82 ہزار ارب کے قرض تلے دبی خوددار ریاست!
تحریر:وقار اسلم

عالمی بساط پر عمومی تاثر یہی ہے کہ ریاستوں کا وقار اور ان کی خارجہ پالیسی کی اڑان ان کی معاشی مضبوطی سے مشروط ہوتی ہے، لیکن تاریخِ عالم گواہ ہے کہ بعض اوقات قوموں کا عزم اور ان کی جیو اسٹریٹجک بصیرت معاشی اعداد و شمار کو مات دے دیتی ہے۔ آج سوال یہ ہے کہ کیا تاریخ میں کبھی ایسا ہوا ہے کہ 82 ہزار ارب روپے کے ہوشربا قرض میں جکڑا کوئی ملک، عالمی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی شرائط پر خارجہ پالیسی مرتب کر رہا ہو؟ دورِ حاضر میں پاکستان کا سفارتی محاذ اس سوال کا نہایت نپا تلا اور مدلل جواب دے رہا ہے۔ اگر ماضی کے اوراق پلٹیں تو پاکستان ہمیشہ عالمی طاقتوں کی ضرورت رہا ہے؛ 1971 کے بحران میں جب رچرڈ نکسن امریکہ کے صدر تھے، تب ذوالفقار علی بھٹو نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں نام نہاد “پولش ریزولوشن” کو پرزے پرزے کر کے قومی وقار کا پرچم بلند کیا تھا۔ اسی طرح سرد جنگ کے عروج پر امریکی صدر رونالڈ ریگن اور پاکستان کے صدر جنرل ضیاء الحق کا تزویراتی گٹھ جوڑ تاریخ کا حصہ ہے، مگر ان ادوار میں پاکستان کو اہمیت تو ملی لیکن یہ تعلق برابری سے زیادہ سپر پاور کی وقتی اور علاقائی ضرورتوں کے تابع تھا۔ اس کے بعد ایک وہ دور بھی آیا جب پاکستان کی خارجہ پالیسی کو سب سے زیادہ رگیدا گیا؛ نائن الیون کے بعد جارج ڈبلیو بش اور پھر باراک اوباما کے ادوارِ صدارت میں پاکستان پر جو دباؤ ڈالا گیا، وہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے جس میں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی، مگر واشنگٹن سے صرف “ڈو مور” کی اذیت ناک گردان سنائی دیتی رہی۔ یہ وہ وقت تھا جب ڈکٹیشن کے آگے سر تسلیمِ خم کرنے کو ہی خارجہ پالیسی کی کامیابی سمجھ لیا گیا تھا۔
خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا وہ پہلا حقیقی جھونکا ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں محسوس ہوا، جب ابتدا میں پاکستان کی امداد بند کرنے والے ٹرمپ کو بالآخر افغانستان سے انخلا کے لیے پاکستان کی ناگزیر اہمیت کا اعتراف کرنا پڑا؛ ماضی کے کسی امریکی صدر نے اس طرح کھلے عام پاکستان کے کلیدی کردار کی تعریف نہیں کی تھی جس نے “ڈو مور” کے بیانیے کو منطقی انجام تک پہنچایا۔ آج پاکستان کی سفارتی پختگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی شدید ترین کشیدگی میں اسلام آباد نے نہایت جرات مندی سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کا مقدمہ لڑا ہے اور عالمی دباؤ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے برادر اسلامی ملک کے حق میں جو دو ٹوک موقف اپنایا، وہ بھٹو دور کی یاد تازہ کرتا ہے۔ اسی اصولی سفارت کاری کا نتیجہ ہے کہ آج ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور رہبرِ معظم کے دفتر کی جانب سے پاکستان کی کاوشوں کا برملا اعتراف کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی اس مربوط خارجہ پالیسی کا ایک اور روشن پہلو عرب دنیا، بالخصوص متحدہ عرب امارات کے ساتھ حالیہ سفارتی طرزِ عمل میں نظر آتا ہے؛ جب یو اے ای کی جانب سے ویزا پابندیوں یا دیگر معاملات میں پاکستان کو آنکھیں دکھانے کی کوشش کی گئی، تو اسلام آباد نے روایتی معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے کے بجائے نہایت واضح اور سفارتی وقار کے ساتھ جواب دے کر ثابت کیا کہ برادرانہ تعلقات ڈکٹیشن پر نہیں بلکہ باہمی احترام پر استوار ہوتے ہیں۔ آج عالمی اور علاقائی اسٹیک ہولڈرز حیران ہیں کہ 82 ہزار ارب روپے کے بوجھ تلے دبی معیشت کے باوجود پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اتنا ربط اور خود مختاری کیسے آ گئی؟ حقیقت یہ ہے کہ جب فیصلہ سازوں میں یکسوئی ہو اور قومی مفاد مقدم ہو، تو معاشی کمزوریاں بھی ریاست کے وقار کا راستہ نہیں روک سکتیں؛ پاکستان آج تاریخ کے صحیح دھارے پر کھڑا ہے جہاں وہ نہ کسی کیمپ کا حصہ ہے اور نہ ہی “ڈو مور” کا اسیر، بلکہ اپنے خطے کا ایک باوقار فیصلہ ساز ہے۔





Leave a Reply
Want to join the discussion?Feel free to contribute!