آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا دورہ ایران

تحریر: ندیم احمد ناداں

انڈیا سے معرکہ کے بعد پاکستان کا وقار جس تیزی کے ساتھ دنیا میں ابھر کر سامنے آیا ہے ناقابل یقین ہے ۔وہ ملک جو کچھ عرصہ پہلے تک بلکل پستی کا شکار تھا جس کے متعلق کہا جارہا تھا کہ ڈیفالٹ کر چکا ہے اچانک سے دنیا میں ایک مرکزی حیثیت کیوں اختیار کرگیا ہے۔تکلیف تو بہت ہے کچھ لوگوں ،بکاو صحافیوں کو جن سے پاکستان کی ترقی برداشت نہیں ہو رہی جن کی زندگی کا مقصد صرف اور صرف پاکستان کی تنزلی ہے وہ جس طرح کا رول ادا کر رہے ہیں اس سے ایک بات تو صاف واضح ہو چکی ہے کہ پاکستان میں غدار کون ہیں اور وفادار کون ہیں ؟ انڈیا سے جنگ ہوئی تو ان بکاو اور دشمنوں کے ایجنٹ صحافیوں نے کہا کہ پاکستان کے آرمی چیف بکے ہوئے ہیں؟ کہا گیا شہباز شریف بکا ہوا ہے؟ مگر جیسے ہی دشمن کو جواب دیا گیا تو ان منافقوں کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملی اور اس طرح بیان بدلے جیسے ،حضور نبی اکرم کے دور میں لوگ کہتے تھے کہ ہم خدا واحد پر ایمان لے آئے ہیں مگر جب کفار سے ملتے تھے تو کہتے تھے کہ ہم تو آپ کے ساتھ ہیں، اور اس کے بعد بھی یہ لوگ بعض نہیں آئے اور مسلسل باہر بیٹھ کر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اب جب سے امریکہ، اسرائیل نے مسلم ملک ایران پر حملہ کیا تو ان منافقوں نے بہت کوشش کی کے پاکستان کو بدنام کیا جائے بالخصوص آرمی چیف، اور حکمرانوں کو امریکہ کا غلام کہا گیا ،مسلم دنیا اور بالخصوص پاکستانی عوام کے ذہنوں میں پاکستان کے متعلق بے شمار سوالات اٹھائے گئے۔لوگ بہت کنفیوژن کا شکار تھے کہ کیا پاکستان امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ہے؟ یا پھر مسلم ملک ایران کے ساتھ ؟ موجودہ حکمرانوں اور آرمی چیف کو ہر ممکن کوشش کی گئ کے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جوڑنے کی ۔اور مسلم ملک ایران کو پاکستان کے ساتھ لڑانے کی مگر وہ کہتے ہیں نا کہ ” جس کو میرا اللہ تعالٰی عزت سے نوازنا چاہے اسے کوئے چاہ کر بھی کم نہیں کر سکتا۔
ترجمہ: بے شک اللہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے زلت
آج الحمدللہ ملک پاکستان پوری دنیا کی توجہ کا مرکز ہے امریکہ بہادر جو کبھی پاکستان کو ڈکٹیٹ کرتا تھا آج اللہ کی مدد ،حکمرانوں اور آرمی چیف کی بہترین پالیسی کی وجہ سے ثالث کا کردار ادا کررہا ہے اور امریکہ جیسے ملک کو مجبور کردیا گیا کہ آج وہ پاکستان کے بنا کچھ بھی نہیں ہے۔سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ پاکستان کے جرات مند سپہ سالار عاصم منیر کا اس وقت ایران کو دوراہ کرنا جب کوئی بھی ملک دوراہ تو بہت دور ایران کے حق میں بیان تک دینے کی جرات نہیں کر رہا یہ ثابت کرتا ہے کہ ہم نہ تو کسی کے محتاج ہیں نہ ہم کسی ملک سے ڈرتے ہیں اور نہ ہی ہم کسی بھی ملک کے غلام ہیں بلک ہم ایک غیرت مند قوم ہیں اور اللہ کے حکم کے غلام ہیں اور بہادر قوم کی بہادر افواج کے سپہ سالار نے ایران کی سرزمین پر خاکی وردی پہن کر موجودہ خوف کی صورتحال میں دورہ کر کے تمام دنیا بالخصوص ان بکاو صحافیوں کو یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہمارے خون میں جزبہ ایمانی ،جزبہ شہادت اس قدر بھرا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں جھکا نہیں سکتی ۔ہمارے بہادر قابل فخر آرمی چیف کے دورہ ایران نے آیندہ آنے والے کئی برس تک ایران کے ساتھ مضبوط تعلق کی بنیاد رکھ دی ہے جس سے یقینن پوری دنیا کے مسلمانوں میں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور بالخصوص ایران کے عوام کے دلوں میں پاکستان کے لئے محبت کو مزید فروغ ملے گا اور حکمرانوں اور آرمی چیف کی وجہ سے آج کے دورہ کے بعد پاکستان کا وقار دنیا بھر میں بلند ہوگا۔اور ایک پیشن گوئی کے پاکستان کی ہاں اور نہ سے دنیا کے فیصلے ہونگے وہ بھی یقینن مکمل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔جبکہ منافق اور ملک پاکستان کے غدار صحافیوں کو بھی اس سبق سکھانے کا وقت آچکا ہے بہتر تو یہ ہے کہ یہ اپنی سمت درست کریں اور ملک دشمنوں کا ساتھ دینے پر معافی مانگیں ورنہ انکا انجام بھی ان منافقوں جیسا ہی ہوگا کہ انہیں اپنا چہرہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *