اسلام آباد کا ابھرتا وقار اور دہلی کی سفارتی تنہائی

تحریر: فرید رزاقی

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر بارود کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ خلیجی ریاستیں دباؤ میں ہیں، عالمی تجارت سست روی کا شکار ہے، اور آبنائے ہرمز—جہاں سے دنیا کے لگ بھگ بیس فیصد تیل گزرتا ہے—ایک مستقل خطرے کی علامت بنتی جا رہی ہے۔ ایسے میں دنیا ایک ایسے کردار کی تلاش میں ہے جو تصادم کی اس آگ کو ٹھنڈا کر سکے، اور حیرت انگیز طور پر اس بار نظریں اسلام آباد پر مرکوز ہیں۔

یہ وہی پاکستان ہے جسے گزشتہ برسوں میں بھارت نے عالمی سطح پر بدنام کرنے کے لیے ہر ممکن حربہ آزمایا۔ اربوں ڈالر کی لابنگ، یورپ میں جعلی بیانیہ سازی، فیک میڈیا نیٹ ورکس اور منظم پراپیگنڈا—سب کچھ اس مقصد کے لیے تھا کہ پاکستان کو عالمی تنہائی میں دھکیل دیا جائے۔ مگر وقت نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ جھوٹ کا سفر مختصر اور سچ کی جڑیں گہری ہوتی ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ آج جب خطہ ایک بڑے بحران کے دہانے پر ہے، پاکستان نہ صرف سفارتی محاذ پر سرگرم ہے بلکہ اسے معاشی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔ خلیجی ممالک سے توانائی کا انحصار، ترسیلاتِ زر—جو پچاس فیصد سے زائد حصہ رکھتی ہیں—اور بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ، یہ سب پاکستان کو ایک نازک پوزیشن میں رکھتے ہیں۔ ایسے حالات میں اکثر ممالک کسی ایک بلاک کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں، مگر پاکستان نے اس کے برعکس ایک متوازن اور باوقار راستہ اختیار کیا ہے۔

یہی پاکستان کی اصل طاقت ہے۔
اسلام آباد میں بیک ڈور ڈپلومیسی جاری ہے، رابطے بڑھ رہے ہیں، اور ایک سنجیدہ کوشش کی جا رہی ہے کہ خطے کو مزید تباہی سے بچایا جائے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے اہم ممالک بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو نئی جہت دے رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان پر اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے—وہ بھی ایسے وقت میں جب خود پاکستان معاشی چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔

دوسری طرف بھارت کی صورتحال خاصی معنی خیز ہے۔
جو ملک خود کو خطے کا فیصلہ کن کھلاڑی سمجھتا تھا، آج وہ سفارتی منظرنامے میں کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ نہ اسے کسی اہم امن عمل میں شامل کیا جا رہا ہے، نہ ہی اس کی آواز کو وہ اہمیت دی جا رہی ہے جس کا وہ دعویدار تھا۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا یہ کہنا کہ “ہم دلال ملک نہیں ہیں” دراصل ایک سفارتی مایوسی کا اظہار ہے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ کردار نہ ہونے پر جملے ہی باقی رہ جاتے ہیں۔

یہی بھارت ماضی میں روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کا کریڈٹ لینے کے لیے بے چین تھا، مگر آج جب پاکستان عملی طور پر امن کی کوششوں میں مصروف ہے تو اسے طنز کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ دوہرا معیار اب دنیا سے پوشیدہ نہیں رہا۔

اعداد و شمار بھی اس بدلتے منظرنامے کی تصدیق کرتے ہیں۔ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، دفاعی و سیکیورٹی تعاون میں وسعت آئی ہے، اور اسٹریٹیجک پارٹنرشپ کی باتیں اب محض بیانات تک محدود نہیں رہیں بلکہ عملی شکل اختیار کر رہی ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ پاکستان نے ایک مشکل راستہ چنا ہے
دباؤ کے باوجود توازن، اور مفادات کے باوجود اصول۔
یہی وہ فرق ہے جو پاکستان کو دیگر ممالک سے ممتاز بنارہا ہے۔

آج کا پاکستان نہ صرف ایک ایٹمی طاقت ہے بلکہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ابھر رہا ہے، جو جنگ کی آگ میں تیل ڈالنے کے بجائے اسے بجھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اور یہی وہ کردار ہے جسے دنیا آج سراہ رہی ہے۔

حقیقت اب کسی وضاحت کی محتاج نہیں رہی:
جو پاکستان کو تنہا کرنے نکلے تھے، آج خود تنہائی کا شکار ہیں۔
جو پاکستان کو غیر ذمہ دار کہتے تھے، آج اسی کے کردار کو تسلیم کر رہے ہیں۔
اور جو خود کو خطے کا لیڈر سمجھتے تھے، وہ آج محض تماشائی بن کر رہ گئے ہیں۔
اسلام آباد آج صرف ایک دارالحکومت نہیں بلکہ یہ ایک سوچ ہے، ایک توازن ہے، اور ایک ایسے پاکستان کی پہچان ہے جو دباؤ کے باوجود جھکا نہیں، بلکہ دنیا کو راستہ دکھارہا ہے اور وہ امن کا راستہ ہے۔ یعنی جس پاکستان کو دنیا کے لیے بھارتی لابی نے خطرہ بنا کر پیش کیا وہ پاکستان اب دنیا میں امن کا پیامبر بن کر کھڑا ہے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *