پاکستان نے سال 2025 اور 2026 میں جہاں بہت سی کامیابیاں حاصل کی سفارتی پوزیشن بہت پیچیدہ رہی علاقائی چیلنجز کا بھی سامنا رہا۔
تحریر: مہوش فضل جٹ

عالمی سطح پر پاکستان 2025-2026 کے لیے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوا ہے، جو عالمی سطح پر اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی علامت ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان 2026 سے تین سال کے لیے انسانی حقوق کونسل کا ممبر بھی منتخب ہو چکا ہے۔
دسمبر 2025 میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کی نشاندہی پاکستان کی ایک بڑی سفارتی جیت تصور کی جا رہی ہے۔
ستمبر 2025 میں پاکستان اور سعودی عرب نے ایک تزویراتی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت
ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
چین کے ساتھ تعلقات مزید گہرے ہوئے ہیں خاص طور پر سی پیک کے دوسرے مرحلے اور علاقائی امن کے لیے مشترکہ اقدامات کے حوالے سے
ایران اور امریکہ/اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی میں پاکستان ایک ثالث اور امن پسند قوت کے طور پر ابھرا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے تہران، ریاض اور واشنگٹن کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
ا کنامک ڈپلومیسی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بڑا محور ہے تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔
بھارت کے ساتھ تعلقات تاحال منجمد ہیں، جبکہ افغانستان کے ساتھ سرحد اور دہشت گردی کے معاملات بدستور ایک چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
مجموعی طور پر پاکستان کی سفارتی پوزیشن پچھلے چند سالوں کے مقابلے میں بہتر اور مستحکم ہوئی ہے۔ تاہم، ملکی سیاسی استحکام اور معاشی اصلاحات اس سفارتی کامیابی کو طویل مدتی نتائج میں بدلنے کے لیے ضروری ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے بحرانوں (جیسے ایران اسرائیل کشیدگی) میں پاکستان کو اپنا توازن برقرار رکھنے میں سخت محنت کرنی پڑ رہی ہے۔ اگرچہ سفارتی پوزیشن بہتر ہوئی ہے، لیکن کچھ رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں ملک کے اندر سیاسی تناؤ اور امن و امان کی صورتحال (خاص طور پر دہشت گردی کے حالیہ واقعات) بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے امیج کو متاثر کرتے ہیں۔۔ ورنہ مئی وار میں جس طرح پاکستان نے بھارت کو دن میں تارے دکھائے ہیں اس اقدام نے پاکستان کو پوری دنیا میں ثابت کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان نا صرف سفارتی محاز پر مستحکم نظر آتا ہے بلکہ اسرائیل ، ایران، امریکہ جنگ روکنے کے لیے بھی کاوش کرنا نظر آ رہا ہے۔ اب بات کر لی جائے جنگی صورتحال کی تو امریکہ کو تو ویسے ہی شاید اپنی پاور دکھانے کا بخار چڑھ جاتا ہے لیکن یہ جلد ہی اتر بھی جاتا ہے۔
تین اپریل دو ہزار چھبیس۔۔۔ جنگ کے چھتیس ویں روز۔۔۔
ایرانی میزائل ٹیکنالوجی نے ۔۔۔ چھیتر ملین ڈالر کا ایف ایٹین ہارنٹ فضا میں اڑا دیا ۔۔
ایک سو دس ملین ڈالر کا ایف ففٹین ایگل بھی ایرانی میزائل کا نشانہ بنا ۔۔۔بے جان پرندے کی طرح زمین پر آ گرا
اور پھر ۔۔۔ امریکا کا غرور۔۔ سو ملین ڈالر کا ایف تھرٹی فائیو بھی شکار ہوا
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق تین جنگی طیاروں کے علاوہ دو ریسکیو ہیلی کا پٹر بھی تباہ ہوئے
ایران نے تین امریکی فائٹر جیٹس تباہ نہیں کیے ،،،امر یکی فوجی طاقت کا بیانیہ خلیج میں غرق کردیا
جنگ کے دوران سعودی عرب میں امریکی اڈے پر ایرانی حملے نے
تین سوملین ڈالر کا امریکی ای ۔ تھری سینٹری وارننگ طیارہ جلا کر راکھ کردیا
کویتی افواج نے فرینڈلی فائرنگ میں تین امریکی ایف ففٹین تباہ کردیے۔۔۔
امریکا ابتک دس ان مینڈ ڈرونز سمیت بیس سے زیادہ فائٹر جیٹس گنوا چکا
خلیج میں امریکا کے تمام تیرہ ایئر بیسز پر حملے ،، ابراہام لنکن اور جیرالڈ فورڈ پر میزائل حملے،، اورآبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ۔ ایران کی اہم کامیا بیاں ہیں ۔۔
دوسری جانب ،، سیز فائر کے لیے ٹرمپ کی بے چینی ، ایرانی رجیم سے رابطوں کے سچے جھوٹے دعوے،، امریکا کی جنگ سے باہر آنے کی خواہش اور آبنائے ہرمز کھلوانے میں ناکامی بھی دنیا کے سامنے ہے
لیکن پھر بھی امریکا جنگ میں برتری کا دعوے دارہے ۔۔۔
ٹرمپ نے یکم اپریل کو دعویٰ کیا ۔۔۔ ایران کی نوے فیصد فوجی طاقت توڑی دی ، جوہری صلاحیت ختم کردی ،،
دواپریل کو امریکی انٹیلی جنس رپورٹ نے انکشاف کیا ” ایران کی فوجی طاقت تاحال خطرناک حد تک فعال ہے “
تین اپریل کی رات ۔۔ ایرانی میزائلوں نے امریکا کے تین جدید ترین فائٹر جیٹس گرا کر اپنی فعالیت کا ثبوت دے دیا ۔۔۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا ۔۔ امریکاغیر معمولی فوجی نقصان ۔۔ امریکا کی ہر جارحیت کا معروف منظر نامہ ہے
یہ امریکا کی جنگی تاریخ کا وہ سچ ہے ۔۔۔۔ جو پانچ جھو ٹے بیا نیوں سے جڑا ہے ،، اور ان جھوٹے بیانیوں سے جڑی ہیں ۔۔ امریکا کی پانچ بڑی جنگیں ۔۔۔۔ ان جنگوں میں سب سے کامن ہے امریکا کی ” اسٹریٹجک مس کیلکولیشن “۔۔۔
سب سے پہلے ویت نام جنگ ۔۔ امریکا کے لیے ڈراؤنا خواب ۔۔۔ بیس سال میں اربوں ڈالر خرچ کر کے پچاس ہزار امریکی فوجی تابوت اٹھائے ،،ذلت آمیز شکست کو واشنگٹن نے جھوٹے بیانیہ سے کیمو فلاج کیا ،،اور،،جنوبی ویتنام میں جمہوریت کو اپنی فتح بتایا
پھر آتی ہے دوہزار تین کی عراق جنگ۔۔۔ جو کیمیائی ہتھیاروں کے جھوٹے الزام پر امریکی فوج نے آٹھ سا ل تک لڑی ،، ڈیڑھ لاکھ عراقی ماردیئے ،، چار ہزار امریکی فوجی جنگ میں کام آئے ،، لیکن کیمیائی ہتھیار نہ ملے ۔۔۔ آخرکار جارج بش نے طیارے کے ڈیک پر کھڑے ہو کر عراق مشن مکمل ہونے کا اعلان کیا ۔۔۔اور جنگ ختم کردی
دوہزار گیارہ میں لیبیا میں رجیم چینج آپریشن ۔۔۔ امریکا اور نیٹو نے بمباری کی ،، قذافی اوراس کی ساری اسٹیبلشمنٹ ماردی ،، ہلری کلنٹن نے تمسخرانہ ہنسی اڑائی اور کہا “We came, we saw, he died.”۔۔۔۔۔۔
لیبیا کا پرانا نظام اکھیڑ کر امریکا چلتا بنا ،، لیبیا خانہ جنگی میں اجڑ گیا ، قبائلی جنگوں نے اقتدار تقسیم ،، اور ،،ملک غلاموں کی منڈی بنا دیا ،،لیکن امریکا نے کبھی خود کوذمہ دار نہیں مانا
افغانستان میں وار آن ٹیرر کے بیس سال ،،، امریکا کو دو ٹریلین ڈالر میں پڑے ،، دوحہ معاہدہ پر سیو کوریڈور ملا تو امریکی میرین۔۔ ووطن لوٹے ۔۔لیکن خالی ہاتھ ۔۔ صدر بائیڈن نے بیس سالہ جنگ کو غلطی کے بجائے آرڈرلی ٹرانزیشن کہا
اور اب ۔۔۔ ایران جنگ ۔۔۔ NARITIVE سے بیٹل فیلڈ تک ۔۔۔۔ سب کچھ پہلے جیسا
اپنی چھیڑی ہر جنگ میں امریکا نے شکست کھائی یا مشن فیل ہوا،، لیکن انکل سام نے۔۔۔ کبھی ناکامی کو لفظوں کا جامہ پہنایا تو کبھی بیانیہ کی چادر اوڑ ھ لی ۔۔۔ لیکن د نیا پر اپنا دبدبہ ۔۔۔اور ۔۔ امریکا میں اپنا بھرم قائم رکھا
۔۔ ایران کا امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ میں ملوث ہونا ۔۔۔ پاور آف بیلنس کے اصول پر کچھ فٹ نہیں بیٹھتا ،، دیکھا جائے تو ایک طرف دنیا کی سپر پاور امریکا ،، اور اس کا اتحادی ،، اسرائیل،، جو دنیا بھر میں بھرپور معاشی ، فوجی ، سیاسی اثر ونفوذ رکھتا ہے
اور دوسری جانب ،، تیس سالوں سے معاشی فوجی تجارتی پابندیاں سہنے والا ایران،، جو پہلے انقلاب کے تھپیڑے کھاتا رہا ،، پھر آٹھ سالہ عراق جنگ کے ہاتھوں ہلکان ہوا ،، اور پھر امریکی پابندیوں نے ایران کا گلا گھونٹا ،،لیکن اس کے باوجود دنیا ۔۔۔ایران کو اپنے طاقت ور دشمن کے مقابلے میں تن کر کھڑا دیکھ رہی ہے ۔۔۔ کیا اس کی وجہ پچیس سو سالوں سے ایرانی قوم کا ہمیشہ سپر پاور ز سے ہونے وا لے ٹکراؤ ہے ۔۔۔ یا ا یہ انقلابی رجیم جذبہ شہادت ۔۔ سب سے اہم ۔۔ ایران کا Calibrated Escalation ہے ،، سادہ الفاظ میں نپے تلے اور کیلکو لیٹڈ جواب پر مبنی جنگی پالیسی بھی ایران کی جنگی تاریخ سے آئی ہے یا ۔۔ پاسداران انقلاب کے اسٹریٹجک دماغوں کا خراج ہے
ایران تو چاہتا ہی ہے کہ امریکا کو مغربی ایشیا سے باہر نکالے ،، لیکن اسرائیل کیوں چاہتا ہے کہ امریکا اب مشرق وسطیٰ سے نکل جائے ؟؟ کیا ایران کے ہاتھوں جنگی نقصان ،، جنگوں سے تھکے امریکا کو جنگ سے ہی نہیں مشرق وسطیٰ سے بھی نکال لے جائے گا ؟؟ اسرائیل کے خیال میں امریکی فوجی چھتری ہٹنے پر عرب ملکوں سے نمٹنا ، گریٹر اسرائیل کی جانب بڑھنا آسان ہوگا ۔۔ ۔۔یہ جیو پولیٹیکل تھیوری ہے،، جو مشرق وسطیٰ میں پاکستان کے آئندہ کردار کا عکس دکھا رہی ہے ،، اب سوال یہ ہے کہ یہ کس حد تک حقیقت سے قریب ہے
اگر امریکہ واقعی مشرق وسطیٰ میں اپنا کردار کم کرتا ہے تو یقینی طور پر یہ اسرائیل کے ایک موقع ہوگا ،،لیکن پاک سعودی دفاعی معاہدہ پاکستان کو مشرق وسطیٰ سے جوڑ رہا ہے ،، ممکنہ اسرائیلی پیش قدمی یا طاقتی توازن بگاڑنے کی کوشش پر پاکستان کا ردعمل اور مڈل ایسٹ میں ممکنہ کردار کتنا موثر ہوگا؟
ایران نے امریکہ کے بعض مطالبات کو “غیر منطقی” قرار دے کر فی الحال اسلام آباد میں ملاقات سے انکار کیا ہے، جس کی وجہ سے مذاکراتی عمل میں تعطل پیدا ہوا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ کردار صرف سفارتی نہیں بلکہ بقا کا مسئلہ بھی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش اور جنگ کی وجہ سے ملک میں ایندھن کی قیمتیں اور معاشی بحران شدید ہو رہا ہے۔
پاکستان اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں “سفارت کاری کا مرکز بنا ہوا ہے اگرچہ مذاکرات ابھی تک کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے، لیکن پاکستان کی جانب سے مسلسل رابطے اور علاقائی طاقتوں کو یکجا کرنا اسے اس بحران کا سب سے اہم وصیلہ بناتا ہے۔۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟





Leave a Reply
Want to join the discussion?Feel free to contribute!