تصویروں میں لکھا گیا قومی بیانیہ

کالم : فرید رزاقی
صدر، پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ اینڈ کری ایٹرز

کبھی کبھی قومیں لفظوں سے نہیں بلکہ تصویروں، رنگوں اور احساسات سے بولتی ہیں۔ “معرکۂ حق” کی تصویری نمائش بھی کچھ ایسی ہی ایک خاموش مگر طاقتور گفتگو تھی جس نے لاہور کے پلاک ہال کو صرف ایک نمائش گاہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے قومی جذبے اور فکری بیداری کا مرکز بنا دیا۔ بطور صدر پی ایف یو سی میرے لیے یہ لمحہ بے حد باعثِ فخر تھا کہ ہم نے اس قومی جذبے اور تخلیقی اظہار سے بھرپور پروگرام کو نہ صرف ترتیب دیا بلکہ اسے ایک ایسی صورت دی جو فن، صحافت اور حب الوطنی کے حسین امتزاج کی عکاس بن گئی۔
یہ محض ایک تقریب نہیں تھی، بلکہ ایک احساس تھا جو دیواروں پر آویزاں تصویروں سے جھلک رہا تھا۔ وہ تصویریں جو صرف رنگوں کا کھیل نہیں بلکہ ایک ایسے عزم کی کہانی تھیں جس نے یہ ثابت کیا کہ پاکستان آج بھی اپنے دفاع، وقار اور خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرتا۔
اس نمائش کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ تھی کہ یہاں صرف ماضی نہیں دکھایا گیا بلکہ ایک ایسا حال بھی پیش کیا گیا جو قوم کو اس کی اصل طاقت یاد دلاتا ہے۔ طلبہ و طالبات کے فن پاروں میں کہیں حوصلہ تھا، کہیں عزم، کہیں قربانی کا جذبہ اور کہیں وہ غیر متزلزل یقین جو پاکستانی قوم کی شناخت ہے۔
تقریب کا افتتاح اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کیا، جن کی گفتگو میں ریاستی وقار اور قومی اعتماد کی جھلک نمایاں تھی۔ ان کے ہمراہ صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات، چیئرمین دی یونیورسٹی آف لاہور اویس رؤف، چئیرمین آرار گروپ ہمایوں سرور، سی ای او چیزیئس فوڈز عمران اعجاز، چیئرمین چیلتن گروپ نجم مزاری، رحمان عزیز خان ، ممبر قومی اسمبلی محترمہ شمائلہ رانا نے بھی نمائش کا دورہ کیا اس موقع پر جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ ایک کم عمر آرٹسٹ جس کی اس مصوری مقابلے میں دوسری پوزیشن آئی ہے اس کے گردوں کا ڈائیلیسز چل رہا ہے انہوں ے فی الفور احکامات جاری کرتے ہوئے اس بچے کے تمام تر علاج کی ذمہ داری خود لینے کا اعلان کیا۔

تقریب میں دفاعی امور کے ماہرین بریگیڈیئر نادر میر، بریگیڈیئر سید غضنفر علی، بریگیڈیئر شاہد، بریگیڈیئر ٹیپو کریم اور کرنل شاہد حسین کی شرکت نے اس قومی مکالمے کو مزید وقار، سنجیدگی اور دفاعی بصیرت عطا کی، جن کی موجودگی وطنِ عزیز کے دفاعی پہلوؤں سے وابستہ فکری مضبوطی کی عکاس تھی۔
بلال احمد بٹ ، ڈاکٹر طارق شیرف زادہ سیرت اسکالر، غلام علی بیویو کریٹ اداکار راشد محمود اور دیگر معزز شخصیات کی موجودگی نے اس بات کو مزید مضبوط کیا کہ یہ نمائش صرف آرٹ نہیں بلکہ قومی سوچ کی نمائندگی ہے۔
یہاں صحافت بھی موجود تھی، سیاست بھی، فن بھی اور ریاستی اداروں کا اعتماد بھی۔ سلمان غنی، ایثار رانا ،عبدالمجید ساجد، صفدر علی خان،مصطفے کمال پاشا، میاں سیف الرحمان ، جیسے صحافیوں کی موجودگی اس بات کی علامت تھی کہ سچائی اور قومی بیانیہ آج بھی ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ جبکہ حسن مرتضیٰ، جواد احمد اور دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے اس بات کو اجاگر کیا کہ اختلافات اپنی جگہ، مگر وطن کی بات پر سب ایک ہیں۔


سب سے زیادہ متاثر کن لمحہ وہ تھا جب نوجوان فنکاروں نے اپنے فن پارے پیش کیے۔ یہ صرف پینٹنگز نہیں تھیں، بلکہ ایک نسل کا اپنے وطن سے مکالمہ تھا۔ ایک ایسا مکالمہ جس میں فخر بھی تھا اور امید بھی۔
مصوری مقابلے میں شریک تمام فنکاروں کو اعزازات سے نوازا گیا، جبکہ پہلی تین پوزیشن حاصل کرنے والوں کے لیے کیش انعامات نے ان کی محنت کو ایک عملی پذیرائی دی۔ مگر اصل انعام وہ حوصلہ تھا جو ہر شریک کو ملا۔
اس پورے تخلیقی سفر میں ججز میڈیم صائمہ، مس افق جاوید، علی حمزہ اور عمران صاحب کا کردار انتہائی اہم تھا۔ ان کی فنی رہنمائی اور منصفانہ فیصلہ سازی نے اس مقابلے کو وقار عطا کیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہ نمائش صرف فنکاروں کی نہیں بلکہ ایک فکری تربیت بھی تھی تو غلط نہ ہوگا۔
اسی طرح عمران احمد کاڈیہ کی انتظامی محنت اس پروگرام کی ریڑھ کی ہڈی تھی۔ وہ خاموشی سے، مگر مسلسل، اس پورے نظام کو جوڑنے میں مصروف رہے جہاں ہر چیز اپنے وقت اور اپنے انداز میں مکمل نظر آئی۔
اور پھر وہ لمحہ جب یہ سب کچھ ایک ہی احساس میں سمٹ آیا، کہ پاکستان صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک زندہ نظریہ ہے۔ چیئرمین پی ایف یو سی فرخ شہباز وڑائچ نے بجا کہا کہ آج کا پاکستان دنیا کے سامنے ایک نئے اعتماد، نئے تشخص اور نئی پہچان کے ساتھ کھڑا ہے۔ جناب چیئرمین فرخ شہاز وڑائچ نے اس نمائش کو ممکن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ان کا تہہ دل سے شکریہ۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ ایسی تقریبات صرف ایونٹس نہیں ہوتیں، یہ یاد دہانیاں ہوتی ہیں۔ ہمیں یہ یاد دلاتی ہیں کہ قومیں صرف فوج یا سیاست سے نہیں بنتیں، بلکہ قلم، فن، نوجوانوں کے خواب اور اجتماعی شعور سے بنتی ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آرگنائزنگ کمیٹی کے آراکین محمد نور الہدیٰ،عبالماجد ملک ، اظہر تھراج ، ساجد خان، وقار اسلم، فرحان خان، سعدیہ خالد، نے جس عزم، نظم اور خلوص کے ساتھ اس پورے پروگرام کو ممکن بنایا، وہ اپنی جگہ ایک الگ کہانی ہے۔ ان کا یہ اجتماعی کردار اس بات کی دلیل ہے کہ جب نیت قومی ہو تو کام خود راستہ بنا لیتا ہے۔
معرکۂ حق کی یہ نمائش دراصل ایک دن کی سرگرمی نہیں تھی، یہ ایک سوچ تھی جو یہ کہہ رہی تھی کہ پاکستان صرف نقشے پر ایک خطہ نہیں، بلکہ دلوں میں بسنے والا ایک یقین ہے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *