تحریر: انزلہ صدیقی

 

3 مئی کو دنیا بھر میں “عالمی یومِ آزادیٔ صحافت” منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد صحافت کی آزادی، صحافیوں کے حقوق اور سچ بولنے کے حق کو عالمی سطح پر تسلیم کرنا اور اسے اجاگر کرنا ہے۔ یہ دن دنیا بھر کے ان تمام صحافیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع ہے جو حق کی خاطر برسرِ پیکار ہیں۔

 

3 مئی کو عالمی یومِ صحافت سے منسوب کرنے کی بنیاد 1991 میں افریقہ کے شہر ونڈہوک (Windhoek) میں ہونے والے ایک اہم اعلامیے (Windhoek Declaration) سے پڑی، جس میں آزاد اور خودمختار صحافت کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ بعد ازاں، اقوامِ متحدہ نے 1993 میں باضابطہ طور پر 3 مئی کو عالمی یومِ صحافت قرار دیا۔

 

صحافت اور آزادیٔ اظہارِ رائے کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ آزادیٔ صحافت معاشرے کا وہ آئینہ ہے جس میں خبروں اور تجزیوں کے ذریعے وہ حقائق سامنے لائے جاتے ہیں جو عام طور پر عوام کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ صحافت صرف خبریں پہنچانے کا نام نہیں، بلکہ یہ مظلوم کی آواز بننے اور معاشرتی برائیوں کو بے نقاب کرنے کا ذریعہ ہے۔ آزادیٔ صحافت ہر اس صحافی کا بنیادی حق ہے جو اپنے ملک اور پیشے سے مخلص ہے۔

 

آج کے دور میں جہاں معلومات کی بھرمار ہے، وہاں سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ جہاں سوشل میڈیا کے بے شمار فوائد ہیں، وہیں اس کے ذریعے جھوٹی خبروں اور افواہوں کے پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ ایسے حالات میں ہمیں ایسی صحافت کی ضرورت ہے جو سچ اور جھوٹ میں فرق واضح کرنے کی جرات رکھتی ہو۔ جو نہ صرف خبر دے، بلکہ اس کی تصدیق، تحقیق اور شفافیت کو بھی یقینی بنائے۔

 

یہ دن ہمیں سبق دیتا ہے کہ صحافت محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ صحافی کا قلم معاشرے کی اصلاح کا طاقتور ذریعہ بن سکتا ہے، بشرطیکہ اسے دیانتداری اور سچائی کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ ہمیشہ مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور غیر مصدقہ خبریں پھیلانے سے گریز کریں۔

 

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ایک آزاد، مضبوط اور ذمہ دار صحافت ہی ایک روشن اور باشعور معاشرے کی ضمانت ہے۔ آئیے اس عالمی یومِ صحافت کے موقع پر ہم سب عہد کریں کہ سچ کا ساتھ دیں گے، آزادیٔ اظہار کا احترام کریں گے اور صحافت کے وقار کو برقرار رکھنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔

 

فیض احمد فیض کا یہ مشہور مصرع یاد رہے:

“بول کہ لب آزاد ہیں تیرے، بول زباں اب تک تیری ہے

 

حق اور سچ کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والے تمام صحافیوں کو سلام

 

پاکستان زندہ باد!

Written By: Unzila Siddiqui

May 3 is observed globally as World Press Freedom Day, a solemn occasion dedicated to honoring the courage and sacrifice of journalists who have risked—and, in many cases, laid down—their lives in the unwavering pursuit of truth and justice. This day stands as a tribute to their resilience, integrity, and enduring commitment to informing humanity.

 

The purpose of this day is to recognize and reaffirm the essential principles of press freedom, the rights of journalists, and the universal right to express truth without fear or repression. It offers a moment to acknowledge those members of the press who continue to uphold these ideals despite intimidation, censorship, and adversity.

 

The origins of this observance trace back to the landmark Windhoek Declaration of 1991, adopted in the African city of Windhoek, which underscored the indispensable need for a free, independent, and pluralistic press. In recognition of its significance, the United Nations formally proclaimed May 3 as World Press Freedom Day in 1993.Journalism and freedom of expression are inextricably linked. A free press serves as the conscience of society, illuminating truths that might otherwise remain obscured. It is not merely a conduit for information, but a powerful instrument for amplifying marginalized voices, exposing injustice, and fostering accountability. The freedom of the press remains a fundamental right of every journalist devoted to truth and ethical responsibility.

In the contemporary information landscape, the principle of press freedom is widely acknowledged, yet its practical realization often remains fraught with challenges. Journalists who dare to speak candidly frequently encounter opposition, scrutiny, and orchestrated misinformation. Nevertheless, many persist with remarkable courage, steadfast in their mission to uphold truth and transparency.
In an age characterized by an overwhelming influx of information, the discernment between fact and falsehood has become increasingly complex. While digital platforms and social media have democratized access to information, they have simultaneously accelerated the proliferation of misinformation. In such an environment, the role of responsible journalism becomes ever more critical—journalism grounded in verification, rigorous research, and unwavering transparency.

This day serves as a powerful reminder that journalism transcends the boundaries of a mere profession; it is a profound responsibility. The pen, when guided by truth and integrity, possesses the transformative power to shape societies and inspire reform. Equally, the public bears a responsibility to seek information from credible sources and refrain from disseminating unverified narratives.
In conclusion, a free, robust, and responsible press is the cornerstone of an enlightened and informed society. On this World Press Freedom Day, let us collectively reaffirm our commitment to truth, uphold the sanctity of free expression, and honor the noble mission of journalism.

As George Orwell profoundly stated:

“Journalism is printing what someone else does not want printed; everything else is public relations.”

A tribute to all those journalists whose sacrifices continue to illuminate the path of truth and justice.

تحریر: ندیم احمد ناداں

قرآن مجید اللہ تعالٰی کی طرف سے اپنے آخری نبی حضرت محمد پر نازل کی گئی آخری کتاب ہے اور اس کی فضیلت تمام مخلوقات پر ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالٰی کی فضیلت اپنی مخلوق پر ہے ۔یہ تلاوت،ہدایت اور شفاعت کا عظیم ذریعہ ہے اس کو پڑھنے اور عمل کرنے والا انسان افضل ترین کہلاتا ہے۔
دور حاضر اور آج سے پہلے جتنے انسان اس دنیا میں آئے ،چلے گئے، جوآئیں گے اور جو موجودہ ہیں وہ تمام قرآن مجید سے زندگی کے ہر ایک پہلو کے حوالے سے علم حاصل کر سکتے ہیں گویا یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ! *قرآن مجید محض ایک کتاب نہیں بلکہ مکمل ضابطہ حیات ہے* اور اس کے پڑھنے والوں کو افضل ترین قرار دیا گیا ہے ۔
ترجمعہ:*تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور اسے دوسروں کو سکھائے۔*
اگر میں دور حاضر پر نظر ڈالوں تو ہر طرف بے سکونی اور تباہی ہے آج کا انسان دنیا کی رنگینیوں کی وجہ سے کائنات کی دلفریبیوں ،شیطان مردود کی چالوں اور نفس امارہ کی ریشہ دوانیوں کو سمجھنے سے قاصر ہے۔قدم قدم پر جال بچھے ہوئے ہیں،۔انسان آجکل انسانیت سے گر کر حیوانیت کے ذلیل ترین گڑھے میں جا گرا ہے اسے کچھ سمجھ بوجھ نہیں یا پھر جانتے ہوئے بھی انجان بنا ہوا ہے ۔ جب میں یہ سب ہوتے دیکھتا ہوں تو پھر کہنا پڑتا ہے کہ! *شیطان کی اب کوئی ضرورت نہیں یا رب بربادی انساں کو انساں ہی کافی ہے* جب دنیا میں ظلم و جبر کفرو شرک کی تاریکیاں اس قدر پھیل گئی لاکھوں کروڑوں انسان اپنی ہی ہاتھوں سے بنائے گئے بتوں (معبودوں ) کے آگے جھکائے سر اٹھانے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔اخلاقی قدریں مکمل تباہ ہوچکی تھیں جس وقت ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا تو اللہ نے ساری انسانیت کے لئے تاقیامت مکمل ضابطہ حیات قرآن مجید حضرت محمد کے ذریعہ عطاء فرمائی جس میں اللہ نے زندگی کے تمام شعبوں خواہ وہ سیاسی ہوں ،سماجی ہوں عبادات،شجاعت،عدالت، امانت،سخاوت،سعادت،تہذیب وامان بودوباش، قیام وطعام ،لین دین پیارو محبت غرض زندگی کے ہر پہلو پہلو پر ایک مکمل ضابطہ حیات دے کر بھیجا اور کسی بھی پہلو کو خالی نہ چھوڑا۔
اب اگر آج کے معاشرے پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے ہم نے کتاب اللہ کو صرف الماری کی زینت بنا کر رکھ دیا ہے ہم قرآن مجید کو صرف چند مواقع پر استعمال کرتے ہیں جیسا کہ کسی سے وعدہ کرنے کے لئے،بیٹی کی رخصتی کرنی ہو یا پھر عدالت انصاف میں گواہی دینی ہو۔اس کے علاوہ ھمارے دلوں میں نہ تو خوف خدا ہے اور نہ ہی انسانیت نام کی ہم میں کوئی چیز باقی رہ گئ ہے ۔
قرآن مجید میں تو اللہ ہمیں وعدہ پورا کرنے کا حکم دیتا ہے مگر ہم زندگی میں وعدہ خلافی کرتے ہوئے بعض نہیں آتے ارے وعدہ پورا کرنا تو بہت دور ہم قرآن مجید پر رکھے گئے ہاتھ تک کی لاج نہیں رکھ پاتے اور بڑی آسانی کے ساتھ ایک دوسرے کو دھوکا دے کر فخر محسوس کرتے ہیں ۔عدالت انصاف میں قرآن مجید پر جھوٹی گواہی دے کر امیروں کو بچانے کے بعد خود کو بہت بہادر سمجھنے والے حقیقت میں اس وقت بزدل ترین ہوتے ہیں ۔بیٹی کو قرآن مجید کے سائے میں ہم رخصت تو کرتے ہیں مگر افسوس یہ نہیں بتاتے کے اپنے ازدواجی زندگی کو قرآن مجید کے مطابق گزارنا۔اپنے ہر کام میں قرآن مجید کی راہنمائی لینا تاکہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل ہو سکے۔ عدالت انصاف میں ہم قتل کے مجرموں کو جھوٹی گواہی کے ذریعے ہم بے گناہ ثابت کر دیتے ہیں اور جو بے گناہ ہے اسے ہم پھانسی کے پھندے تک پہنچا دیتے ہیں۔مگر افسوس شرم ہمیں پھر نہیں آتی اور پھر کہتے ہیں معاشرے میں بد امنی اور بے سکونی ہے ۔ارے معاشرے میں بے سکونی، تباہی وبربادی کیوں نہ ہو جب ناحق کسی کو تنگ کیا جائے گا ۔زیادتی کی جائے گی ،ناجائز قبضے کئے جائیں گے، ،ناحق لوگوں کو قتل کیا جائے گا،طاقتوروں کو چھوڑ دیا جائے اور غریب کو سزا دی جائے گی ۔جب تک یہ سب کچھ ہوتا رہے گا نہ تو معاشرے میں امن و سکون باقی رہ سکے گا اور نہ ہی ملک و قوم ترقی کر سکے گی تو میں بلا خوف کہوں گا کہ جب تک ہم سب اپنی زندگی میں قرآن مجید کو صحیح معنوں پڑھ کر عملی زندگی کا حصہ نہیں بنائیں گے نا تو انسان کی زندگی سکون میں آئے گی اور نہ ہی ہمار ہ ملک اور قوم امن و ترقی کا گہوارہ بن سکے گا ۔کسی شاعر نے اس منظر کی عکاسی کچھ اس طرح سے کی ہے کہ!
*ہر کوئی مست ہے ذوق تن آسانی ہے*
*تم مسلماں ہو ! یہ انداز مسلمانی ہے!*
*حیدری فقر ہے نہ دولت عثمانی ہے ۔*
*تم کو اسلاف سی کیا نسبت روحانی ہے ؟*
*وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر*
*اور تم خوار ہوئے تار ک قرآں ہو کر*
 ویسے تو یہ موضوع اتنا وسیع ہے کہ میں جتنا بھی لکھتا رہوں کم ہے مگر مختصر! میں اللہ سے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالٰی ہمیں صحیح معنوں میں قرآن مجید کو پڑھنے ،سمجھنے اور عملی طور پر زندگیوں شامل کرنے اور دوسروں کی اصلاح کے لئے استعمال کرنے کی توفیق عطاء فرمائے! آمین
تحریر: ندیم احمد ناداں
ویسے تو آجکل معاشرے میں انسان کے سفاک،جھوٹے،بے ایمان،دھوکے باز ہونے کی کوئی حد باقی نہیں رہی مگر کبھی کبھی ایسا منظر سامنے آتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔میں اپنی زندگی کے تجربے سے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آجکل معاشرے میں محبت صرف نام کی باقی رہ گئی ہے دل میں تو سب صرف نفرت،بغض،حسد،کینہ،جھوٹ، دھوکے نے جگہ بنا لی ہے ،یہ انسانوں کو کیا ہوگیا ہے کہ محبت نام تھا جس کا وہ کہاں گم ہو گئی ہے؟
کسی نے ایک زمانے میں بیٹوں کے ہاتھوں ماں کے قتل پر ایک شعر لکھا تھا!
*محبت اب زمینی شے نہیں ہے*
*تو اس کو ڈھونڈ خوابوں کے نگر میں*
معاشرے کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ بیٹا باپ کو قتل کررہا ہے اور باپ بیٹے کو قتل کر رہا ہے بھائی کو بھائی سے لڑوایا جارہا ہے کہیں بہن کو بھائی سے جائدادیں اور عہدے  رشتوں سے زیادہ اہم ہو چکے ہیں دولت اور عہدوں کی بنیاد پر تعلقات کو نبھایا جارہا ہے جو غریب ہے اسے اہمیت نہیں دی جارہی اور جو امیر ہے اسے بے حس ہونے کے باوجود عزت اور فوقیت دی جارہی ہے نتیجہ رشتوں سے اعتبار اٹھتا جارہا ہے چھوٹی چھوٹی باتوں پر انسان ایک دوسرے کو مارنے پر تلے ہیں، بیوی کو خاوند کے مقابلے میں کھڑا کیا جارہا ہے اور اسے گھر بسانے کی بجائے خاوند کو چھوڑ دینے کی بات کی جارہی ہے نتیجہ بہت ساری لڑکیاں کم عمری میں ہی طلاق کا تمغہ ماتھے پر سجائے گھروں میں بیٹھی ہوئی ہیں ۔وجہ معلوم کرو تو پتہ چلتا ہے کہ عدم برداشت سب سے بڑی وجہ ہے آجکل کی لڑکیاں کہتی ہیں کہ شوہر نے سمجھا نہیں، ساس نے زندگی اجیرن کی ہوئی ہے اور دوسری طرف شوہر سے پوچھو تو معلوم ہوا کہ بیوی کو کام کرنا پسند نہیں ہے ،ماں کی خدمت کرنا اسے برا لگتا ہے اور بحث ومباحثے کو اولین ترجیح دیتی ہیں اور نتیجہ طلاق کی صورت میں برآمد ہو رہا ہے،کہیں گھریلو ناچاقی  پر عورت کو بےدردی کے ساتھ قتل کیا جارہا ہے تو کہیں ایک سرکاری سکول ٹیچر کو گولی مار کر قتل کر دیا جاتا ہے بات معمولی سی ہوتی ہے اور نتیجہ اتنا خوفناک اور حیرت انگیز! یہ اتنی نفرت لوگوں کے اندر کہاں سے بھر گئی ہے؟ انسان کی جان کو اتنا سستا کیوں سمجھ لیا گیا ہے؟
محبت تو فاتح عالم ہوا کرتی تھی تو اب نفرت کیوں سایہ فگن ہوگئ ہے ،رشتے کچے دھاگوں کی طرح ٹوٹ رہے ہیں، والدین اولاد سے دور ہورہے ہیں اور بھائی بہنوں سے ،میاں بیوی کو آپس میں لڑ وایا جارہا ہے ،چھوٹی چھوٹی باتوں پر رائی سے پہاڑ بن رہے ہیں۔بڑا دل رکھنے والے کہیں گم ہو گئے ہیں چھوٹے دلوں والے ہر طرف رقص کرتے نظر آتے ہیں آسائشوں کی خواہش اور دولت کی کشش نے حالات بگاڑ کر رکھ دئے ہیں، محبت کو تو جیسے دیمک نے کھا لیا ہو! انسان ایک دوسرے پر اعتبار نہیں کر پارہا نفسا نفسی کا عالم ہے ،ہر انسان وہی کچھ کر رہا ہے جس میں صرف اس کی ذات کو سکون ملے چاہے اس کے لئے اسے کسی بھی دوسرے انسان کی جان کیوں نہ لینی پڑے۔ماں باپ نے اولاد کو لاوارث چھوڑ دیا ہے۔میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا ہوں کہ کہ آخر کیا واقعی ہی لا تعلقی کا جھگڑا چل رہا ہے ماں باپ کے لئے تو بچے مرے جاتے تھے چاہے مصروفیات کتنی ہی کیوں نہ ہوں کتنے ہی بڑے عہدے پر کیوں نہ ہوں پھر آج یہ کیا ہوا کہ ماں سے ملاقات کا کہہ دیا تو اسے بڑا جرم سمجھ لیا گیا اور اسے بنیاد بنا کر تعلق کو ہی ختم کردیا۔میرے ایک استاد نے کہا تھا کہ ندیم!
جس معاشرے میں سے ایمانداری اور انصاف رخصت ہوجائے تو وہاں سے محبت بھی رخصت ہو جاتی ہےاس وقت تو اس بات کا مطلب سمجھ نہیں آیا تھا کہ ایمانداری کا محبت سے کیا تعلق مگر اب جب میں مختلف واقعات دیکھتا ہوں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ پہلے ہم انسان سے وعدہ کرتے ہیں اور پھر وعدہ خلافی کر کے اپنا اعتبار کھو دیتے ہیں اور اگر انہیں ان کی غلطی بتائی جائے تو دشمنی پر اتر آتے ہیں اور یہاں تک کہ انسان کو موت کے گھاٹ اتارنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔
پہلے میں سمجھتا تھا کہ زن،زر،زمین نفرت کی بنیاد ہیں مگر اب جو بات سامنے آئی ہے اور وہ سب سے آگے نکل چکی ہے وہ ہے *حسد* جس نے محبت کے پاکیزہ رشتے کو جڑ سے ختم کرکے رکھ دیا ہے ،گھروں میں نظر دوڑائیں، دفاتراور گلی محلے کا جائزہ لیں ،دکانداروں اور رشتہ داروں کے خیالات سنیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سب کے سب *حسد* کی آگ میں جل رہے ہیں۔کہتے ہیں رزق کا وعدہ اللہ تعالٰی نے کیا ہے مگر یقین نہیں رکھتے میں نے کئی رکشہ چلانے والوں کو اس بات پر بڑی طرح جھگڑا کرتے دیکھا کہ اس نے سواری کیوں بٹھا لی اور یہ جھگڑا گالم گلوچ سے ہوتے ہوئے تشدد تک پہنچ گیا ،افسوس دلوں کی کشادگی ،محبت ،ایمانداری اور وعدہ ،امانت میں خیانت کرکے کہتے ہیں کہ معاشرے سے برکت اٹھ گئی ہے *مگر میں یہ کہتا ہوں کہ سچائی تو یہ ہے کہ برکت سے پہلے محبت اٹھ گئی ہے

تحریر: عمر عبد الرحمن جنجوعہ

عالمی منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے، اور ایسے میں پاکستان کا ابھرتا ہوا مثبت چہرہ نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں بین الاقوامی اداروں اور عالمی طاقتوں کی جانب سے پاکستان کے بارے میں جو تاثرات سامنے آئے ہیں، وہ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ملک درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ عالمی اداروں نے پاکستان کی معاشی استحکام، اصلاحات اور پالیسی اقدامات کو سراہا ہے، جو ایک بڑی سفارتی اور اقتصادی کامیابی ہے۔
اس مثبت تبدیلی کے پیچھے جہاں ریاستی اداروں کا مضبوط کردار ہے، وہیں قیادت کی بصیرت بھی نمایاں ہے۔ فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر کی قیادت میں سیکیورٹی صورتحال میں بہتری آئی ہے، جس نے سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا۔ ان کی پیشہ ورانہ حکمت عملی نے نہ صرف داخلی استحکام کو مضبوط کیا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں بھی اضافہ کیا۔
اسی طرح شہباز شریف نے بطور وزیر اعظم معاشی بحالی، سفارتی روابط اور ترقیاتی منصوبوں پر بھرپور توجہ دی۔ ان کی حکومت نے مشکل فیصلے کیے، جن کے مثبت اثرات اب سامنے آ رہے ہیں۔ بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ، عالمی فورمز پر فعال شرکت اور علاقائی تعاون کے فروغ میں ان کا کردار قابل ذکر ہے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی سفارتی محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کیا اور مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی سفارتی کوششوں کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کو ایک ذمہ دار اور ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اب اگر ہم آج کے عالمی حالات، خصوصاً ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو دیکھیں تو صورتحال مزید حساس ہو جاتی ہے۔ اس ممکنہ بڑے تصادم، جسے بعض حلقے تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ قرار دے رہے تھے، نے پوری دنیا کو اضطراب میں مبتلا کر دیا۔ تاہم اس کشیدگی میں عارضی جنگ بندی اور پھر مستقل جنگ بندی کی کوششوں میں پاکستان کا کردار نہایت اہم اور قابل تحسین رہا۔
پاکستان نے نہ صرف سفارتی سطح پر متوازن اور ذمہ دار مؤقف اپنایا بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے بھی دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ امن کا علمبردار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کا مورال بلند ہوا اور اس کی حیثیت ایک سنجیدہ اور مؤثر ریاست کے طور پر مزید مستحکم ہوئی۔ حتیٰ کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور پڑوسی ملک کے اعتدال پسند سیاسی رہنما بھی پاکستان کے کردار کو سراہنے پر مجبور نظر آئے، جو ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔
اسی تناظر میں شہباز شریف کے سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے دورے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، جن کے ذریعے پاکستان نے مسلم دنیا کو قریب لانے اور مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی کوشش کی۔ دوسری جانب حافظ عاصم منیر اور محسن نقوی کا ایران کے دارالحکومت تہران جانا ایک غیر معمولی اقدام تھا۔ جنگ زدہ حالات میں کسی ملک کی اعلیٰ قیادت کا خود وہاں جانا کم ہی دیکھنے میں آتا ہے، مگر یہ پاکستان کے امن کے لیے سنجیدہ عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
یہ تمام اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان نے نہ صرف اپنے آپ کو عالمی سطح پر منوایا بلکہ ایک ذمہ دار، فعال اور امن پسند ریاست کے طور پر اپنی پہچان بھی مضبوط کی۔ یہ کامیابیاں ان ہی افراد کی قیادت میں ممکن ہوئیں، جو آج ملک کو مشکل حالات سے نکال کر استحکام کی طرف لے جا رہے ہیں۔
تاہم، اس تمام مثبت پیش رفت کے باوجود ایک تلخ حقیقت بھی موجود ہے۔ ملک کے اندر ایک ایسا طبقہ بھی پایا جاتا ہے جو ہر کامیابی کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اس گروہ کے نزدیک ایک خاص شخصیت کی اہمیت پاکستان سے بھی بڑھ کر ہے، اور یہی سوچ قومی بیانیے کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ جب بھی پاکستان عالمی سطح پر کوئی کامیابی حاصل کرتا ہے، یہ عناصر تنقید کا طوفان کھڑا کر دیتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس داخلی تنقید اور انڈین میڈیا کے بیانیے میں حیرت انگیز مماثلت نظر آتی ہے۔ بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کوئی نئی بات نہیں، مگر جب ملک کے اندر سے بھی وہی آوازیں بلند ہوں تو یہ لمحہ فکریہ بن جاتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ عناصر دانستہ یا نادانستہ طور پر دشمن کے بیانیے کو تقویت دے رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی اجتماعی کاوشوں کا نتیجہ ہوتی ہے، نہ کہ کسی ایک فرد یا گروہ کی۔ ہمیں شخصیات سے بالاتر ہو کر سوچنا ہوگا۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ کون سا وژن، کون سی پالیسی اور کون سی حکمت عملی ملک کو آگے لے جا رہی ہے۔ اگر پاکستان عالمی سطح پر مثبت پہچان بنا رہا ہے، تو اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے، نہ کہ اسے متنازع بنایا جائے۔
آج دنیا کے بیشتر ممالک پاکستان کی تعریف کر رہے ہیں۔ خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری، چین کے ساتھ اقتصادی تعاون، اور مغربی دنیا کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان ایک بار پھر عالمی برادری میں اپنی جگہ مضبوط کر رہا ہے۔ چند مخالف آوازوں کو چھوڑ کر، عالمی سطح پر پاکستان کو ایک ذمہ دار، پرامن اور ترقی پذیر ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ تنقید جمہوریت کا حسن ہے، مگر تعمیری تنقید اور منفی پروپیگنڈے میں فرق ہوتا ہے۔ اگر تنقید کا مقصد صرف مخالفت برائے مخالفت ہو، تو وہ قومی مفاد کے خلاف جاتی ہے۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہماری گفتگو، ہمارے بیانات اور ہمارا رویہ ملک کے لیے فائدہ مند ہے یا نقصان دہ۔
پاکستان اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ درست فیصلے، مضبوط قیادت اور قومی یکجہتی اسے ترقی کی راہ پر گامزن رکھ سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دیں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ دنیا ہمیں کس نظر سے دیکھ رہی ہے، اور ہم خود اپنے بارے میں کیا تاثر قائم کر رہے ہیں۔
اگر ہم نے متحد ہو کر مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا جاری رکھا، تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان نہ صرف خطے بلکہ دنیا کی ایک مضبوط اور باوقار معیشت بن کر ابھرے گا۔ لیکن اگر ہم اندرونی اختلافات اور غیر ضروری تنقید میں الجھے رہے، تو یہ سفر مشکل ہو سکتا ہے۔
آخر میں یہی کہنا مناسب ہوگا کہ پاکستان کا روشن مستقبل ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم اس سفر میں رکاوٹ بننا چاہتے ہیں یا اس کا حصہ بن کر ملک کو ترقی کی نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتے ہیں۔

تحریر: ندیم احمد ناداں

انڈیا سے معرکہ کے بعد پاکستان کا وقار جس تیزی کے ساتھ دنیا میں ابھر کر سامنے آیا ہے ناقابل یقین ہے ۔وہ ملک جو کچھ عرصہ پہلے تک بلکل پستی کا شکار تھا جس کے متعلق کہا جارہا تھا کہ ڈیفالٹ کر چکا ہے اچانک سے دنیا میں ایک مرکزی حیثیت کیوں اختیار کرگیا ہے۔تکلیف تو بہت ہے کچھ لوگوں ،بکاو صحافیوں کو جن سے پاکستان کی ترقی برداشت نہیں ہو رہی جن کی زندگی کا مقصد صرف اور صرف پاکستان کی تنزلی ہے وہ جس طرح کا رول ادا کر رہے ہیں اس سے ایک بات تو صاف واضح ہو چکی ہے کہ پاکستان میں غدار کون ہیں اور وفادار کون ہیں ؟ انڈیا سے جنگ ہوئی تو ان بکاو اور دشمنوں کے ایجنٹ صحافیوں نے کہا کہ پاکستان کے آرمی چیف بکے ہوئے ہیں؟ کہا گیا شہباز شریف بکا ہوا ہے؟ مگر جیسے ہی دشمن کو جواب دیا گیا تو ان منافقوں کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملی اور اس طرح بیان بدلے جیسے ،حضور نبی اکرم کے دور میں لوگ کہتے تھے کہ ہم خدا واحد پر ایمان لے آئے ہیں مگر جب کفار سے ملتے تھے تو کہتے تھے کہ ہم تو آپ کے ساتھ ہیں، اور اس کے بعد بھی یہ لوگ بعض نہیں آئے اور مسلسل باہر بیٹھ کر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اب جب سے امریکہ، اسرائیل نے مسلم ملک ایران پر حملہ کیا تو ان منافقوں نے بہت کوشش کی کے پاکستان کو بدنام کیا جائے بالخصوص آرمی چیف، اور حکمرانوں کو امریکہ کا غلام کہا گیا ،مسلم دنیا اور بالخصوص پاکستانی عوام کے ذہنوں میں پاکستان کے متعلق بے شمار سوالات اٹھائے گئے۔لوگ بہت کنفیوژن کا شکار تھے کہ کیا پاکستان امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ہے؟ یا پھر مسلم ملک ایران کے ساتھ ؟ موجودہ حکمرانوں اور آرمی چیف کو ہر ممکن کوشش کی گئ کے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جوڑنے کی ۔اور مسلم ملک ایران کو پاکستان کے ساتھ لڑانے کی مگر وہ کہتے ہیں نا کہ ” جس کو میرا اللہ تعالٰی عزت سے نوازنا چاہے اسے کوئے چاہ کر بھی کم نہیں کر سکتا۔
ترجمہ: بے شک اللہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے زلت
آج الحمدللہ ملک پاکستان پوری دنیا کی توجہ کا مرکز ہے امریکہ بہادر جو کبھی پاکستان کو ڈکٹیٹ کرتا تھا آج اللہ کی مدد ،حکمرانوں اور آرمی چیف کی بہترین پالیسی کی وجہ سے ثالث کا کردار ادا کررہا ہے اور امریکہ جیسے ملک کو مجبور کردیا گیا کہ آج وہ پاکستان کے بنا کچھ بھی نہیں ہے۔سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ پاکستان کے جرات مند سپہ سالار عاصم منیر کا اس وقت ایران کو دوراہ کرنا جب کوئی بھی ملک دوراہ تو بہت دور ایران کے حق میں بیان تک دینے کی جرات نہیں کر رہا یہ ثابت کرتا ہے کہ ہم نہ تو کسی کے محتاج ہیں نہ ہم کسی ملک سے ڈرتے ہیں اور نہ ہی ہم کسی بھی ملک کے غلام ہیں بلک ہم ایک غیرت مند قوم ہیں اور اللہ کے حکم کے غلام ہیں اور بہادر قوم کی بہادر افواج کے سپہ سالار نے ایران کی سرزمین پر خاکی وردی پہن کر موجودہ خوف کی صورتحال میں دورہ کر کے تمام دنیا بالخصوص ان بکاو صحافیوں کو یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہمارے خون میں جزبہ ایمانی ،جزبہ شہادت اس قدر بھرا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں جھکا نہیں سکتی ۔ہمارے بہادر قابل فخر آرمی چیف کے دورہ ایران نے آیندہ آنے والے کئی برس تک ایران کے ساتھ مضبوط تعلق کی بنیاد رکھ دی ہے جس سے یقینن پوری دنیا کے مسلمانوں میں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور بالخصوص ایران کے عوام کے دلوں میں پاکستان کے لئے محبت کو مزید فروغ ملے گا اور حکمرانوں اور آرمی چیف کی وجہ سے آج کے دورہ کے بعد پاکستان کا وقار دنیا بھر میں بلند ہوگا۔اور ایک پیشن گوئی کے پاکستان کی ہاں اور نہ سے دنیا کے فیصلے ہونگے وہ بھی یقینن مکمل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔جبکہ منافق اور ملک پاکستان کے غدار صحافیوں کو بھی اس سبق سکھانے کا وقت آچکا ہے بہتر تو یہ ہے کہ یہ اپنی سمت درست کریں اور ملک دشمنوں کا ساتھ دینے پر معافی مانگیں ورنہ انکا انجام بھی ان منافقوں جیسا ہی ہوگا کہ انہیں اپنا چہرہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔

تحریر: افضل بلال

پاکستان میں بڑھتی مہنگائی کے دوران سب سے زیادہ دباؤ جس چیز پر آیا ہے وہ روزمرہ کی بنیادی ضروریات ہیں اور ان بنیادی ضروریات میں آٹا سرفہرست ہے۔ ایک عام شہری کے لیے آٹے کی قیمت صرف ایک عدد نہیں بلکہ اس کے گھر کے بجٹ، کھانے اور مجموعی معیارِ زندگی سے جڑی ہوئی ہے۔ ان حالات میں اگر آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھا جائے تو یہ براہِ راست عوامی ریلیف کے مترادف ہو گا۔ حالیہ اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو پنجاب اس حوالے سے ایک مثبت مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔ باقی صوبوں کی نسبت پنجاب میں نہ صرف آٹے کی قیمتیں کم ہیں بلکہ مارکیٹ میں استحکام بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔
صوبہ پنجاب میں حکومت کی جانب سے 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت تقریباً 1,800 روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ 10 کلو کا تھیلا تقریباً 905 روپے میں دستیاب ہے۔ یہ نرخ موجودہ معاشی حالات کے تناظر میں عام آدمی کے لیے بہت اہم ہیں۔ اوپن مارکیٹ میں اگرچہ معمولی فرق موجود ہے مگر قیمتیں زیادہ تر 1,810 سے 2,200 روپے کے درمیان رہتی ہیں۔ یہ قیمتیں دیگر صوبوں کے مقابلے میں کافی حد تک قابو میں ہیں۔ خاص طور پر لاہور اور وسطی پنجاب کے علاقوں میں یہ استحکام زیادہ واضح ہے۔ اس صورتحال کا کریڈٹ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی پالیسیوں کو دیا جا رہا ہے جن کا فوکس محض اعلانات تک محدود نہیں بلکہ عملی طور پر عوام کو ریلیف دینا ہے۔ گندم کی بہتر پیداوار، مؤثر سپلائی چین اور قیمتوں کی متواتر نگرانی نے اس استحکام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
سندھ میں حکومت نے آٹے کی قیمت 107 روپے فی کلو مقرر کی ہے جس کے مطابق 10 کلو کا تھیلا 1,070 روپے میں دستیاب ہونا چاہیے۔ ایکس مل قیمت بھی تقریباً 1,040 روپے رکھی گئی ہے تاکہ مارکیٹ میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔ تاہم اوپن مارکیٹ میں قیمتیں اکثر اس سے زیادہ دیکھنے میں آتی ہیں۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں 20 کلو کا تھیلا 2,000 سے 2,600 روپے تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں جو عام شہری کے لیے ایک بڑا بوجھ بن سکتا ہے۔ اس کے باوجود سندھ حکومت کی جانب سے سبسڈی اور گندم کی بڑے پیمانے پر خریداری جیسے اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اپریل 2026 سے ایک ملین ٹن گندم کی خریداری بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
خیبرپختونخوا میں آٹے کی قیمتیں سب سے زیادہ دیکھی جا رہی ہیں۔ حالیہ مارکیٹ سروے کے مطابق 20 کلو آٹے کا تھیلا 2,800 سے 3,100 روپے کے درمیان فروخت ہو رہا ہے۔ فی کلو قیمت 140 سے 155 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ اگرچہ حکومت نے جنوری 2026 میں سبسڈی کے تحت 20 کلو کا تھیلا تقریباً 2,220 روپے میں فراہم کرنے کی کوشش کی لیکن اوپن مارکیٹ میں اس کے اثرات محدود نظر آئے ہیں۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ صرف سبسڈی کافی نہیں بلکہ سپلائی چین اور مقامی پیداوار کو بھی مستحکم کرنا ضروری ہے۔ اگر ایک عام شہری کے طور پر تینوں صوبوں میں آٹے کی قیمت کا موازنہ کیا جائے تو فرق واضح نظر آتا ہے۔ پنجاب میں قیمتوں کا استحکام نہ صرف بہتر حکمت عملی کا نتیجہ ہے بلکہ اس سے عوام کو حقیقی ریلیف بھی مل رہا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب میں جو اقدامات کیے جا رہے ہیں وہ دیگر صوبوں کے لیے ایک قابلِ عمل ماڈل بن سکتے ہیں۔ خاص طور پر اس حوالے سے کہ کس طرح بنیادی ضروریات کو عوام کی پہنچ میں رکھا جائے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو تمام صوبے آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں مگر نتائج میں واضح فرق موجود ہے۔
پنجاب اس وقت ایک ایسے صوبے کے طور پر سامنے آ رہا ہے جہاں پالیسی اور عمل میں ہم آہنگی نظر آتی ہے۔ ایک عام آدمی کے لیے سب سے بڑی بات یہی ہے کہ اس کی بنیادی ضرورت یعنی روٹی اس کی پہنچ میں رہے۔ اگر اسی طرح پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہا تو نہ صرف قیمتوں میں مزید استحکام آئے گا بلکہ عوام کا اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔ یہی وہ عملی اقدامات ہیں جو حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے کو کم کرتے ہیں اور حقیقی معنوں میں فلاحی ریاست کی بنیاد رکھتے ہیں۔

تحریر: شیخ خالد زاہد

دنیا کو تصادم کی جانب دھکیلنے کی کوئی نا کوئی وجہ موجود رہتی ہے، گزشتہ دو دہائیوں سے مشرق اور مغرب کے مابین تصادم کرانے اور اسے بڑھانے کی ہر ممکن کو ششیں کی جاتی رہی ہیں۔ یہاں اولین ترجیح درپردہ اسلام اور دیگر مذاہب کے مابین تصادم کی ہر ممکن کوشش کی جاتی رہی ہے اور کچھ نہیں تو اسلامی ریاستوں کو آپس میں لڑانے کا بھی کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جاتا۔ ان کوششوں کو تاریخ میں مختلف نامو ں سے یاد رکھا جائے گا، جن میں سب سے اول نمبر پر اقتدار یا پھر سوچ کی تبدیلی کے حوالے سے کی جانے والی سازشیں۔اس کی کیا ضرورت تھی، اس کی ضرورت اسے تھی جو طاقت کومتوازن نہیں رکھنا چاہتے اور  اپنی طرف رکھنا چاہتے ہیں اور ایک ملک کی بجائے ساری دنیا پر حکومت کے خواہ ہیں۔ لیبیا میں کرنل قذافی، عراق میں صدام حسین اوراردن میں شاہ حسین اسی طرح سے دیگر مسلم ممالک میں اقتدار کو منتقل کرنے کی کوششوں میں ملکوں کوہر ممکن طور پر تباہ و برباد کردیا اور اب وہ ممالک اپنی ناتواں معیشت کو بچانے کیلئے پھر سے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کیلئے اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں جو بظاہر اب ممکن ہوتا نہیں دیکھائی دیتااس سارے عمل میں یہاں طاقتور اور طاقتور ہوتا چلا جا رہا ہے۔

بڑی ہی عجیب منطق ہے کہ جنگیں امن کیلئے لڑی جاتی ہیں گویا امن کسی خاص کو مقصود ہو اور وہ اپنا امن قائم رکھنے کیلئے دوسرے پر جنگ مسلط کردے۔ غزہ کے معصوم بچوں کو کس بے رحمی سے شہید کیا گیا کیونکہ وہ اسرائیل کے مستقبل کیلئے خطرہ بن سکتے تھے اور اسرائیل کے بچوں کو امن فراہم کرنے کیلئے فلسطین کو یکطرفہ جنگ میں دھکیل دیا گیا۔ایران میں جنگ جہاں سے شروع ہوئی وہ بھی بچیوں کے ایک اسکول پر کیا جانے والا حملہ تھا، جہاں معصوموں کو شہید کر دیا گیا۔دنیا نے طاقت کے اس توازن کو ایران کے ساتھ شروع کی گئی جنگ سے پہلے تک تسلیم کرلیا تھا لیکن جب ایران نے بھرپور مذاہمت کا مظاہرہ کیا اور بڑھ چڑھ کر دشمن پر حملے کئے تو دنیا کو محسوس ہوا کے ایران کو تر نوالا سمجھنا بہت بڑی بھول تھی۔ یہاں بین الاقوامی طاقتوں نے بھی اس مسلط کی گئی جنگ کی مخالفت کی اور شائد یہ پہلی دفعہ ہوا کہ امریکہ اور اسرائیل کو اکیلے ہی اس محاظ پر لڑنا پڑا۔ آج جہاں ہم ذرائع ابلاغ کے دور میں زندہ ہیں، حقائق کو پھر بھی منظر عام پر نہیں لانے دیا جاتا اور نئی نسل کو سطحی معلومات میں الجھا کر خوب گھسیٹا جاتا ہے یعنی حالات کہیں سے کہیں نکل جاتے ہیں۔

نویں صدی عیسوی میں اسلحہ کی ایجاد کا آغاز ہوا اور باقاعدہ موجودہ طرز کی بندوقیں سولویں صدی عیسوی میں معرض وجود میں آئیں۔ اسلحہ ہمیشہ اپنے حفاظت یا دفاع کیلئے بنایا جاتا ہے۔ جب اسلحہ ایجادکیا گیا ہوگا تو ایجاد کرنے والے نے طاقت کے توازن کا سمجھیں ایک پیمانہ ترتیب دے دیا۔ پھر ایٹم بم کی تخلیق نے اس پیمانے کی حد کردی، اس سے آگے اس صلاحیت کی مقدار ہے یعنی کس ملک کے پا س کتنا طاقتور اور موثر ایٹم بم ہے۔اول تو یہ معاملہ تھا کہ کس کے پاس کون سا اسلحہ ہے پھر یہ مشکل آگئی کہ کس کے پاس کتنا اسلحہ ہے۔ پھر ایک باضابطہ اقوام عالم نے ایک بین الاقوامی ادارہ بنایا جو اسلحہ کی روک تھام کیلئے سرگرم کیا گیا کہ اب اسلحے کی اس بڑھتی ہوئی دوڑ کو روکنے کیلئے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اقوام عالم کو مزید اسلحہ بنانے یا جمع کرنے سے روکے۔ لیکن جو طاقتور تھے وہ مزید طاقتور ہوتے چلے گئے۔

پاکستان دنیا کا وہ ملک ہے جو مسلسل امن و امان کی بقاء کیلئے داخلی اور بیرونی دشمنوں سے عرصہ دراز سے لڑ رہا ہے۔پاکستان اور پاکستانی امن و آشفتی سے محبت کرنے والے لوگ ہیں یہی وجہ ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کی اس انتہائی گھمبیر جنگ کواپنی سفارتی بصیرت،  تدبر اور بردباری سے بغیر حلیف یا حریف بنے امن میں بدل کر رکھ دیا ہے۔جسکے لئے ۰۱ اپریل بروز جمعہ کا متبرک دن چنا گیا ہے۔یہ تاریخ سنہری حروف میں رقم ہونے جارہی ہے اور اللہ کی مدد سے پاکستان کی ان نتھک کوششوں کی بدولت ایک نئے دور کا آغاز ہونے جارہا ہے، جہاں دنیا کی تاریخ ایک اور بہت بڑا معاہدہ ہونے والا ہے۔ اس دن پاکستان نے اپنی سفارتی اوردفاعی قوت کی بدولت ساری دنیا میں اپنا لوہا منوایا۔یہ تاریخی معاہدہ پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں ہونے جا رہا ہے جس میں ایران اور امریکہ کے وفودباقاعدہ جنگ نا کرنے اور مل بیٹھ کر مسائل کا حل کرنے کی مفاہمتی یاداشت پر دستخط کریں گے۔یہاں چین، ترکی اور مصر کی کوششوں کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ انہوں نے پاکستان کو ہر ممکن سفارتی تعاون فراہم کیا۔ اب یہاں یہ سوال بھی اٹھے گا کہ دنیا جو عرصہ دراز سے یک قطبی طاقت کا مظہر تھی اب سے طاقت کا توازن برابر ہوجائے گا۔ ابھی یہ سوال قبل از وقت ہے۔کیا دشمن واقعی دنیا میں امن کا خواہاں ہے یا پھر کچھ اور۔

پاکستان اللہ رب العزت کی طرف سے عطاء کردہ اس کرہ عرض پر کسی عظیم نعمت سے کم نہیں ہے اور نعمت کو اس وقت تک کچھ نہیں ہوسکتا جب تک اس نعمت کا خالق نا چاہے، اس نعمت کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے قدرت نے کس کے ذمے کیا کام لگایا ہے یہ ہم اسی وقت جان پاتے ہیں جب وہ کام سرانجام پا جاتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی، دفاعی قیادت اور وہ تمام افراد جن کی ہمہ جہت جدوجہد کی بدولت امریکہ، اسرائیل اور ایران کی جنگ کو جو تیزی سے تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہونے جا رہی تھی، رکوادیا۔ پاکستان کا نام آج دنیا کہ ہر ذرائع ابلاغ پر نمایاں طور پر پڑھا جاسکتا ہے، تقریباً دنیا نے اس جنگ کے رکنے کو نا امریکہ اور نا ہی ایران کی فتح قرار دیا بلکہ سب پاکستان کی جیت کی بات کر رہے ہیں۔ دشمنوں کے سینے میں آگ کا آتش فشاں پھٹا پڑا ہوگا، ہم ہمیشہ سے دشمن کی ہر ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں لیکن ہمیں اور بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے، ہم پاکستان کی اس قائم کی گئی بالادستی کو کسی قیمت پر گنوانا نہیں چاہتے۔اللہ ہمیشہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔

تحریر: شیخ خالد زاہد

امریکی صدر ڈولڈ ٹرمپ کچھ روز قبل تک ساری دنیا میں اپنے امن پسند ہونے کا ڈھول دونوںہاتھوں سے پیٹتے سنائی دے رہے تھے(اور اپنے آپ کو دنیا کی خوشحالی کا ٹرمپ کارڈبتارہے تھے) جس کی وجہ پاکستان پر بھارتی جارحیت کے باعث  پیدا ہونے والی سنگین صورتحال تھی(کیونکہ دونوںممالک ایٹمی طاقت ہیں)۔ اس صورتحال میں بھارت کو اپنی جان بچانے کیلئے امریکہ کاسہارا لینا پڑا، جس کا تذکرہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریباًاپنی ہر تقریرمیں کیا کہ کس طرح سے انہوں نے دونوں ممالک میں بیچ ثالثی کا کردار ادا کیا اوردنیا کو دو ایٹمی طاقتوں کے ٹکراؤ سے بچایا۔ اس ساری صورتحال کو بھارتی ذرائعابلاغ نے ساری دنیا میں جھوٹ کا لبادہ پہنا کربڑھا چڑھا کر اپنی افواج کی کارگردگیکو پیش کیا، لیکن جھوٹ تو جھوٹ ہوتا ہے جیسے جیسے وقت گزرتا گیا جھوٹ کا رنگ اترتاگیا اور بھارتی ذرائع ابلاغ کو بھی اپنی فوج کی طرح منہ کی کھانی پڑی اور ساریدنیا میں جگ ہنسائی کا سبب تقریباً پورا بھارت ہی بن کر رہ گیا، کسی نے کیا خوبکہا ہے کہ انسان کو بغیرت ہونا چاہئے عزت تو آنی جانی چیز ہے۔دوسری طرف پاکستانیافواج نے اپنی کارگردگی کا لوہا ساری دنیا میں ثبوتوں کے ساتھ پیش کر کے منوایا،جس پر دنیا نے افواج پاکستان کی صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کیا۔یہاں ہم اپنےذرائع ابلاغ کا بھی بھرپور مثبت کردار کو بھی سراہائیں گے کہ جنہوں نے حالات کوانتہائی تدبر اور فہم کے ساتھ عوام تک پہنچایا۔ پاکستانیوں نے ہمیشہ سنگین نوعیتکی معاملات(خارجی ہوں یا داخلی) میں انتہائی بردباری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیاہے۔عوام ہو یا پھر سیاسی قیادت ملک کی بقاء کیلئے سب سرجوڑ کرایک ساتھ بیٹھ جاتےہیں، یہی وجہ ہے کہ ہمارا ایسا گٹھ جوڑ (ہم آہنگی)دیکھ کر کالی بھیڑوں کی بھی ہمتجواب دے جاتی ہے کہ وہ کسی ایسی حرکت کی مرتکب ہوں جس سے وہ نمایاں ہوجائیں اورکیفر کردار کو پہنچ جائیں۔ یہاں اس بات کو بھی تسلیم کرنا چاہئے کہ ہم سبپاکستانیوں کے دل اپنی فوج کے ہر قدم کے ساتھ دھڑکتے ہیں جو ملک کی سلامتی کیلئےنا صرف سرحدوں پر کمر بستہ ہوتے ہیں، داخلتی امن و آمان کو یقینی بناتےہوئے،سفارتی محاذ پر بھی حکومت کی ہر ممکن مدد کرتے دیکھائی دیتے ہیں۔ ہمپاکستانیوں نے ہر ہر مشکل وقت میں ایک ذمہ دار قوم ہونے کا بھرپور ثبوت دیا ہے اوردشمن پر اپنی یکجہتی سے خوفناک تاثر چھوڑا ہے۔

آجذرائع اور سماجی ابلاغ کی بنیاد پرساری دنیا میں کیا کچھ ہو رہا ہے، کسی کو انصافکے کٹھرے میں لانے سے لے کر کسی کو اس کے برے کام کی سزا دلوانے تک کی ذمہ داری انہی ذرائع کی مرہون منت سجھائی دیتا ہے۔ ہم پاکستانیوں کی زندگیوں میں بہت سارےایسے امور اچانک سے شامل کر دئیے جاتے ہیں جن کی نا تو ہم نے کوئی تربیت حاصل کیہوتی ہے اور نا ہی اس کا تذکرہ درسگاہوں سے میسر ہوتا ہے، سماجی ابلاغ اس کا منہبولتا ثبوت ہے جس کی بہتات سے ہمارا معاشرہ عدم توازن کا شکار ہوتا چلا جارہا ہے۔اس کا سب سے بڑا نقصان معاشرتی اقدار کو پہنچا ہے، ہماری نئی نسل اجتماعی زندگیوںسے نکل کر انفرادی ہوتی چلی جارہی ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ایک ہی کمرےمیں موجود لوگ ایک دوسرے سے گفتگو کرنے کی بجائے اپنے اپنے موبائل میں مصروف دیکھےجاسکتے ہیں اور تقریباً فیصلے سماجی ابلاغ پر ہی کرلئے جاتے ہیں۔

بظاہرحالات کی سنگینی میں کسی قسم کی کمی محسوس نہیں کی جارہی، البتہ مذاکرات کا چرچاضرور سنائی دے رہا ہے اورغیر مصدقہ اطلاعت کے مطابق امریکہ نے ایران کو اپنا پندرہرنقاطی امن معاہدہ بھیج دیا ہے اور ایران نے اپنے چھ مطالبے ساری دنیا کے سامنےرکھ دئیے ہیں۔ ان حالات کی سنگینی کو انتہائی تدبر کیساتھ ہمارے ذرائع ابلاغ نےسنبھالا ہوا ہے اورہر قسم کی ہنگامی صورتحال کو بہت خوبی سے سنبھالا ہوا ہے اور یہکردار قابل ستائش ہے۔خبروں کا ایسا توازن کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے کیونکہ جوطاقتور ہوتا ہے اسی کی خبریں اور اسی کی کامیابی دیکھائی اور بتائی جاتی ہیں۔اسرائیل اور امریکہ جو بظاہر زمین پر طاقت کا منبہ سمجھے جاتے ہیں اور جہاں چاہتےرہے ہیں اپنی مرضی سے حملہ آور ہوجاتے رہے ہیں، اسی متکبر سوچ کے اپنے ناپاک عزائمکی تکمیل کیلئے ایران پر چڑھائی کردی، ایک اندازے کے مطابق ان کا سمجھنا تھا دودنیا پھر زیادہ سے زیادہ تین دن میں ایران گھٹنے ٹیک دیگا اور ان سے امن کی بھیکمانگے گایا پھر ایران میں اندرونی خلفشار پیدا ہوجائے گا(جس طرح عراق، لیبیا اوردیگر ممالک میں ہوتا آیا ہے) لیکن وقت گواہی دے گا کہ ایک ایسا ملک جس پر تقریباتین دہائیوں سے زیادہ سے بے شمار پابندیاں لگی ہوئیں تھیں ایسامقابلہ کر رہا ہے کہحملہ آوروں کی نیندیں حرام کردی ہیں اور انہیں اب اپنے ملک میں چھپنے کی جگہ نہیںمل رہی ہے۔ ایران نے عزم شہادت کا ایسا علم بلند کر رکھا ہے کہ ان کے رہنما شہیدہورہے ہیں لیکن علم کو نیچے نہیں گرنے دیا جا رہا ہے اور ایک سے بڑھ کر ایکاولولازم میدان میں تیار کھڑا دیکھائی دیتا ہے۔ایران کا نظریہ شھادت ہے جس کیبدولت کوئی خوف انہیں جھکنے پر آمادہ نہیں کرسکتا۔ ایران کے عزم اور حوصلے کیبدولت آمریکہ اور اسرائیل کو دنیا نے ان کی اس مسلط کی ہوئی جنگ میں پہلی دفعہتنہا چھوڑ دیا ہے اوردنیا کے امن کی خاطر غیر جانبدار رہنے کا واضح فیصلہ کر لیاہے۔اب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ کو ختم کرنا چارہے ہیں انہیں اسرائیل کیپسپائی دیکھائی دینا شروع ہوگئی ہے، لیکن اب ایران جو عرصہ دراز سے اس فیصلہ کنمعرکہ کے انتظار میں تھا،جسکی وجہ سے ایران اس مسلط شدہ جنگ کو لمبا کرنا چاہتاہےاورانجام کیلئے اپنی شرائط منوانے تک جنگ کو جاری رکھنے کا عندیہ دیا جا چکاہے۔ایران دنیاکو واضح پیغام دینا چاہتا ہے کہ ایران نا تو کسی کے خوف میں مبتلاءرہا ہے اور نا ہی کسی کے ساتھ کا محتاج ہے۔آبنائے ہرمز نے دنیا کی شہہ رگ کا کامکیا ہے جس کا تعلق ایران سے ہے یہاں ایران نے اپنی طاقت کا لوہا منوایا ہے اورامریکہ اور اسرائیل پر بھرپور دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہاں یہ بھی سمجھنا چاہئے کہصورتحال کو کس خوبی اور بہترین جنگی حکمت عملی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔شائد اسیحکمت عملی کو سمجھنے کیلئے امریکی صدر نے کچھ وقت کیلئے حملے روکنے کا اعلان کیاہے۔

آمریکہکا یہ دعوی کے ایران اس جنگ کو روکنا چاہتا ہے کہاں تک درست ہے آنے والے کچھ دنوںمیں پتہ چل جائے گا۔ کیا یہ جنگ امریکہ کے دئے گئے پندرہ نکاتی معاہدے کے تحت اپنےمنطقی انجام کو پہنچے گی یا پھر ایران کے دئیے گئے چھ نکات اس جنگ پر اثر اندازہونگے۔دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ امریکہ نے جاپان پر جب ایٹم بم مارا تھا اس وقتجاپان مستحکم و منظم حکمت عملی کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا، امریکہ اگر ایٹم بمنا مارتا تو آج دنیا کی صورتحال مختلف ہوتی اور طاقت کا توازن بھی۔ دنیا کو یہضرور ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ اگر ایران جیسا ملک پسپائی کی طرف جائے گا تو وہاپنی پوشیدہ بھرپور صلاحیت کے ساتھ جہاں تک ممکن ہوسکے گا حملہ کرے گا(ہم تو ڈوبےہیں صنم، تم کو بھی لے ڈوبییں گے)۔ ایران کیلئے سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ آج تکمسلم دنیا اپنا ایک موقف واضح کرنے سے قاصر ہے کہ وہ کہاں اور کس کے ساتھ کھڑےہیں۔کیا یہ جنگ تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہوجائے گی، کیا قرب قیامت کی نشانیاںپوری ہوچکی ہیں، اسرائیل نے تو اپنی اس جنگ کو مذہبی لڑائی قرار دے دیا ہے اور وہاسے اپنے نجات دہندہ (دجال) کے آنے تک جاری رکھنا چاہتے ہیں۔آمریکہ اس جنگ میں تیلپر قبضہ کرنے کی خواہش لے کر کھڑا ہوا ہے جبکہ اسرائیل کو گریٹر اسرائیل بننے میںجن جن ممالک سے خطرہ ہے وہ ان سے لڑرہے ہیں۔ یعنی دواتحادی (امریکہ اوراسرائیل)پوشیدہ طور پر دو الگ الگ مقاصد کے حصول کیلئے دنیا کے امن کو داؤ پرلگائے ہوئے ہیں۔

تحریر: عمر خطاب

جب خلیج کی لہریں بارود کی بو سے بوجھل ہوں اور واشنگٹن سے تہران تک جنگ کے بادل اس قدر گہرے ہو جائیں کہ عالمی معیشت کا دم گھٹنے لگے، تو ایسے میں امن کی کسی فاختہ کا اڑنا کسی معجزے سے کم نہیں لگتا۔ اپریل دوہزار چھبیس کی ان تپتی دوپہروں میں جب مشرقِ وسطیٰ ایک ہمہ گیر جنگ کے دہانے پر کھڑا تھا، اسلام آباد سے اٹھنے والی سفارتی آواز نے دنیا کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا۔ پاکستان نے، جسے اکثر داخلی مسائل کا شکار ریاست سمجھا جاتا رہا، امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کروا کر ثابت کر دیا کہ تزویراتی تنہائی کے اس دور میں بھی وہ ایک ناگزیر ریاست ہے۔ یہ محض ایک اتفاقی کامیابی نہیں تھی، بلکہ دہائیوں پر محیط اس ہیجنگ یعنی متوازن خارجہ پالیسی کا نچوڑ تھا، جس کے تحت پاکستان نے ایک طرف امریکہ کے ساتھ اپنے دفاعی اور سٹریٹیجک تعلقات کو بحال رکھا تو دوسری جانب ایران کے ساتھ اپنی ایک ہزار کلومیٹر طویل سرحد اور مذہبی و ثقافتی رشتوں کی لاج بھی رکھی۔ عملی اور سٹریٹیجک تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کا یہ کردار کسی خاردار تار پر چلنے کے مترادف تھا۔ ایک طرف واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر متوقع پالیسیاں تھیں اور دوسری جانب تہران کا اپنے تزویراتی دفاع پر اصرار، لیکن پاکستان کی منفرد حیثیت یہ ہے کہ وہ واشنگٹن میں ایران کے سفارتی مفادات کی نمائندگی کرتا ہے، جو اسے دونوں دارالحکومتوں کے بند کمروں تک ایک ایسی رسائی فراہم کرتا ہے جو کسی دوسرے ملک کے پاس نہیں۔ اس سفارتی شطرنج میں پاکستان نے خاموش بروکر کا لبادہ اوڑھ کر پیغامات کی ترسیل ہی نہیں کی بلکہ ایک ایسا فریم ورک فراہم کیا جس نے دونوں حریفوں کو چہرہ بچانے کا موقع دیا۔ پاکستان کی سول اور فوجی قیادت کے درمیان مثالی ہم آہنگی نے اس عمل کو وہ مہمیز بخشی کہ عالمی ماہرین اسے حالیہ برسوں کی سب سے بڑی سفارتی فتح قرار دینے پر مجبور ہو گئے۔اس ثالثی کے پیچھے جہاں عالمی امن کا جذبہ تھا، وہیں پاکستان کے اپنے معاشی اور داخلی محرکات بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں تھے۔ پاکستان بخوبی جانتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں لگی آگ اس کے اپنے چولہے ٹھنڈے کر سکتی ہے، کیونکہ توانائی کی ترسیل میں تعطل اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ اس کی نوزائیدہ معاشی بحالی کو نگل سکتا تھا۔ دوسری جانب ایران کے ساتھ کسی بھی براہ راست تصادم کے اثرات پاکستان کی اپنی بڑی شیعہ آبادی اور داخلی فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر بھی پڑ سکتے تھے۔ لہٰذا، اسلام آباد نے سعودی عرب، ترکی، مصر اور خاص طور پر چین کے ساتھ مل کر ایک ایسا علاقائی بلاک متحرک کیا جس نے جنگ کے شعلوں کو فی الوقت سرد کر دیا ہے۔
اب جبکہ دس اپریل سے اسلام آباد میں باقاعدہ مذاکرات کا ڈیرہ لگنے والا ہے، دنیا بھر کی نظریں اس شہر پر جمی ہیں جو کبھی افغان امن عمل کا مرکز تھا اور آج امریکہ ایران کشیدگی کے خاتمے کی امید بن کر ابھرا ہے۔ اگرچہ اسرائیل کی مخالفت اور فریقین کے درمیان دہائیوں پرانی بداعتمادی اب بھی بڑے چیلنجز ہیں اور اسرائل ہر ممکن حد تک اس ثالثی کی ناکامی کی کوشش بھی کریں گے، لیکن پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر نیت اور حکمتِ عملی درست ہو تو طوفان کے مرکز میں بھی مصلح کا خیمہ گاڑا جا سکتا ہے۔ سفر اب بھی طویل ہے اور راستہ دشوار گزار، مگر اس عارضی جنگ بندی نے دنیا کو یہ پیغام ضرور دے دیا ہے کہ امن کی راہیں ہمیشہ بندوق کی نالی سے نہیں بلکہ اسلام آباد جیسے سفارتی پلوں سے ہو کر گزرتی ہیں۔