکار تھا جس کے متعلق کہا جارہا تھا کہ ڈیفالٹ کر چکا ہے اچانک سے دنیا میں ایک مرکزی حیثیت کیوں اختیار کرگیا ہے۔تکلیف تو بہت ہے کچھ لوگوں ،بکاو صحافیوں کو جن سے پاکستان کی ترقی برداشت نہیں ہو رہی جن کی زندگی کا مقصد صرف اور صرف پاکستان کی تنزلی ہے وہ جس طرح کا رول ادا کر رہے ہیں اس سے ایک بات تو صاف واضح ہو چکی ہے کہ پاکستان میں غدار کون ہیں اور وفادار کون ہیں ؟ انڈیا سے جنگ ہوئی تو ان بکاو اور دشمنوں کے ایجنٹ صحافیوں نے کہا کہ پاکستان کے آرمی چیف بکے ہوئے ہیں؟ کہا گیا شہباز شریف بکا ہوا ہے؟ مگر جیسے ہی دشمن کو جواب دیا گیا تو ان منافقوں کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملی اور اس طرح بیان بدلے جیسے ،حضور نبی اکرم کے دور میں لوگ کہتے تھے کہ ہم خدا واحد پر ایمان لے آئے ہیں مگر جب کفار سے ملتے تھے تو کہتے تھے کہ ہم تو آپ کے ساتھ ہیں، اور اس کے بعد بھی یہ لوگ بعض نہیں آئے اور مسلسل باہر بیٹھ کر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اب جب سے امریکہ، اسرائیل نے مسلم ملک ایران پر حملہ کیا تو ان منافقوں نے بہت کوشش کی کے پاکستان کو بدنام کیا جائے بالخصوص آرمی چیف، اور حکمرانوں کو امریکہ کا غلام کہا گیا ،مسلم دنیا اور بالخصوص پاکستانی عوام کے ذہنوں میں پاکستان کے متعلق بے شمار سوالات اٹھائے گئے۔لوگ بہت کنفیوژن کا شکار تھے کہ کیا پاکستان امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ہے؟ یا پھر مسلم ملک ایران کے ساتھ ؟ موجودہ حکمرانوں اور آرمی چیف کو ہر ممکن کوشش کی گئ کے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جوڑنے کی ۔اور مسلم ملک ایران کو پاکستان کے ساتھ لڑانے کی مگر وہ کہتے ہیں نا کہ ” جس کو میرا اللہ تعالٰی عزت سے نوازنا چاہے اسے کوئے چاہ کر بھی کم نہیں کر سکتا۔
ترجمہ: بے شک اللہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے زلت
آج الحمدللہ ملک پاکستان پوری دنیا کی توجہ کا مرکز ہے امریکہ بہادر جو کبھی پاکستان کو ڈکٹیٹ کرتا تھا آج اللہ کی مدد ،حکمرانوں اور آرمی چیف کی بہترین پالیسی کی وجہ سے ثالث کا کردار ادا کررہا ہے اور امریکہ جیسے ملک کو مجبور کردیا گیا کہ آج وہ پاکستان کے بنا کچھ بھی نہیں ہے۔سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ پاکستان کے جرات مند سپہ سالار عاصم منیر کا اس وقت ایران کو دوراہ کرنا جب کوئی بھی ملک دوراہ تو بہت دور ایران کے حق میں بیان تک دینے کی جرات نہیں کر رہا یہ ثابت کرتا ہے کہ ہم نہ تو کسی کے محتاج ہیں نہ ہم کسی ملک سے ڈرتے ہیں اور نہ ہی ہم کسی بھی ملک کے غلام ہیں بلک ہم ایک غیرت مند قوم ہیں اور اللہ کے حکم کے غلام ہیں اور بہادر قوم کی بہادر افواج کے سپہ سالار نے ایران کی سرزمین پر خاکی وردی پہن کر موجودہ خوف کی صورتحال میں دورہ کر کے تمام دنیا بالخصوص ان بکاو صحافیوں کو یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہمارے خون میں جزبہ ایمانی ،جزبہ شہادت اس قدر بھرا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں جھکا نہیں سکتی ۔ہمارے بہادر قابل فخر آرمی چیف کے دورہ ایران نے آیندہ آنے والے کئی برس تک ایران کے ساتھ مضبوط تعلق کی بنیاد رکھ دی ہے جس سے یقینن پوری دنیا کے مسلمانوں میں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور بالخصوص ایران کے عوام کے دلوں میں پاکستان کے لئے محبت کو مزید فروغ ملے گا اور حکمرانوں اور آرمی چیف کی وجہ سے آج کے دورہ کے بعد پاکستان کا وقار دنیا بھر میں بلند ہوگا۔اور ایک پیشن گوئی کے پاکستان کی ہاں اور نہ سے دنیا کے فیصلے ہونگے وہ بھی یقینن مکمل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔جبکہ منافق اور ملک پاکستان کے غدار صحافیوں کو بھی اس سبق سکھانے کا وقت آچکا ہے بہتر تو یہ ہے کہ یہ اپنی سمت درست کریں اور ملک دشمنوں کا ساتھ دینے پر معافی مانگیں ورنہ انکا انجام بھی ان منافقوں جیسا ہی ہوگا کہ انہیں اپنا چہرہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔

تحریر: افضل بلال

پاکستان میں بڑھتی مہنگائی کے دوران سب سے زیادہ دباؤ جس چیز پر آیا ہے وہ روزمرہ کی بنیادی ضروریات ہیں اور ان بنیادی ضروریات میں آٹا سرفہرست ہے۔ ایک عام شہری کے لیے آٹے کی قیمت صرف ایک عدد نہیں بلکہ اس کے گھر کے بجٹ، کھانے اور مجموعی معیارِ زندگی سے جڑی ہوئی ہے۔ ان حالات میں اگر آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھا جائے تو یہ براہِ راست عوامی ریلیف کے مترادف ہو گا۔ حالیہ اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو پنجاب اس حوالے سے ایک مثبت مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔ باقی صوبوں کی نسبت پنجاب میں نہ صرف آٹے کی قیمتیں کم ہیں بلکہ مارکیٹ میں استحکام بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔
صوبہ پنجاب میں حکومت کی جانب سے 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت تقریباً 1,800 روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ 10 کلو کا تھیلا تقریباً 905 روپے میں دستیاب ہے۔ یہ نرخ موجودہ معاشی حالات کے تناظر میں عام آدمی کے لیے بہت اہم ہیں۔ اوپن مارکیٹ میں اگرچہ معمولی فرق موجود ہے مگر قیمتیں زیادہ تر 1,810 سے 2,200 روپے کے درمیان رہتی ہیں۔ یہ قیمتیں دیگر صوبوں کے مقابلے میں کافی حد تک قابو میں ہیں۔ خاص طور پر لاہور اور وسطی پنجاب کے علاقوں میں یہ استحکام زیادہ واضح ہے۔ اس صورتحال کا کریڈٹ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی پالیسیوں کو دیا جا رہا ہے جن کا فوکس محض اعلانات تک محدود نہیں بلکہ عملی طور پر عوام کو ریلیف دینا ہے۔ گندم کی بہتر پیداوار، مؤثر سپلائی چین اور قیمتوں کی متواتر نگرانی نے اس استحکام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
سندھ میں حکومت نے آٹے کی قیمت 107 روپے فی کلو مقرر کی ہے جس کے مطابق 10 کلو کا تھیلا 1,070 روپے میں دستیاب ہونا چاہیے۔ ایکس مل قیمت بھی تقریباً 1,040 روپے رکھی گئی ہے تاکہ مارکیٹ میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔ تاہم اوپن مارکیٹ میں قیمتیں اکثر اس سے زیادہ دیکھنے میں آتی ہیں۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں 20 کلو کا تھیلا 2,000 سے 2,600 روپے تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں جو عام شہری کے لیے ایک بڑا بوجھ بن سکتا ہے۔ اس کے باوجود سندھ حکومت کی جانب سے سبسڈی اور گندم کی بڑے پیمانے پر خریداری جیسے اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اپریل 2026 سے ایک ملین ٹن گندم کی خریداری بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
خیبرپختونخوا میں آٹے کی قیمتیں سب سے زیادہ دیکھی جا رہی ہیں۔ حالیہ مارکیٹ سروے کے مطابق 20 کلو آٹے کا تھیلا 2,800 سے 3,100 روپے کے درمیان فروخت ہو رہا ہے۔ فی کلو قیمت 140 سے 155 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ اگرچہ حکومت نے جنوری 2026 میں سبسڈی کے تحت 20 کلو کا تھیلا تقریباً 2,220 روپے میں فراہم کرنے کی کوشش کی لیکن اوپن مارکیٹ میں اس کے اثرات محدود نظر آئے ہیں۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ صرف سبسڈی کافی نہیں بلکہ سپلائی چین اور مقامی پیداوار کو بھی مستحکم کرنا ضروری ہے۔ اگر ایک عام شہری کے طور پر تینوں صوبوں میں آٹے کی قیمت کا موازنہ کیا جائے تو فرق واضح نظر آتا ہے۔ پنجاب میں قیمتوں کا استحکام نہ صرف بہتر حکمت عملی کا نتیجہ ہے بلکہ اس سے عوام کو حقیقی ریلیف بھی مل رہا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب میں جو اقدامات کیے جا رہے ہیں وہ دیگر صوبوں کے لیے ایک قابلِ عمل ماڈل بن سکتے ہیں۔ خاص طور پر اس حوالے سے کہ کس طرح بنیادی ضروریات کو عوام کی پہنچ میں رکھا جائے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو تمام صوبے آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں مگر نتائج میں واضح فرق موجود ہے۔
پنجاب اس وقت ایک ایسے صوبے کے طور پر سامنے آ رہا ہے جہاں پالیسی اور عمل میں ہم آہنگی نظر آتی ہے۔ ایک عام آدمی کے لیے سب سے بڑی بات یہی ہے کہ اس کی بنیادی ضرورت یعنی روٹی اس کی پہنچ میں رہے۔ اگر اسی طرح پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہا تو نہ صرف قیمتوں میں مزید استحکام آئے گا بلکہ عوام کا اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔ یہی وہ عملی اقدامات ہیں جو حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے کو کم کرتے ہیں اور حقیقی معنوں میں فلاحی ریاست کی بنیاد رکھتے ہیں۔