موجودہ عالمی اور علاقائی تناظر میں پاکستان کی سفارتی پوزیشن

تحریر: عمر خطاب

موجودہ عالمی اور علاقائی تناظر میں پاکستان کی سفارتی پوزیشن کے حوالے سے بین الاقوامی ادارے اور ماہرین مختلف لیکن گہرے جائزے پیش کرتے ہیں۔ امریکی جریدے فارن پالیسی (Foreign Policy) نے اپنی حالیہ رپورٹ میں پاکستان کو خطے کا سفارتی فاتح قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد نے امریکہ، چین، سعودی عرب اور ایران کے درمیان ایک متوازن خارجہ پالیسی اپنا کر اپنی سفارتی تنہائی کا بڑی حد تک خاتمہ کر دیا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مؤثر فکسر (Fixer) یا پیغام رساں کے طور پر پاکستان کا کردار اسے خطے کے دیگر ممالک، خاص طور پر بھارت کے مقابلے میں ایک نمایاں پوزیشن دے رہا ہے جس کی وجہ سے واشنگٹن میں اسے ایک مفید شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس سفارتی پیش رفت کے ساتھ ساتھ پاکستان اپنی قومی حکمتِ عملی میں بھی بڑی تبدیلی لا رہا ہے، جہاں امریکہ میں متعین پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ کے مطابق ملک اب جغرافیائی سیاست سے ہٹ کر جغرافیائی معاشیات (Geoeconomics) پر توجہ مرکوز کر رہا ہے تاکہ توانائی، معدنیات اور آئی ٹی جیسے شعبوں میں طویل مدتی اقتصادی تعاون حاصل کیا جا سکے۔ اسی سلسلے میں سی پیک (CPEC) فیز 2 کے تحت چین کے ساتھ صنعتی ترقی، جدت اور تکنیکی تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ نجی شعبے کے لیے ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ تاہم، ان کامیابیوں کے ساتھ ساتھ کچھ سنگین خدشات بھی موجود ہیں، جیسا کہ الجزیرہ (Al Jazeera) کے تجزیہ کار ایرک شاہزار اس سفارتی تیزی کو کسی معجزے کے بجائے دباؤ کے تحت لیا گیا فیصلہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد پیدا ہونے والے خلا اور معدنی سفارت کاری کی ضرورت نے پاکستان کو دوبارہ مرکزِ نگاہ بنایا ہے، لیکن بلوچستان میں مقامی آبادی کو شامل کیے بغیر معدنی وسائل کی پالیسیاں بنانا داخلی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستان کی سفارتی ساکھ کے لیے ایک اور بڑا چیلنج اس کی اپنی سرحدوں پر جاری کشیدگی ہے، فروری 2026 سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان باقاعدہ مسلح تصادم جاری ہے جس کے نتیجے میں دونوں جانب جانی نقصان اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی ہے۔ اسپیشل یوریشیا (SpecialEurasia) کی رپورٹ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتی ہے کہ ایک طرف پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف اس کی داخلی سکیورٹی کی غیر یقینی صورتحال اور سرحدوں پر جاری جنگ اس کی بین الاقوامی ساکھ اور غیر جانبدار ثالث کی حیثیت پر سوالیہ نشان کھڑے کر رہی ہے۔

میرے خیال میں مجموعی طور پر ماہرین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ پاکستان کی موجودہ سفارتی پوزیشن بہتر ضرور ہوئی ہے لیکن یہ ایک بھربھری بنیاد پر کھڑی ہے اور جب تک ریاست اپنے اندرونی سیاسی بحرانوں، معاشی کمزوریوں اور داخلی سکیورٹی کو مستحکم نہیں کرتی، یہ بین الاقوامی فوائد عارضی ثابت ہو سکتے ہیں۔ 😊

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *