سانحہ کاہنہ نو

باہر وبا کا خوف ہے گھر میں بلا کی بھوک
کس موت سے مروں! زرا رائے دیجئے
لاہور کے علاقہ کاہنہ نو میں واقع (بستی عید گاہ) میں واقع ایک انتہائی افسوسناک واقع رونما ہوا ۔ایک گھر کی چھت گرنے سے 20 بچوں سمیت ایک ٹیچر شدید ذخمی ہوئیں واقعے کے نتیجے میں 14 بچے دنیا فانی سے رخصت ہو گئے اور جو باقی بچے وہ ابھی زخمی حالت میں اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ان بچوں کو پڑھا رہی تھیں (حمیدہ بی بی) وہ بھی اس گرنے والی بدقسمت چھت کے ملبے تلے آکر شدید زخمی ہیں اس کے ساتھ ساتھ اس کی ایک بیٹی بھی اس واقعے میں اللہ کو پیاری ہو گئیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سارے واقع کی زمہ داری آخر کس پر عائد ہوتی ہے حکام بالا پر،مالک مکان پر ،غربت اور بےروزگاری اس سب کی زمہ دار ہے یا پھر وہ بد قسمت استانی جو اپنی محنت کے ساتھ غریب بچوں کو معقول فیس کے ساتھ علم کی روشنی فراہم کر رہی تھی ؟بدقسمتی سے حسب معمول تحقیقاتی اداروں کی رپورٹ آچکی ہے جس میں ٹھیکدار،مالک مکان اور مزدوروں کو زمہ دار قرار دیا گیا ہے ۔ما لک مکان کا کہنا ہے کہ بارش کی وجہ سے گھر کی چھت ٹپکتی تھی ۔ہمارا گزر بسر بڑی مشکل سے ہوتا ہے اور میری بیوی میرا ہاتھ بٹانے کے لئے گھر میں بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی ہیں میں خود ایک پھل فروش ہوں اس طرح بڑی مشکل سے ہماری فیملی کا گزر بسر ہورہا تھا ۔مجھے بہت دکھ ہوتا ہے کہ ہمارے حکمران کب ہوش کے ناخن لیں گے ۔ایک دور تھا کہ جب حضرت عمر فاروق کا دور حکومت تھا ۔تو خوف خدا اس قدر تھا کہا گیا کہ!
دریائے فراط کے کنارے اگر کوئی کتا بھی بھوکا مر گیا تو اس کا جواب دہ بھی میں ہوں
ہمارے ہاں تو اتنی بے حسی ہے کہ ساری کی ساری زمہ داری انہیں لوگوں پر ڈال دی جاتی ہے جو پہلے ہی اپنی زندگی بڑی مشکل سے گزار رہے ہوتے ہیں ۔افسوس اس بات پر ہے کہ قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں لیکن بجائے امداد کرنے کے الٹا محنت محنت کرنے والوں کو قصور وار قرار دیا گیا ۔اس بات سے کوئی انکار نہیں ہے کہ ان مزدوروں کو کام سے پہلے گائیڈ کیا جاتا اور حفاظتی اقدامات اٹھائے جاتے تو بہت سی قیمتی جانیں بچ جاتیں۔مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ادارے غفلت کی نیند سو رہے ہیں ۔کیا ہمارے ادارے کا کام نہیں ہے کہ وہ تمام بلڈنگ کا معمول کے مطابق معائنہ کرے؟ ایسا کیوں ہے کہ جب بھی کوئی اس طرح کا واقع رونما ہوتا ہے تو فوری طور پر سب ادارے حرکت میں آجاتے ہیں اور کیا ان اداروں کا کام نہیں ہے کے بروقت اس کے لئے حفاظتی اقدامات اٹھائیں تا کہ اس طرح کے کے جانی اور مالی نقصانات سے بچا جا سکے۔
افسوس اس سارے واقع کی زمہ داری بجائے زمہ دار لوگوں پر ڈالنے کے الٹا اس غریب فیملی پر ڈالی جا رہی ہے جو پہلے سے غربت اور بھوک سے جنگ لڑ رہے ہیں اس کے علاوہ جو ٹیچر ہے وہ بھی شدید ذخمی ہے اور زندگی موت کی جنگ لڑ رہی ہے انہیں اس واقع کا زمہ دار قرار دینا انتہائی افسوسناک عمل ہے ۔ایک تو غریب بھوک سے مر رہا ہے اوپر سے یہ ظلم ان لوگوں کو جینے نہیں دیتا۔تعلیم یافتہ افراد کی شرح پہلے ہی بہت کم ہے جس کی بنیادی وجہ بے جا فیس اور ناقص تعلیمی نظام ہیں ایسے میں اگر کوئی انسان اپنی مدد آپ کے تحت غریب کے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے کوشش میں لگا ہے تو اسے مجرم بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔میری دردمندانہ اپیل ہے حکومت وقت سے کہ ان لوگوں کو مجرم نہ بنایا جائے یہ ایک آزمائش تھی جو اللہ کی طرف سے ہم پر آئی اس آزمائش سمجھ کر آئندہ کے لئے فوری حفاظتی اقدامات کئے جائیں ۔
میں کہیں بھوک سے نہ مرجاوں اے امیر شہر
گر مسقبل ہوں تہماراتو بچا لو مجھ کو
میری سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے درخوست ہے کہ فوری طور پر جہاں تعلیم کی بنیادی ضروریات موجود نہیں ہیں وہاں انکی فراہمی یقینی بنائی جائے۔اور ایسے لوگ جو اپنی مدد آپ کے تحت معاشرے میں علم کی روشنی پہلا رہے ہیں انہیں مجرم نہ بنایا جائے۔شکریہ
اذقلم: ندیم احمد ناداں میو

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *