اسلام آباد؛ ثالثی کا سفیر

تحریر: عمر خطاب

جب خلیج کی لہریں بارود کی بو سے بوجھل ہوں اور واشنگٹن سے تہران تک جنگ کے بادل اس قدر گہرے ہو جائیں کہ عالمی معیشت کا دم گھٹنے لگے، تو ایسے میں امن کی کسی فاختہ کا اڑنا کسی معجزے سے کم نہیں لگتا۔ اپریل دوہزار چھبیس کی ان تپتی دوپہروں میں جب مشرقِ وسطیٰ ایک ہمہ گیر جنگ کے دہانے پر کھڑا تھا، اسلام آباد سے اٹھنے والی سفارتی آواز نے دنیا کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا۔ پاکستان نے، جسے اکثر داخلی مسائل کا شکار ریاست سمجھا جاتا رہا، امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کروا کر ثابت کر دیا کہ تزویراتی تنہائی کے اس دور میں بھی وہ ایک ناگزیر ریاست ہے۔ یہ محض ایک اتفاقی کامیابی نہیں تھی، بلکہ دہائیوں پر محیط اس ہیجنگ یعنی متوازن خارجہ پالیسی کا نچوڑ تھا، جس کے تحت پاکستان نے ایک طرف امریکہ کے ساتھ اپنے دفاعی اور سٹریٹیجک تعلقات کو بحال رکھا تو دوسری جانب ایران کے ساتھ اپنی ایک ہزار کلومیٹر طویل سرحد اور مذہبی و ثقافتی رشتوں کی لاج بھی رکھی۔ عملی اور سٹریٹیجک تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کا یہ کردار کسی خاردار تار پر چلنے کے مترادف تھا۔ ایک طرف واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر متوقع پالیسیاں تھیں اور دوسری جانب تہران کا اپنے تزویراتی دفاع پر اصرار، لیکن پاکستان کی منفرد حیثیت یہ ہے کہ وہ واشنگٹن میں ایران کے سفارتی مفادات کی نمائندگی کرتا ہے، جو اسے دونوں دارالحکومتوں کے بند کمروں تک ایک ایسی رسائی فراہم کرتا ہے جو کسی دوسرے ملک کے پاس نہیں۔ اس سفارتی شطرنج میں پاکستان نے خاموش بروکر کا لبادہ اوڑھ کر پیغامات کی ترسیل ہی نہیں کی بلکہ ایک ایسا فریم ورک فراہم کیا جس نے دونوں حریفوں کو چہرہ بچانے کا موقع دیا۔ پاکستان کی سول اور فوجی قیادت کے درمیان مثالی ہم آہنگی نے اس عمل کو وہ مہمیز بخشی کہ عالمی ماہرین اسے حالیہ برسوں کی سب سے بڑی سفارتی فتح قرار دینے پر مجبور ہو گئے۔اس ثالثی کے پیچھے جہاں عالمی امن کا جذبہ تھا، وہیں پاکستان کے اپنے معاشی اور داخلی محرکات بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں تھے۔ پاکستان بخوبی جانتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں لگی آگ اس کے اپنے چولہے ٹھنڈے کر سکتی ہے، کیونکہ توانائی کی ترسیل میں تعطل اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ اس کی نوزائیدہ معاشی بحالی کو نگل سکتا تھا۔ دوسری جانب ایران کے ساتھ کسی بھی براہ راست تصادم کے اثرات پاکستان کی اپنی بڑی شیعہ آبادی اور داخلی فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر بھی پڑ سکتے تھے۔ لہٰذا، اسلام آباد نے سعودی عرب، ترکی، مصر اور خاص طور پر چین کے ساتھ مل کر ایک ایسا علاقائی بلاک متحرک کیا جس نے جنگ کے شعلوں کو فی الوقت سرد کر دیا ہے۔
اب جبکہ دس اپریل سے اسلام آباد میں باقاعدہ مذاکرات کا ڈیرہ لگنے والا ہے، دنیا بھر کی نظریں اس شہر پر جمی ہیں جو کبھی افغان امن عمل کا مرکز تھا اور آج امریکہ ایران کشیدگی کے خاتمے کی امید بن کر ابھرا ہے۔ اگرچہ اسرائیل کی مخالفت اور فریقین کے درمیان دہائیوں پرانی بداعتمادی اب بھی بڑے چیلنجز ہیں اور اسرائل ہر ممکن حد تک اس ثالثی کی ناکامی کی کوشش بھی کریں گے، لیکن پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر نیت اور حکمتِ عملی درست ہو تو طوفان کے مرکز میں بھی مصلح کا خیمہ گاڑا جا سکتا ہے۔ سفر اب بھی طویل ہے اور راستہ دشوار گزار، مگر اس عارضی جنگ بندی نے دنیا کو یہ پیغام ضرور دے دیا ہے کہ امن کی راہیں ہمیشہ بندوق کی نالی سے نہیں بلکہ اسلام آباد جیسے سفارتی پلوں سے ہو کر گزرتی ہیں۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *