تحریر: انزلہ صدیقی

انسانی معاشرے کی بنیاد جس بنیادی اینٹ پر رکھی گئی ہے، اسے ‘برداشت’ کہتے ہیں۔ کائنات کا پورا نظام ایک خاص توازن اور باہمی ہم آہنگی سے چل رہا ہے۔ درخت زمین سے جڑے ہیں، دریا اپنے راستوں پر رواں ہیں، اور رات دن کو راستہ دے رہی ہے۔ اس پورے نظام میں ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنے کا ایک خاموش معاہدہ موجود ہے۔ لیکن جب ہم انسانی معاشرت، اور بالخصوص اپنے سیاسی منظر نامے پر نگاہ ڈالتے ہیں، تو روح کانپ اٹھتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہم نے اختلافِ رائے کو ایک گناہِ کبیرہ بنا دیا ہے اور سیاست، جو کبھی نظریات کی جنگ اور عوامی خدمت کا ذریعہ ہوا کرتی تھی، اب محض ذاتی دشمنی اور انا کا اکھاڑا بن چکی ہے۔ سیاست میں برداشت کا یہ فقدان ہمارے پورے معاشرتی ڈھانچے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔

 

 

اگر ہم ماضی کے دریچوں میں جھانکیں، تو سیاست کا ایک انتہائی خوبصورت اور باوقار چہرہ سامنے آتا ہے۔ ایک ایسا دور بھی تھا جب سیاسی رہنما پارلیمنٹ کے اندر ایک دوسرے پر سخت ترین تنقید کرتے تھے، لیکن جیسے ہی ایوان سے باہر نکلتے، تو ایک دوسرے کے ساتھ چائے کی پیالی پر بیٹھ کر مسکراتے ہوئے گفتگو کرتے تھے۔ وہ نظریات کے مخالف تھے، ایک دوسرے کے وجود کے دشمن نہیں تھے۔ ان کا لہجہ تلخ ضرور ہوتا تھا، لیکن اس تلخی میں بھی ایک رکھ رکھاؤ، ایک تہذیب اور ایک ادبی چاشنی ہوا کرتی تھی۔ وہ لفظوں کا چناؤ اس طرح کرتے تھے کہ بات بھی پوری ہو جائے اور سامنے والے کی عزتِ نفس پر حرف بھی نہ آئے۔ مگر آج کا سیاسی منظر نامہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ اب گفتگو میں دلیل کی جگہ چیخ و پکار نے لے لی ہے ۔

 

 

کسی بھی معاشرے کی پختگی کا اندازہ اس بات سے نہیں لگایا جاتا کہ وہاں سب کی رائے ایک ہے، بلکہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہاں مختلف آراء کو کتنی عزت اور احترام کے ساتھ سنا جاتا ہے۔

 

 

برداشت کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ دوسرے کی بات سے اتفاق کریں۔ برداشت کا اصل مفہوم یہ ہے کہ آپ کو دوسرے کے اختلاف کرنے کے حق کو تسلیم کرنا ہوگا۔ جمہوریت کا حسن ہی اس بات میں ہے کہ یہاں ہر رنگ، ہر نسل اور ہر نظریے کے انسان کو اپنی آواز اٹھانے کا حق حاصل ہو۔ جب ہم سیاست سے اس حسن کو چھین لیتے ہیں، تو جمہوریت ایک ایسی آمریت کی شکل اختیار کر لیتی ہے جہاں صرف ایک ہی آواز کو درست مانا جاتا ہے۔ آج ہماری سیاست میں یہ چلن عام ہو چکا ہے کہ جو میرے ساتھ نہیں، وہ ملک کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا۔ یہ سوچ انتہائی خطرناک ہے، کیونکہ یہ معاشرے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتی ہے اور محبتوں کی جگہ نفرتوں کی دیواریں کھڑی کر دیتی ہے۔

 

 

اس پورے منظر نامے میں سوشل میڈیا نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ جہاں ٹیکنالوجی کو انسانوں کو قریب لانا چاہیے تھا، وہاں اس نے فاصلوں اور تلخیوں میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ آج ہر شخص اپنے ہاتھ میں ایک ورچوئل ہتھیار لیے بیٹھا ہے اور جیسے ہی کسی کی رائے اس کی پسند کے معیار پر پوری نہیں اترتی، وہ اس پر لفظی گولیوں کی بوچھاڑ کر دیتا ہے۔

 

 

نرم اور دھیمے لہجے کی طاقت ہمیشہ چنگھاڑنے والی آواز سے زیادہ ہوتی ہے۔ جب آپ دھیمے لہجے میں دلیل کے ساتھ بات کرتے ہیں، تو وہ سننے والے کے دل میں اترتی ہے۔ لیکن جب آپ چیخ کر اپنی بات منوانے کی کوشش کرتے ہیں، تو سامنے والا آپ کی بات سننے کے بجائے اپنے دفاع کی دیواریں اونچی کر لیتا ہے۔ ہماری سیاسی قیادت کو یہ سمجھنے کی سخت ضرورت ہے کہ ان کا ہر بول، ان کا ہر عمل اور ان کا ہر اشارہ لاکھوں انسانوں کے رویوں کی تشکیل کرتا ہے۔ اگر قیادت خود ٹی وی اسکرینوں پر بیٹھ کر غصے، نفرت اور عدم برداشت کا مظاہرہ کرے گی، تو گلی محلوں میں رہنے والے عام کارکن سے تہذیب کی امید کیسے رکھی جا سکتی ہے؟

 

 

سیاست میں برداشت کے اس فقدان نے ہماری نوجوان نسل کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ نوجوان، جو کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں، اب سیاست کو ایک تعمیری عمل کے بجائے ایک تخریبی کھیل سمجھنے لگے ہیں۔ ان کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ رہی ہے کہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے بدتمیزی، جارحیت اور دوسروں کو نیچا دکھانا ضروری ہے۔ یہ ایک ایسی فکری پستی ہے جس کے نتائج ہمیں آنے والی کئی دہائیوں تک بھگتنا پڑیں گے۔ اگر ہم نے اب بھی اپنے رویوں پر نظرِ ثانی نہ کی، تو ہم ایک ایسا معاشرہ بن جائیں گے جہاں امن و آشتی کا تصور صرف کتابوں تک محدود رہ جائے گا۔

 

 

 

اختلاف کا ہونا زندگی کی علامت ہے۔ اگر اس دنیا میں سب لوگ ایک ہی جیسا سوچنے لگیں، تو یہ کائنات بے رنگ اور بے جان ہو جائے۔ فکر کا یہ تنوع ہی انسانی ارتقاء کا ضامن ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سیاست میں مکالمے کی روایت کو دوبارہ زندہ کریں۔ مکالمہ وہ راستہ ہے جہاں دو مختلف سوچ کے حامل افراد ایک دوسرے کے سامنے بیٹھتے ہیں، اپنی بات کہتے ہیں اور دوسرے کی بات کو ٹھنڈے دل سے سنتے ہیں۔ مکالمے کا مقصد کسی کو ہرانا یا خود کو سچا ثابت کرنا نہیں ہوتا، بلکہ اس کا مقصد ایک درمیانی راستہ تلاش کرنا ہوتا ہے جہاں سب کا بھلا ہو۔

 

 

آئیے، ایک لمحے کے لیے رکیں اور سوچیں کہ ہم اپنے ملک کو کس سمت لے کر جا رہے ہیں۔ سیاست اقتدار کے حصول کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک امانت ہے جس کا مقصد عوام کی فلاح و بہبود ہے۔ جب تک ہماری سیاست میں رواداری، درگزر اور ایک دوسرے کے احترام کا جذبہ بیدار نہیں ہوگا، ہم ایک مہذب قوم نہیں بن سکتے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی دھارے اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک میز پر بیٹھیں اور یہ عہد کریں کہ وہ اپنے لہجوں میں نرمی، دلوں میں وسعت اور سیاست میں برداشت کو دوبارہ جگہ دیں گے۔

 

 

ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، اقتدار کے سورج طلوع اور غروب ہوتے رہتے ہیں، لیکن جو چیز باقی رہ جاتی ہے وہ انسان کا کردار اور اس کا رویہ ہے۔ اگر ہم نے سیاست کی اس جنگ میں اپنی اخلاقیات اور تہذیب کو کھو دیا، تو پھر حاصل ہونے والی کوئی بھی فتح دراصل ہماری سب سے بڑی شکست ہوگی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نفرتوں کے اس بازار کو بند کریں اور محبت، اخوت اور برداشت کے چراغ روشن کریں، تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ایک پرامن اور مہذب ماحول میں سانس لے سکیں۔

 

 

 

 

Written By :  Unzila Siddiqui

 

The sun is spitting fire, the streets are deserted, and even the birds are hiding. We used to say that changing seasons bring color to Pakistan. Now, they just bring dread. By the time June rolls around, it feels as if someone has opened the hatch of a blast furnace directly over our heads. You don’t need a thermometer to tell you this; the melting, shimmering asphalt on the roads of Lahore, Karachi, Sukkur, and Nawabshah is proof enough that we are standing on the edge of an annual disaster.

 

Every year, the headlines are splashed with terms like ‘heatwave’, ‘heatstroke’, and ‘heat exhaustion.’ But let’s be clear: these are not just medical jargon or dry statistics. They are the bloody, painful stories of human beings breathing their last in overcrowded emergency wards and filling up local mortuaries. It is a tragedy we witness every single year, weep over for a week, and promptly forget.

 

As a nation, we suffer from a strange blindness. Until the disaster knocks on our own front door, or until one of our own family members collapses, we treat it as “just another news story” and flip the page.

 

We complain bitterly when the mercury touches 45°C or 50°C, but we conveniently ignore our own guilt. In the name of progress and “modernization,” we have paved over our cities, turning them into concrete jungles. Where dense, shady trees once stood, we built housing societies and commercial plazas. We axed the trees, filled the canals with dirt, and now that the earth is baking, we sit in our air-conditioned rooms wondering why it’s so hot outside. This is nature’s whip, punishing us for our own greed. Climate change is no longer a textbook debate. It is standing on our doorstep, and it’s furious.

 

Every summer, doctors scream the same warnings into the void: learn the difference between heat exhaustion and heat stroke. It is quite literally a matter of life and death.

 

Heat exhaustion is your body’s final warning. When you work for hours in the blinding heat, losing water and salt through sweat, your head throbs, you get dizzy, and your body turns to lead. If you stop, move to the shade, and drink water or ORS, you survive. But if you keep pushing, you enter the kill zone: heat stroke. This is where your internal cooling system completely breaks down. You stop sweating. Your temperature shoots up past 104°F. Your brain short-circuits, and you collapse. At that point, you have minutes to live before your organs fail.

 

But as a columnist, I cannot look at this purely as a medical crisis. There is a dark, ugly class divide hidden behind this heatwave.

 

The sun is supposed to be the ultimate equalizer—it shines on everyone. But the reality on the ground is brutally unequal. For those privileged enough to sit inside insulated homes or offices, this weather is just an annoyance, a reason to complain about the electricity bill. But for those who earn their bread under the open sky, it is a daily battle for survival.

 

For those privileged enough to sit inside insulated homes or offices, this weather is just an annoyance. But for those who earn their bread under the open sky, it is a daily battle for survival.

 

The easiest targets for this scorching afternoon are the daily wage laborers, swinging heavy iron tools by the roadside just to feed their kids tonight. It targets the delivery riders, weaving through traffic on roads that feel like ovens, just so someone can get a hot meal delivered to a cold room. The security guard standing at attention in a thick uniform, the pushcart vendor, the laborers baking at brick kilns—these are the front-line soldiers of this disaster, and they are always the first to die.

 

Meanwhile, our administration does what it always does: nothing, until the bodies start piling up. Only when the hospitals are overflowing do the authorities scramble to hold “emergency meetings”—which are always too little, too late. To make matters worse, unannounced load-shedding becomes even more brutal in the peak of summer, and the lack of clean drinking water in poor neighborhoods remains a permanent curse.

 

But can the rest of us wash our hands of this? Do we have no moral backbone left? We spend thousands on superficial luxuries every day. Can we not put out a simple clay pot (matka) of cold water outside our gates for passersby and birds? Can we not tell our security guards, maids, and drivers to sit down and rest between noon and 4:00 PM? Humanity demands that we lighten their load, but our collective apathy has become far deadlier than the sun.

 

We need to stop treating this as a passing season. This heat is our permanent reality, and we have to fight it.

 

Our municipal corporate bodies need to stop issuing meaningless press releases and actually set up functional, fully equipped heatstroke centers in every hospital, stocked with ice, water, and emergency meds.

 

More than that, we have to look out for each other. Handing a glass of cold water to a sweating laborer or offering a patch of shade to someone who has none isn’t just charity—right now, it is the highest form of worship.

 

Until we realize that shade and clean water are fundamental human rights, and not luxuries reserved for the rich, these heatwaves will keep filling our graveyards. It is time to tear down the concrete and bring back the green. If we don’t act now to save our land and our poorest citizens, nature’s revenge next year will be even worse—and we won’t even have the time left to regret it.

تحریر: انزلہ صدیقی

 

 آگ برس رہا ہے، سڑکیں سنسان ہیں، اور پرندے بھی چھاؤں ڈھونڈ رہے ہیں ۔کہتے ہیں موسم بدلتے ہیں تو رنگ لاتے ہیں، مگر اب ہمارے ہاں موسم بدلتے ہیں تو رنگ نہیں، بلکہ خوف اور سنسنی لاتے ہیں۔ جون کا آغاز ہوتے ہی یوں لگتا ہے جیسے آسمان سے کسی نے آگ کی بھٹی کا منہ اس دھرتی کی طرف کھول دیا ہو۔ سورج سوا نیزے پر ہو یا نہ ہو، لیکن لاہور, کراچی، سکھر اور نوابشاہ کی سڑکوں پر پگھلتا ہوا لک لکاتا ڈامر (کولتار) اور اڑتی ہوئی لو یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ ہم کسی قدرتی آفت کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ یہ جو ہر سال مئی اور جون کے مہینوں میں اخبارات کی سرخیوں میں ’ہیٹ ویو‘، ’ہیٹ سٹروک‘ اور ’ہیٹ ایگزاسشن‘ جیسے بھاری بھرکم انگریزی الفاظ جلی حروف میں چھپتے ہیں نا، یہ محض طبی اصطلاحات یا خشک سائنسی اعداد و شمار نہیں ہیں۔ یہ ہمارے اردگرد جیتے جاگتے انسانوں کی بے بسی، سسکتی سانسوں، ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز کی افراتفری اور سرد خانوں میں گرتی لاشوں کی وہ دردناک داستانیں ہیں جنہیں ہم ہر سال دیکھتے ہیں، روتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں۔

 

 

ہم بحیثیت قوم بھی عجیب المیے کا شکار ہیں۔ جب تک کوئی آفت ہمارے اپنے گھر کا دروازہ نہ کھٹکھٹا دے، جب تک ہمارا اپنا کوئی پیارا اس کی زد میں نہ آ جائے، ہم اسے ’صرف ایک خبر‘ سمجھتے ہیں اور صفحہ پلٹ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ پچھلے چند سالوں سے مئی اور جون کے مہینے پچھلے سارے ریکارڈ توڑ رہے ہیں۔ درجہ حرارت جب 45 اور 50 ڈگری کو چھونے لگتا ہے تو ہم ہائے وائے مچاتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ اس تپش کو دعوت دینے میں ہمارا اپنا کتنا ہاتھ ہے۔ ہم نے ترقی اور جدیدیت کے نام پر اپنے شہروں کو کنکریٹ اور سیمنٹ کا جنگل بنا دیا۔ جہاں گھنے اور سائے دار درخت ہوا کرتے تھے، وہاں ہم نے بڑی بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیاں اور کمرشل پلازے کھڑے کر دیے۔ درخت بے دردی سے کاٹے گئے، نہریں اور تالاب مٹی سے بھر دیے گئے، اور اب جب زمین تپ رہی ہے تو ہم ائیر کنڈیشنر کی ٹھنڈک میں بیٹھ کر سائے تلاش کر رہے ہیں۔ یہ قدرت کا وہ تازیانہ ہے جو ہمیں ہمارے ہی کیے کی سزا دے رہا ہے۔ Global Warming یا موسمیاتی تبدیلی اب کوئی کتابی بحث نہیں رہی، یہ ہمارے دروازے پر کھڑی ایک تلخ حقیقت ہے۔

 

 

طبی ماہرین ہر سال چیخ چیخ کر تھک جاتے ہیں کہ بھائی! ہیٹ ویو کے دوران اپنے جسم کے نظام کو سمجھو۔ ’ہیٹ ایگزاسشن‘ اور ’ہیٹ سٹروک‘ میں ایک واضح فرق ہے جسے جاننا ہر شہری کے لیے زندگی اور موت کا سوال بن سکتا ہے۔ جب شدید گرمی میں انسان مسلسل کام کرتا ہے اور اس کے جسم کا پانی اور نمکیات پسینے کے راستے ختم ہونے لگتے ہیں، تو سر میں شدید درد، چکر آنا، متلی، کمزوری اور جسم نڈھال ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ ’ہیٹ ایگزاسشن‘ ہے—یعنی آپ کے جسم کا آخری انتباہ (Warning Sign) کہ بس اب رک جاؤ۔ اگر اس موڑ پر انسان خود کو نہ سنبھالے، کسی ٹھنڈی یا سائے دار جگہ پر نہ جائے، اور فوری طور پر او آر ایس یا نمکول کا پانی نہ پیے، تو معاملہ اگلی ہولناک سٹیج پر چلا جاتا ہے جسے ہم ’ہیٹ سٹروک‘ کہتے ہیں۔ اور ہیٹ سٹروک کوئی ملاحظہ یا مذاق نہیں ہے۔ یہ وہ جان لیوا حالت ہے جہاں انسانی جسم کا اپنا قدرتی کولنگ سسٹم مکمل طور پر فیل ہو جاتا ہے۔ پسینہ آنا بند ہو جاتا ہے، جسم کا درجہ حرارت 104 یا 105 ڈگری تک پہنچ جاتا ہے، دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور انسان بے ہوش ہو کر گر پڑتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں زندگی اور موت کے درمیان فاصلہ چند منٹوں کا رہ جاتا ہے، اور اگر فوری طبی امداد نہ ملے تو اعضاء ناکارہ ہو جاتے ہیں۔

 

لیکن یہاں ایک کالم نگار کی حیثیت سے مجھے اس معاشرتی اور طبقاتی فرق (Social Inequality) کا اعتراف کرنا ہے جو اس ہیٹ ویو کے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ گرمی تو سب کے لیے برابر ہونی چاہیے تھی، کیونکہ سورج تو سب پر یکساں چمکتا ہے، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس ہیٹ ویو کا اثر ہر ایک پر یکساں نہیں ہوتا۔ جو لوگ اپنے گھروں یا دفاتر کی چھت تلے محفوظ ہیں، ان کے لیے یہ موسم صرف ایک سفری کوفت یا عام سی پریشانی ہے، لیکن جن کا روزگار ہی کھلے آسمان تلے ہے، ان کے لیے یہ ایک کڑی آزمائش بن جاتا ہے۔ شدید گرمی کی یہ لہر ان لوگوں کے لیے تو شاید اتنی مہلک نہ ہو جنہیں سائے اور چار دیواری کی سہولت میسر ہے، لیکن ہمارے معاشرے کا وہ طبقہ جو شدید دھوپ میں باہر نکلنے پر مجبور ہے، وہ اس کا سب سے پہلا شکار بنتا ہے۔ اس تپتی دوپہر کا پہلا اور سب سے آسان نشانہ وہ دہاڑی دار مزدور ہے جو اپنے بچوں کے دو وقت کے چولہے کے لیے سڑک کنارے لوہے کے اوزار اور بیلچہ چلا رہا ہوتا ہے۔ اس کا نشانہ وہ بائیک رائیڈر ہے جو کسی کے گھر پیزا یا پارسل پہنچانے کے لیے تندور بنی سڑکوں پر خوار ہو رہا ہوتا ہے۔

 

ٹریفک سگنل پر کھڑا سکیورٹی گارڈ، ریڑھی بان، اور بھٹے پر کام کرنے والے مزدور اس آفت کے ہراول دستے ہیں جنہیں موت سب سے پہلے اپنی آغوش میں لیتی ہے۔

ہمارے انتظامی ڈھانچے کا روایتی المیہ یہ رہا ہے کہ ہم ہمیشہ پیش بندی کے بجائے حادثہ گزر جانے کے بعد اقدامات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ جب حالات قابو سے باہر ہونے لگتے ہیں اور ہسپتالوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے، تب جا کر ہنگامی اقدامات کا فیصلہ کیا جاتا ہے، جو کہ تلافی کے لیے کافی نہیں ہوتا۔ لوڈ شیڈنگ کا جن اس شدید گرمی میں مزید بے لگام ہو جاتا ہے، غریب بستیوں میں پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی ایک مستقل عذاب بن چکی ہے۔ اس سنگین صورتحال میں متعلقہ اداروں کی منصوبہ بندی اور ترجیحات کا فقدان واضح طور پر محسوس ہوتا ہے، جس پر اب سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن کیا بحیثیت معاشرہ ہم بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟ کیا ہماری کوئی اخلاقی ذمہ داری نہیں بنتی؟ ہم جو روزانہ لاکھوں روپے فضول کاموں میں اڑا دیتے ہیں، کیا ہم اپنے گھروں اور دکانوں کے باہر راہگیروں اور پرندوں کے لیے پانی کا ایک مٹکا یا ٹینک نہیں رکھ سکتے؟ کیا ہم اپنے ماتحت کام کرنے والے ملازمین، چوکیداروں اور مزدوروں کو دوپہر بارہ سے چار بجے کے درمیان کام سے تھوڑا سا آرام نہیں دے سکتے؟ انسانیت تو یہ کہتی ہے کہ اس موسم میں ان کا بوجھ ہلکا کیا جائے، مگر افسوس کہ ہماری بے حسی موسم کی شدت سے زیادہ مہلک ہو چکی ہے۔

 

خدارا! اس ہیٹ ویو کو معمولی مت سمجھیں۔ جب تک بہت زیادہ مجبوری نہ ہو، دوپہر کے وقت گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں۔ پانی کا استعمال اس حد تک کریں کہ پیاس نہ بھی ہو تو بھی چند گھونٹ پی لیں۔ اپنے بچوں اور بزرگوں کا خاص خیال رکھیں کیونکہ ان کا مدافعت کا نظام اس سختی کو برداشت نہیں کر پاتا۔ پیاس بجھانے کے لیے چائے یا کیفین والے مشروبات کے بجائے لسی, لیموں پانی اور ستو کا استعمال کریں۔

موسمِ گرما کی یہ شدت اب کوئی عارضی آفت نہیں بلکہ ہماری سالانہ حقیقت بن چکی ہے۔ ہمیں اب اس کے ساتھ جینا اور اس سے لڑنا سیکھنا ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انتظامیہ صرف کاغذی کارروائیوں یا نمائشی اقدامات کے بجائے ہسپتالوں میں عملی طور پر ایسے فعال ’ہیٹ سٹروک سینٹرز‘ قائم کرے جہاں ادویات، پانی اور برف کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ لیکن سب سے بڑھ کر، ہمیں ایک دوسرے کا سہارا بننا ہوگا۔ اس تپتے ہوئے موسم میں کسی پیاسے کو پانی کا ایک گلاس پلا دینا، کسی سائے سے محروم انسان کو چند لمحوں کی چھاؤں فراہم کر دینا، اس وقت دنیا کی سب سے بڑی عبادت ہے۔ اگر ہم اب بھی نہ جاگے، اگر ہم نے اپنی زمین اور اپنے غریب انسانوں پر رحم نہ کھایا، تو یاد رکھیے کہ قدرت کا یہ انتقام اگلی بار اس سے بھی زیادہ ہولناک ہوگا، اور پھر پچھتاوے کے لیے ہمارے پاس وقت بھی نہیں بچے گا۔

جب تک ہم یہ نہیں سمجھیں گے کہ سایہ اور ٹھنڈا پانی کسی تعیش کا نام نہیں بلکہ شہریوں کا بنیادی حق ہے، تب تک گرمی کی یہ لہریں ہمارے ہسپتالوں کو لاشوں سے بھرتی رہیں گی۔ اب وقت ہے کہ ہم کنکریٹ کے جنگلوں کو دوبارہ سبزہ زاروں میں تبدیل کریں۔ گرمی کا یہ عذاب صرف قدرت کی طرف سے نہیں، بلکہ درختوں کی بے رحمی سے کٹائی اور ہماری اپنی غفلت کا نتیجہ بھی ہے۔ لیکن بحیثیتِ شہری، ہمارا فرض ہے کہ ہم اس موسم میں اپنا اور اپنے آس پاس کے لوگوں کا خیال رکھیں۔ یاد رکھیں، آپ کی تھوڑی سی توجہ اور صحیح معلومات کسی کی زندگی بچا سکتی ہے۔