عوامی ریلیف میں پنجاب سب سے آگے

تحریر: افضل بلال

پاکستان میں بڑھتی مہنگائی کے دوران سب سے زیادہ دباؤ جس چیز پر آیا ہے وہ روزمرہ کی بنیادی ضروریات ہیں اور ان بنیادی ضروریات میں آٹا سرفہرست ہے۔ ایک عام شہری کے لیے آٹے کی قیمت صرف ایک عدد نہیں بلکہ اس کے گھر کے بجٹ، کھانے اور مجموعی معیارِ زندگی سے جڑی ہوئی ہے۔ ان حالات میں اگر آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھا جائے تو یہ براہِ راست عوامی ریلیف کے مترادف ہو گا۔ حالیہ اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو پنجاب اس حوالے سے ایک مثبت مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔ باقی صوبوں کی نسبت پنجاب میں نہ صرف آٹے کی قیمتیں کم ہیں بلکہ مارکیٹ میں استحکام بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔
صوبہ پنجاب میں حکومت کی جانب سے 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت تقریباً 1,800 روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ 10 کلو کا تھیلا تقریباً 905 روپے میں دستیاب ہے۔ یہ نرخ موجودہ معاشی حالات کے تناظر میں عام آدمی کے لیے بہت اہم ہیں۔ اوپن مارکیٹ میں اگرچہ معمولی فرق موجود ہے مگر قیمتیں زیادہ تر 1,810 سے 2,200 روپے کے درمیان رہتی ہیں۔ یہ قیمتیں دیگر صوبوں کے مقابلے میں کافی حد تک قابو میں ہیں۔ خاص طور پر لاہور اور وسطی پنجاب کے علاقوں میں یہ استحکام زیادہ واضح ہے۔ اس صورتحال کا کریڈٹ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی پالیسیوں کو دیا جا رہا ہے جن کا فوکس محض اعلانات تک محدود نہیں بلکہ عملی طور پر عوام کو ریلیف دینا ہے۔ گندم کی بہتر پیداوار، مؤثر سپلائی چین اور قیمتوں کی متواتر نگرانی نے اس استحکام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
سندھ میں حکومت نے آٹے کی قیمت 107 روپے فی کلو مقرر کی ہے جس کے مطابق 10 کلو کا تھیلا 1,070 روپے میں دستیاب ہونا چاہیے۔ ایکس مل قیمت بھی تقریباً 1,040 روپے رکھی گئی ہے تاکہ مارکیٹ میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔ تاہم اوپن مارکیٹ میں قیمتیں اکثر اس سے زیادہ دیکھنے میں آتی ہیں۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں 20 کلو کا تھیلا 2,000 سے 2,600 روپے تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں جو عام شہری کے لیے ایک بڑا بوجھ بن سکتا ہے۔ اس کے باوجود سندھ حکومت کی جانب سے سبسڈی اور گندم کی بڑے پیمانے پر خریداری جیسے اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اپریل 2026 سے ایک ملین ٹن گندم کی خریداری بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
خیبرپختونخوا میں آٹے کی قیمتیں سب سے زیادہ دیکھی جا رہی ہیں۔ حالیہ مارکیٹ سروے کے مطابق 20 کلو آٹے کا تھیلا 2,800 سے 3,100 روپے کے درمیان فروخت ہو رہا ہے۔ فی کلو قیمت 140 سے 155 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ اگرچہ حکومت نے جنوری 2026 میں سبسڈی کے تحت 20 کلو کا تھیلا تقریباً 2,220 روپے میں فراہم کرنے کی کوشش کی لیکن اوپن مارکیٹ میں اس کے اثرات محدود نظر آئے ہیں۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ صرف سبسڈی کافی نہیں بلکہ سپلائی چین اور مقامی پیداوار کو بھی مستحکم کرنا ضروری ہے۔ اگر ایک عام شہری کے طور پر تینوں صوبوں میں آٹے کی قیمت کا موازنہ کیا جائے تو فرق واضح نظر آتا ہے۔ پنجاب میں قیمتوں کا استحکام نہ صرف بہتر حکمت عملی کا نتیجہ ہے بلکہ اس سے عوام کو حقیقی ریلیف بھی مل رہا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب میں جو اقدامات کیے جا رہے ہیں وہ دیگر صوبوں کے لیے ایک قابلِ عمل ماڈل بن سکتے ہیں۔ خاص طور پر اس حوالے سے کہ کس طرح بنیادی ضروریات کو عوام کی پہنچ میں رکھا جائے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو تمام صوبے آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں مگر نتائج میں واضح فرق موجود ہے۔
پنجاب اس وقت ایک ایسے صوبے کے طور پر سامنے آ رہا ہے جہاں پالیسی اور عمل میں ہم آہنگی نظر آتی ہے۔ ایک عام آدمی کے لیے سب سے بڑی بات یہی ہے کہ اس کی بنیادی ضرورت یعنی روٹی اس کی پہنچ میں رہے۔ اگر اسی طرح پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہا تو نہ صرف قیمتوں میں مزید استحکام آئے گا بلکہ عوام کا اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔ یہی وہ عملی اقدامات ہیں جو حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے کو کم کرتے ہیں اور حقیقی معنوں میں فلاحی ریاست کی بنیاد رکھتے ہیں۔
0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *