قرآن مجید اور آج کا معاشرہ
تحریر: ندیم احمد ناداں

قرآن مجید اللہ تعالٰی کی طرف سے اپنے آخری نبی حضرت محمد پر نازل کی گئی آخری کتاب ہے اور اس کی فضیلت تمام مخلوقات پر ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالٰی کی فضیلت اپنی مخلوق پر ہے ۔یہ تلاوت،ہدایت اور شفاعت کا عظیم ذریعہ ہے اس کو پڑھنے اور عمل کرنے والا انسان افضل ترین کہلاتا ہے۔
دور حاضر اور آج سے پہلے جتنے انسان اس دنیا میں آئے ،چلے گئے، جوآئیں گے اور جو موجودہ ہیں وہ تمام قرآن مجید سے زندگی کے ہر ایک پہلو کے حوالے سے علم حاصل کر سکتے ہیں گویا یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ! *قرآن مجید محض ایک کتاب نہیں بلکہ مکمل ضابطہ حیات ہے* اور اس کے پڑھنے والوں کو افضل ترین قرار دیا گیا ہے ۔
ترجمعہ:*تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور اسے دوسروں کو سکھائے۔*
اگر میں دور حاضر پر نظر ڈالوں تو ہر طرف بے سکونی اور تباہی ہے آج کا انسان دنیا کی رنگینیوں کی وجہ سے کائنات کی دلفریبیوں ،شیطان مردود کی چالوں اور نفس امارہ کی ریشہ دوانیوں کو سمجھنے سے قاصر ہے۔قدم قدم پر جال بچھے ہوئے ہیں،۔انسان آجکل انسانیت سے گر کر حیوانیت کے ذلیل ترین گڑھے میں جا گرا ہے اسے کچھ سمجھ بوجھ نہیں یا پھر جانتے ہوئے بھی انجان بنا ہوا ہے ۔ جب میں یہ سب ہوتے دیکھتا ہوں تو پھر کہنا پڑتا ہے کہ! *شیطان کی اب کوئی ضرورت نہیں یا رب بربادی انساں کو انساں ہی کافی ہے* جب دنیا میں ظلم و جبر کفرو شرک کی تاریکیاں اس قدر پھیل گئی لاکھوں کروڑوں انسان اپنی ہی ہاتھوں سے بنائے گئے بتوں (معبودوں ) کے آگے جھکائے سر اٹھانے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔اخلاقی قدریں مکمل تباہ ہوچکی تھیں جس وقت ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا تو اللہ نے ساری انسانیت کے لئے تاقیامت مکمل ضابطہ حیات قرآن مجید حضرت محمد کے ذریعہ عطاء فرمائی جس میں اللہ نے زندگی کے تمام شعبوں خواہ وہ سیاسی ہوں ،سماجی ہوں عبادات،شجاعت،عدالت، امانت،سخاوت،سعادت،تہذیب وامان بودوباش، قیام وطعام ،لین دین پیارو محبت غرض زندگی کے ہر پہلو پہلو پر ایک مکمل ضابطہ حیات دے کر بھیجا اور کسی بھی پہلو کو خالی نہ چھوڑا۔
اب اگر آج کے معاشرے پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے ہم نے کتاب اللہ کو صرف الماری کی زینت بنا کر رکھ دیا ہے ہم قرآن مجید کو صرف چند مواقع پر استعمال کرتے ہیں جیسا کہ کسی سے وعدہ کرنے کے لئے،بیٹی کی رخصتی کرنی ہو یا پھر عدالت انصاف میں گواہی دینی ہو۔اس کے علاوہ ھمارے دلوں میں نہ تو خوف خدا ہے اور نہ ہی انسانیت نام کی ہم میں کوئی چیز باقی رہ گئ ہے ۔
قرآن مجید میں تو اللہ ہمیں وعدہ پورا کرنے کا حکم دیتا ہے مگر ہم زندگی میں وعدہ خلافی کرتے ہوئے بعض نہیں آتے ارے وعدہ پورا کرنا تو بہت دور ہم قرآن مجید پر رکھے گئے ہاتھ تک کی لاج نہیں رکھ پاتے اور بڑی آسانی کے ساتھ ایک دوسرے کو دھوکا دے کر فخر محسوس کرتے ہیں ۔عدالت انصاف میں قرآن مجید پر جھوٹی گواہی دے کر امیروں کو بچانے کے بعد خود کو بہت بہادر سمجھنے والے حقیقت میں اس وقت بزدل ترین ہوتے ہیں ۔بیٹی کو قرآن مجید کے سائے میں ہم رخصت تو کرتے ہیں مگر افسوس یہ نہیں بتاتے کے اپنے ازدواجی زندگی کو قرآن مجید کے مطابق گزارنا۔اپنے ہر کام میں قرآن مجید کی راہنمائی لینا تاکہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل ہو سکے۔ عدالت انصاف میں ہم قتل کے مجرموں کو جھوٹی گواہی کے ذریعے ہم بے گناہ ثابت کر دیتے ہیں اور جو بے گناہ ہے اسے ہم پھانسی کے پھندے تک پہنچا دیتے ہیں۔مگر افسوس شرم ہمیں پھر نہیں آتی اور پھر کہتے ہیں معاشرے میں بد امنی اور بے سکونی ہے ۔ارے معاشرے میں بے سکونی، تباہی وبربادی کیوں نہ ہو جب ناحق کسی کو تنگ کیا جائے گا ۔زیادتی کی جائے گی ،ناجائز قبضے کئے جائیں گے، ،ناحق لوگوں کو قتل کیا جائے گا،طاقتوروں کو چھوڑ دیا جائے اور غریب کو سزا دی جائے گی ۔جب تک یہ سب کچھ ہوتا رہے گا نہ تو معاشرے میں امن و سکون باقی رہ سکے گا اور نہ ہی ملک و قوم ترقی کر سکے گی تو میں بلا خوف کہوں گا کہ جب تک ہم سب اپنی زندگی میں قرآن مجید کو صحیح معنوں پڑھ کر عملی زندگی کا حصہ نہیں بنائیں گے نا تو انسان کی زندگی سکون میں آئے گی اور نہ ہی ہمار ہ ملک اور قوم امن و ترقی کا گہوارہ بن سکے گا ۔کسی شاعر نے اس منظر کی عکاسی کچھ اس طرح سے کی ہے کہ!
*ہر کوئی مست ہے ذوق تن آسانی ہے*
*تم مسلماں ہو ! یہ انداز مسلمانی ہے!*
*حیدری فقر ہے نہ دولت عثمانی ہے ۔*
*تم کو اسلاف سی کیا نسبت روحانی ہے ؟*
*وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر*
*اور تم خوار ہوئے تار ک قرآں ہو کر*
ویسے تو یہ موضوع اتنا وسیع ہے کہ میں جتنا بھی لکھتا رہوں کم ہے مگر مختصر! میں اللہ سے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالٰی ہمیں صحیح معنوں میں قرآن مجید کو پڑھنے ،سمجھنے اور عملی طور پر زندگیوں شامل کرنے اور دوسروں کی اصلاح کے لئے استعمال کرنے کی توفیق عطاء فرمائے! آمین




Leave a Reply
Want to join the discussion?Feel free to contribute!