تحریر: انزلہ صدیقی

آج کے دور میں جہاں ٹیکنالوجی کی اہمیت و افادیت ہے اور اب ہماری ضرورت بھی بن چکی ہے، اس کا اثر ہماری زندگی میں بہت حائل ہو چکا ہے۔ گزشتہ چند سال قبل ٹی وی اسکرین پر ایک آئس کریم کا اشتہار نظر سے گزرا تھا۔ آج وہی اشتہار اپنی آنکھوں سے سچ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

​کل ہی کا واقعہ ہے۔ ڈائننگ ٹیبل (dining table) پر کھانا لگایا جا رہا تھا۔ سب کو اپنے اپنے کمروں سے آوازیں دے کر بلایا گیا۔ ہر فرد اپنے کمرے سے نکلا، ہاتھ میں موبائل فون تھام رکھا تھا۔ کچن سے ڈائننگ ٹیبل اور پورے کمرے میں کھانے کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ لیکن کھانے کی ٹیبل پر عجیب خاموشی تھی۔ گھر کا ہر فرد سر جھکائے بیٹھا ہوا تھا، آپس میں بات چیت کے بجائے ہاتھوں میں اسمارٹ فون تھام رکھا تھا، انگلیاں موبائل پر ٹک ٹک چل رہی تھیں، سر جھکائے آنکھیں موبائل فون پر ٹکائے بیٹھے ہوئے تھے اور کسی نے کانوں میں ایئر پوڈز لگائے ہوئے تھے۔ حتیٰ کہ خاموشی اتنی گہری تھی کہ ایک دوسرے کی موجودگی کا بھی پتہ نہیں چل رہا تھا۔ ایک ہی چھت کے نیچے ہو کر بھی ایک دوسرے کے لیے انجان ہو چکے تھے۔

​ٹیکنالوجی نے میلوں دور کے فاصلوں پر ہمیں جوڑا تو ہے لیکن رشتوں کی کوالٹی، اہمیت و وقت ختم کر دیا ہے۔ گھر میں رونق، ساتھ مل کے بیٹھنا اور بیٹھک میں باتوں کی گونج اب سنائی نہیں دیتی۔ قریب ہو کر بھی میلوں کی دوری ہے۔ آج بظاہر سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی نے ہمیں جوڑا تو ہے لیکن ہمیں اپنے ساتھ بیٹھے والدین، بہن بھائیوں سے ناآشنا کر دیا ہے۔ جہاں آج کے دور میں وائی فائی کے سگنل مضبوط ہوئے اور ہم میلوں دور بیٹھے لوگوں کی پوسٹ کو دھیان سے پڑھ رہے ہیں اور ان کی اسٹوریز کو لائیک (like) اور کمنٹ (comments) کر رہے ہیں، وہیں دلوں کے سگنل کمزور ہو گئے ہیں۔ اپنے ساتھ رہنے والے گھر کے افراد اور والدین کو وقت و اہمیت نہیں دیتے اور بچوں پر توجہ نہیں دیتے۔ وہیں پیچیدہ مسائل جنم لیتے ہیں اور گھریلو جھگڑوں کو جگہ ملتی ہے۔

​جہاں موبائل فون کے اتنے فائدے ہیں، وہیں اس کے نقصانات بھی ہماری زندگیوں میں مائل ہو گئے ہیں۔ موبائل فون ہاتھ میں ہو تو ہماری نیندیں غائب ہو جاتی ہیں۔ ذاتی زندگی میں اس کا اثر بہت گہرا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایک گھر میں رہتے ہوئے کال پر گفتگو ہوتی ہے۔ شوہر و بیوی کے درمیان بات چیت کی جگہ اب واٹس ایپ (WhatsApp) اسٹیٹس نے لے لی ہے۔ بزرگوں کی بات نہیں سنی جاتی، بچوں کی پرورش پر توجہ نہیں۔ جب بچے اپنے سامنے والدین کو موبائل فون استعمال کرتے دیکھتے ہیں اور اپنے پیرنٹس (parents) سے اگنور ہوتے ہیں، تو توجہ نہ ملنے کی صورت میں وہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کے باعث ان کا ذہن کمزور ہوتا ہے اور اس سے ان کی پرسنیلٹی (personality) پر اثر پڑتا ہے، جس کے باعث وہ چڑچڑاپن کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔

​سوشل میڈیا پر ہم اپنی خوشیاں تو دکھاتے ہیں مگر اصل زندگی میں ہم اکیلے پن اور تنہائی (loneliness) کا شکار ہیں۔ ایک دوسرے سے برتری حاصل کرنے کی دوڑ میں اور سوشل میڈیا پر اسٹیٹس اپ لوڈ کرنے کے چکر میں ہم نے اپنے آپ کو اس کا غلام بنا لیا ہے۔ اس کے باعث آج اپنے آپ کو ہم نے خود ذہنی دباؤ میں ڈال دیا ہے اور بچوں کی بدتمیزی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

​ہمیں تھوڑا ڈیجیٹل ڈیٹوکس (digital detox) کی ضرورت ہے۔ اپنے آپ کو بہتر بنانے کے لیے اپنے اوپر توجہ دینی ہوگی اور اپنے گھر کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے اپنے اردگرد کے لوگوں کو وقت دینا ہوگا۔ ہر چیز کو بیلنس میں رکھنا ضروری ہے۔ کھانے کی ٹیبل پر موبائل فون استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اپنے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرنی چاہیے۔ قریبی ساتھیوں کے حال اور احوال معلوم کرنے کے لیے ان سے ملنا چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو لائیکس بٹورنے کے چکر میں ہم اپنی اصل زندگی کی محبتیں کھو بیٹھیں۔ بہتر مستقبل کے لیے بہترین ماحول کا ہونا لازمی ہے، اس کی شروعات مجھے، آپ کو، ہم سب کو کرنی ہوگی۔

“کیسی اداسی ہے کہ الفاظ بھی خاموش ہیں،

رشتے بھی ادھورے اور احساس بھی خاموش ہیں”

کالم : فرید رزاقی
صدر، پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ اینڈ کری ایٹرز

کبھی کبھی قومیں لفظوں سے نہیں بلکہ تصویروں، رنگوں اور احساسات سے بولتی ہیں۔ “معرکۂ حق” کی تصویری نمائش بھی کچھ ایسی ہی ایک خاموش مگر طاقتور گفتگو تھی جس نے لاہور کے پلاک ہال کو صرف ایک نمائش گاہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے قومی جذبے اور فکری بیداری کا مرکز بنا دیا۔ بطور صدر پی ایف یو سی میرے لیے یہ لمحہ بے حد باعثِ فخر تھا کہ ہم نے اس قومی جذبے اور تخلیقی اظہار سے بھرپور پروگرام کو نہ صرف ترتیب دیا بلکہ اسے ایک ایسی صورت دی جو فن، صحافت اور حب الوطنی کے حسین امتزاج کی عکاس بن گئی۔
یہ محض ایک تقریب نہیں تھی، بلکہ ایک احساس تھا جو دیواروں پر آویزاں تصویروں سے جھلک رہا تھا۔ وہ تصویریں جو صرف رنگوں کا کھیل نہیں بلکہ ایک ایسے عزم کی کہانی تھیں جس نے یہ ثابت کیا کہ پاکستان آج بھی اپنے دفاع، وقار اور خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرتا۔
اس نمائش کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ تھی کہ یہاں صرف ماضی نہیں دکھایا گیا بلکہ ایک ایسا حال بھی پیش کیا گیا جو قوم کو اس کی اصل طاقت یاد دلاتا ہے۔ طلبہ و طالبات کے فن پاروں میں کہیں حوصلہ تھا، کہیں عزم، کہیں قربانی کا جذبہ اور کہیں وہ غیر متزلزل یقین جو پاکستانی قوم کی شناخت ہے۔
تقریب کا افتتاح اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کیا، جن کی گفتگو میں ریاستی وقار اور قومی اعتماد کی جھلک نمایاں تھی۔ ان کے ہمراہ صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات، چیئرمین دی یونیورسٹی آف لاہور اویس رؤف، چئیرمین آرار گروپ ہمایوں سرور، سی ای او چیزیئس فوڈز عمران اعجاز، چیئرمین چیلتن گروپ نجم مزاری، رحمان عزیز خان ، ممبر قومی اسمبلی محترمہ شمائلہ رانا نے بھی نمائش کا دورہ کیا اس موقع پر جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ ایک کم عمر آرٹسٹ جس کی اس مصوری مقابلے میں دوسری پوزیشن آئی ہے اس کے گردوں کا ڈائیلیسز چل رہا ہے انہوں ے فی الفور احکامات جاری کرتے ہوئے اس بچے کے تمام تر علاج کی ذمہ داری خود لینے کا اعلان کیا۔

تقریب میں دفاعی امور کے ماہرین بریگیڈیئر نادر میر، بریگیڈیئر سید غضنفر علی، بریگیڈیئر شاہد، بریگیڈیئر ٹیپو کریم اور کرنل شاہد حسین کی شرکت نے اس قومی مکالمے کو مزید وقار، سنجیدگی اور دفاعی بصیرت عطا کی، جن کی موجودگی وطنِ عزیز کے دفاعی پہلوؤں سے وابستہ فکری مضبوطی کی عکاس تھی۔
بلال احمد بٹ ، ڈاکٹر طارق شیرف زادہ سیرت اسکالر، غلام علی بیویو کریٹ اداکار راشد محمود اور دیگر معزز شخصیات کی موجودگی نے اس بات کو مزید مضبوط کیا کہ یہ نمائش صرف آرٹ نہیں بلکہ قومی سوچ کی نمائندگی ہے۔
یہاں صحافت بھی موجود تھی، سیاست بھی، فن بھی اور ریاستی اداروں کا اعتماد بھی۔ سلمان غنی، ایثار رانا ،عبدالمجید ساجد، صفدر علی خان،مصطفے کمال پاشا، میاں سیف الرحمان ، جیسے صحافیوں کی موجودگی اس بات کی علامت تھی کہ سچائی اور قومی بیانیہ آج بھی ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ جبکہ حسن مرتضیٰ، جواد احمد اور دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے اس بات کو اجاگر کیا کہ اختلافات اپنی جگہ، مگر وطن کی بات پر سب ایک ہیں۔


سب سے زیادہ متاثر کن لمحہ وہ تھا جب نوجوان فنکاروں نے اپنے فن پارے پیش کیے۔ یہ صرف پینٹنگز نہیں تھیں، بلکہ ایک نسل کا اپنے وطن سے مکالمہ تھا۔ ایک ایسا مکالمہ جس میں فخر بھی تھا اور امید بھی۔
مصوری مقابلے میں شریک تمام فنکاروں کو اعزازات سے نوازا گیا، جبکہ پہلی تین پوزیشن حاصل کرنے والوں کے لیے کیش انعامات نے ان کی محنت کو ایک عملی پذیرائی دی۔ مگر اصل انعام وہ حوصلہ تھا جو ہر شریک کو ملا۔
اس پورے تخلیقی سفر میں ججز میڈیم صائمہ، مس افق جاوید، علی حمزہ اور عمران صاحب کا کردار انتہائی اہم تھا۔ ان کی فنی رہنمائی اور منصفانہ فیصلہ سازی نے اس مقابلے کو وقار عطا کیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہ نمائش صرف فنکاروں کی نہیں بلکہ ایک فکری تربیت بھی تھی تو غلط نہ ہوگا۔
اسی طرح عمران احمد کاڈیہ کی انتظامی محنت اس پروگرام کی ریڑھ کی ہڈی تھی۔ وہ خاموشی سے، مگر مسلسل، اس پورے نظام کو جوڑنے میں مصروف رہے جہاں ہر چیز اپنے وقت اور اپنے انداز میں مکمل نظر آئی۔
اور پھر وہ لمحہ جب یہ سب کچھ ایک ہی احساس میں سمٹ آیا، کہ پاکستان صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک زندہ نظریہ ہے۔ چیئرمین پی ایف یو سی فرخ شہباز وڑائچ نے بجا کہا کہ آج کا پاکستان دنیا کے سامنے ایک نئے اعتماد، نئے تشخص اور نئی پہچان کے ساتھ کھڑا ہے۔ جناب چیئرمین فرخ شہاز وڑائچ نے اس نمائش کو ممکن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ان کا تہہ دل سے شکریہ۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ ایسی تقریبات صرف ایونٹس نہیں ہوتیں، یہ یاد دہانیاں ہوتی ہیں۔ ہمیں یہ یاد دلاتی ہیں کہ قومیں صرف فوج یا سیاست سے نہیں بنتیں، بلکہ قلم، فن، نوجوانوں کے خواب اور اجتماعی شعور سے بنتی ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آرگنائزنگ کمیٹی کے آراکین محمد نور الہدیٰ،عبالماجد ملک ، اظہر تھراج ، ساجد خان، وقار اسلم، فرحان خان، سعدیہ خالد، نے جس عزم، نظم اور خلوص کے ساتھ اس پورے پروگرام کو ممکن بنایا، وہ اپنی جگہ ایک الگ کہانی ہے۔ ان کا یہ اجتماعی کردار اس بات کی دلیل ہے کہ جب نیت قومی ہو تو کام خود راستہ بنا لیتا ہے۔
معرکۂ حق کی یہ نمائش دراصل ایک دن کی سرگرمی نہیں تھی، یہ ایک سوچ تھی جو یہ کہہ رہی تھی کہ پاکستان صرف نقشے پر ایک خطہ نہیں، بلکہ دلوں میں بسنے والا ایک یقین ہے۔

By Unzila Siddiqui

​History often proves that when arrogance drives a state’s narrative, the truth is the first casualty. In the aftermath of the Falgham incident, we witnessed a display of political theater that was as swift as it was baseless. Within a mere ten minutes—before any investigation could have reasonably begun—the Modi government filed an FIR against Pakistan. It was a calculated move, using a tragic event as a pawn in a larger, more dangerous game.

​But as the dust settled, the narrative began to crumble from within. Even in Jammu and Kashmir, and across various circles in the Indian media, the public began to ask the questions that the authorities were desperate to avoid. Where were the security forces at the hour of the attack? Why were the CCTV cameras conveniently inactive? And how did the attackers manage to escape from a high-security zone without a trace? The lack of answers spoke louder than the accusations themselves.

​As the Indian government doubled down on its tough stance, regional tensions spiked. Amidst the fog of “Operation Sandur”—conducted in the silence of the night—and a flood of conflicting reports on Indian news channels, the atmosphere grew heavy with the threat of escalation.

​It was in this moment of heightened risk that the Pakistan Armed Forces took a definitive stand. Their message was simple: sovereignty is non-negotiable.

​This resolve gave birth to Operation Bunyan al-Marsus. The name is profoundly symbolic, translating to “The Leaden Wall.” It describes a force so united, so tightly knit, that no gap exists for an enemy to exploit. But the true “Leaden Wall” wasn’t just the military hardware; it was the people of Pakistan.

​In an extraordinary display of national character, the entire nation stood shoulder-to-shoulder with its defenders. This wasn’t just a military operation; it was a revival of the national spirit. Our forces met the crisis with courage, wisdom, and an unwavering perseverance that eventually paved the way for de-escalation and a tentative return to peace.

​The lesson of this episode remains etched in our history: the real power of a nation is not found in aggressive rhetoric, but in the unity, tolerance, and cohesion of its people. When a nation stands as a single, undivided force, it becomes invincible.

تحریر: انزلہ صدیقی

غرور اور تکبر سے بھرپور مودی سرکار نے پھلگھم میں ہونے والے حملے کو موہرا بنا کر پاکستان کے خلاف محض 10 منٹ میں ایف آئی آر درج کروائی۔ اس کے بعد بھارتی میڈیا، جموں و کشمیر اور اطراف کے مختلف حلقوں میں بھارتی ریاست کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے۔ عوامی سطح پر یہ سوال کیا جا رہا تھا کہ حملے کے وقت سیکیورٹی فورسز کہاں تھیں؟ سی سی ٹی وی کیمرے کیوں غیر فعال تھے؟ اور حملہ آور کس طرح کارروائی کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوئے؟

چونکہ بھارتی حکومت نے پاکستان پر الزامات عائد کرتے ہوئے سخت مؤقف اختیار کیا، اس کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ پھلگھم واقعے کو بنیاد بنا کر بھارت کی جانب سے مختلف عسکری اور سیاسی اقدامات کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

اس کے بعد بھارتی میڈیا پر متضاد اور غیر مصدقہ خبریں نشر کی جاتی رہیں، جنہیں بعض حلقوں میں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

اس پورے تناظر میں “آپریشن سندور” کا ذکر بھی سامنے آیا، جس کے دوران رات کی تاریکی میں کارروائی کی اطلاعات سامنے آئیں۔

ارشادِ باری تعالیٰ:

وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ

“اور اللہ کی راہ میں ان سے جنگ کرو جو تم سے لڑتے ہیں اور حد سے نہ بڑھو، بے شک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔”

اور ایک مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ

“اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ ہی کا ہو جائے۔”

اس صورتحال کے دوران پاکستان کی مسلح افواج نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ اگر ملک پر حملہ ہوا تو بھرپور دفاع کیا جائے گا۔

اسی تناظر میں “آپریشن بنیان المرصوص” کا آغاز کیا گیا، جس کا تصور اتحاد، استقامت اور مضبوطی کی علامت ہے۔ “بنیان المرصوص” کا مطلب سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے، یعنی ایک ایسی متحد قوت جو دشمن کے مقابلے میں مضبوطی سے کھڑی ہو۔

قرآنِ مجید میں سورۃ الصف میں ارشاد ہوتا ہے:

اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِيْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ

ترجمہ: بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت فرماتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔

اس موقع پر پوری پاکستانی قوم یکجہتی کے ساتھ اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی رہی۔ دفاعِ وطن کے جذبے نے قوم کو ایک لڑی میں پرو دیا۔

پاکستانی افواج نے جرات، حکمت اور استقامت کے ساتھ صورتحال کا سامنا کیا، جبکہ ملک میں قومی یکجہتی کا جذبہ مزید مضبوط ہوا۔

بعد ازاں صورتحال میں کشیدگی کم کرنے اور امن کی طرف پیش رفت کے اشارے بھی سامنے آئے۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَإِن جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ

“اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو آپ بھی اس کی طرف مائل ہو جائیں اور اللہ پر بھروسہ کریں۔”

اس پورے منظرنامے سے یہ سبق ملتا ہے کہ اتحاد، برداشت اور قومی یکجہتی ہی کسی بھی قوم کی اصل طاقت ہے۔

علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا:

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

پاکستان زندہ باد۔

تحریر: ندیم ناداں

 

*ترجمہ*
:*بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں جیسے سیسا پلائی ہوئی دیوار۔*
پاکستان 14 اگست 1947 کو جب دنیا کے نقشے پر ابھر کر سامنے آیا تو دنیا کو یہ ہر گز گوارا نہ تھا کہ مسلمانوں کی کوئی آزاد ریاست ہو جہاں مسلمان اپنے عقائد، مذہب کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔ہندوستان نے بے حد کوشش کی کے پاکستان اس دنیا کے نقشے پر موجود نہ رہے انہوں نے پاکستان بننے سے پہلے بھی انگریزوں کے ساتھ ملکر مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہا کی جس کے نتیجے میں مسلمانوں نے اپنے لئے الگ ملک کی جدوجہد کی اور اللہ کی مدد کے ساتھ قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ملک *پاکستان* بن گیا اور آج پوری دنیا کے لئے مرکزی کردار کی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور اب دنیا کے طاقتور ممالک جو کبھی پاکستان کو ماننے کو تیار تک نہیں تھے آج وہ پاکستان کے علاوہ کسی پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔
ترجمہ: *اوربے شک اللہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے زلت*
پاکستان جب سے معرض وجود میں آیا اسے ختم کرنے کے لئے سازشیں شروع کر دی گئیں اور ہندوستان نے اپنی ہر ممکن کوشش کی کے کسی طرح پاکستان کو دنیا کے نقشے سے مٹا دیا جائے ۔1965 کی جنگ ہو یا پھر 1971 کی جنگ ،کارگل ہو ابھی 2025 میں مئی کے مہینے ہونے والی کوشش الحمدللہ ہندوستان کو ہر جگہ ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اور اللہ کی مدد کے ساتھ پاکستان سرخر و ہوا ۔ 1965 میں دسمبر کے مہینے کا انتخاب کیا گیا اور اس ارادے سے پاکستان پر حملہ کیا گیا کے صبح کا ناشتہ لاہور جم خانہ کلب میں ہوگا ۔مگر خدا کی شان کے 1965 سے لیکر آج تک ہندوستان صرف خواب ہی دیکھتا رہا اور انشاءاللہ یہ اس کا خواب ہی رہے گا۔
2025 مئی کے مہینے سے پہلے پاکستان کی معیشت تنزلی کا شکار تھی ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا اکثر لوگ تو اسے دیوالیہ قرار دے چکے تھے۔ملک میں ہر طرف نفسا نفسی کا عالم تھا ،دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری تھی ،ہر طرف غیر یقینی کی سی صورت حال تھی یعنی کہا جاسکتا ہے ملک پاکستان بے شمار مشکلات کا شکار تھا۔ ہندوستان اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا وہ ہر ممکن کوشش کر رہا تھا کہ پاکستان کو عالمی دنیا میں بلکل تنہا کر دیا جائے اور پھر اپنے ناپاک عزائم جو کہ قیام پاکستان سے تھے وہ انہیں عملی جامہ پہنائے اور پاکستان کو دنیا کے نقشے سے مٹا دے ۔مگر کہاوت ہے نہ کہ!
*جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔*
مکار دشمن کہاں بعض آتا ہے جب اسے 1965 اور 1971 میں اپنے مقاصد حاصل نہیں ہوسکے تو وہ نئ تدبیریں کرنے لگا اور دوبارہ سے خود کو پاکستان کے خلاف کاروائی کے لئے منظم کرنے لگا اور کئی مرتبہ کوشش کی گئ کے جھوٹے واقعات کو بنیاد بنا کر پاکستان پر حملہ کیا جائے۔
مئی 2025 میں پہلگام واقع کروا کر پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ شروع کیا گیا پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوری دنیا کے سامنے ہندوستان کو آزاد تحقیقات کی پیشکش کی گئی مگر ہندوستان اس بات کو جانتا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے یہی وجہ ہے وہ اس پیش کش کو قبول کرنے سی انکار کرتا رہا کیونکہ وہ یہ جانتا تھا کہ یہ انکی سوچی سمجھی منصوبہ بندی کا حصہ ہے جس کا مقصد صرف اور صرف پاکستان پر حملہ کرنا اور دنیا کی نظر میں دہشت گرد ملک قرار دلوا کر عالمی دنیا میں تنہا کرنا تھا۔ہندوستان کی حکومت اور فوج مسلسل بدمعاشی کا مظاہرہ کر رہی تھی اور پاکستانی حکومت اور فوج مسلسل تحمل اور صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے شفاف تحقیقات پر زور دے رہی تھی مگر ہندوستان کا ارادہ کچھ اور تھا وہ تو اپنے ناپاک عزائم کو پورا کرنا چاہتا تھا جس کے لئے وہ ماضی میں متعدد بار کوشش کے باوجود ناکام رہا۔
6مئ کی رات تھی رمضان المبارک کا مہینہ تھا عوام نے حسب معمول 6 مئی کو افطاری کی اور اسی طرح مساجد میں تراویح کی نماز ادا کی گئ ۔مگر پھر اچانک رات کو 2بجے کے قریب ہندوستان کی فضائیہ نے لاہور مریدکے میں پہلا حملہ کرتے ہوئے مسجد اور مدرسے کو نشانہ بنایا جہاں مسلمان نہتے بچے اور بچیاں تعلیم حاصل کررہے تھے اور انہیں شہید کیا گیا اس کے بعد مختلف مقامات پر فضائی حملے کئے گئے۔پاکستانی فوج اور حکومت ابھی بھی ہمت اور صبر کا مظاہرہ کررہی تھی اور چاہتی تھی کے خطے کا امن و سکون برباد نہ ہو مگر ہمارے اس رویے کو دشمن نے کمزوری سمجھا اور مسلسل نہتی عوام اور مساجد پر حملے جاری رکھے ۔پاکستان اب تک صرف دفاعی پوزیشن پر تھا اور مسلسل ہندوستان اور پوری دنیا کو یہ موقع دے رہا تھا کہ وہ امن خراب نہ ہونے دیں مگر پوری دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی کسی ملک کی طرف سے ہندوستان کو نہیں روکا جارہا تھا ۔3 دن تک مسلسل ڈرون حملے لاہور اور اسلام آباد، پشاور کے علاوہ کئی شہروں بالخصوص آزاد کشمیر میں بھی کئے جاتے رہے اور پاکستان کی غیور عوام اس کا مقابلہ کر رہی تھی اور جذبہ اس قدر بڑھ گیا تھا کہ 1965 کا منظر دوبارہ سامنے آگیا جب ملک کی فوج اور عوام ایک دوسرے کے شانہ بشانہ لڑے تھے بلکل ویسے ہی ملک کا بچہ بچہ اپنی فوج اور حکومت کے ساتھ کھڑا ہوگیا اور فوج کے حق میں ریلیاں نکالی جارہی تھیں۔اور آرمی چیف اور حکومت سے دشمن کو بھرپور جواب دینے کا مطالبہ زور پکڑ رہا تھا  ۔آخرکار وہ دن آگیا جب پاکستان کی حکومت اور افواج کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور 10 مئی 2025 کی صبح فجر کی نماز کے بعد پاکستانی افواج کے غیرت مند سپہ سالار نے اپنی بہادر افواج کو انڈیا پر حملہ کرنے حکم دیا اور پھر دنیا نے یہ منظر دیکھا کہ پاکستان کے جانباز شاہین اور بری افواج دشمن پر ایسے جھپٹی کے 3 گھنٹے تک دشمن ملک کے دارالحکومت دلی پر صرف اور صرف پاکستانی فضائیہ کا مکمل کنٹرول تھا ۔ہندوستان بلکل بے بس ہوگیا دفاعی نظام جو کہ سب سے مہنگا ترین ائیر ڈیفنس سسٹم تھا اسے تباہ کیا گیا اور اپنے مشن کا کامیابی کے ساتھ مکمل کرکے واپس پاکستان آکر فضائیہ کے جوانوں نے بتایا کہ
*جھپٹنا ،پلٹنا پلٹ کر جھپٹنا*
*لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ*
*پرندوں کی دنیا کادرویش ہوں میں*
*کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ*
یہی خاصہ ہے ہم شاہینوں کا  ہمارے صبر کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ہم کمزور تھے بلکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ عام لوگوں کی جانیں جائیں اور دنیا کا امن تباہ ہو ۔پاکستان کی بری افواج نے جس طرح مزائل سے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا وہ منظر دنیا میں تاریخ رقم کرگیا ۔
پاکستان نے 10 مئی کے دن تین گھنٹے کی جنگ میں یہ بتا دیا ساری دنیا کو تم لاکھ تدبیریں کرو اور بے شک تعداد میں بھی بہت زیادہ آو مگر ہمارا اللہ اور جذبہ شہادت تم پر اس قدر بھاری ہے کہ تم چاہ کر اسے شکست نہیں دے سکتے ۔پاک فضائیہ نے تین گھنٹے میں دلی کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لیکر نا صرف ہندوستان بلکہ ساری دنا کو یہ بات سمجھ آگئی کہ پاکستان کی امن کی خواہش کمزوری نہیں تھی بلکہ وہ نہیں چاہتے تھے دنیا کا امن سکون برباد ہو ہر طرف عام لوگوں کا خون بہے اور دشمن ممالک کو بھی سبق اور پیغام مل گیا  جو یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ پاکستان کو آسانی  سے فتح کرلیں گے ۔یقینن ہمارے ملک کی غیور عوام، افواج پاکستان اور حکومت نے پوری دنیا کو یہ پیغام دے دیا کہ!
*تم دس بندے آکر پاکستان کو لے جاو گے تمہاری آنے والی دس نسلیں بھی پاکستان کو نہیں لے کر جاسکتیں،پاکستان ہمیشہ زندہ باد رہے گا۔*

تحریر: انزلہ صدیقی

 

3 مئی کو دنیا بھر میں “عالمی یومِ آزادیٔ صحافت” منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد صحافت کی آزادی، صحافیوں کے حقوق اور سچ بولنے کے حق کو عالمی سطح پر تسلیم کرنا اور اسے اجاگر کرنا ہے۔ یہ دن دنیا بھر کے ان تمام صحافیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع ہے جو حق کی خاطر برسرِ پیکار ہیں۔

 

3 مئی کو عالمی یومِ صحافت سے منسوب کرنے کی بنیاد 1991 میں افریقہ کے شہر ونڈہوک (Windhoek) میں ہونے والے ایک اہم اعلامیے (Windhoek Declaration) سے پڑی، جس میں آزاد اور خودمختار صحافت کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ بعد ازاں، اقوامِ متحدہ نے 1993 میں باضابطہ طور پر 3 مئی کو عالمی یومِ صحافت قرار دیا۔

 

صحافت اور آزادیٔ اظہارِ رائے کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ آزادیٔ صحافت معاشرے کا وہ آئینہ ہے جس میں خبروں اور تجزیوں کے ذریعے وہ حقائق سامنے لائے جاتے ہیں جو عام طور پر عوام کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ صحافت صرف خبریں پہنچانے کا نام نہیں، بلکہ یہ مظلوم کی آواز بننے اور معاشرتی برائیوں کو بے نقاب کرنے کا ذریعہ ہے۔ آزادیٔ صحافت ہر اس صحافی کا بنیادی حق ہے جو اپنے ملک اور پیشے سے مخلص ہے۔

 

آج کے دور میں جہاں معلومات کی بھرمار ہے، وہاں سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ جہاں سوشل میڈیا کے بے شمار فوائد ہیں، وہیں اس کے ذریعے جھوٹی خبروں اور افواہوں کے پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ ایسے حالات میں ہمیں ایسی صحافت کی ضرورت ہے جو سچ اور جھوٹ میں فرق واضح کرنے کی جرات رکھتی ہو۔ جو نہ صرف خبر دے، بلکہ اس کی تصدیق، تحقیق اور شفافیت کو بھی یقینی بنائے۔

 

یہ دن ہمیں سبق دیتا ہے کہ صحافت محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ صحافی کا قلم معاشرے کی اصلاح کا طاقتور ذریعہ بن سکتا ہے، بشرطیکہ اسے دیانتداری اور سچائی کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ ہمیشہ مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور غیر مصدقہ خبریں پھیلانے سے گریز کریں۔

 

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ایک آزاد، مضبوط اور ذمہ دار صحافت ہی ایک روشن اور باشعور معاشرے کی ضمانت ہے۔ آئیے اس عالمی یومِ صحافت کے موقع پر ہم سب عہد کریں کہ سچ کا ساتھ دیں گے، آزادیٔ اظہار کا احترام کریں گے اور صحافت کے وقار کو برقرار رکھنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔

 

فیض احمد فیض کا یہ مشہور مصرع یاد رہے:

“بول کہ لب آزاد ہیں تیرے، بول زباں اب تک تیری ہے

 

حق اور سچ کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والے تمام صحافیوں کو سلام

 

پاکستان زندہ باد!

Written By: Unzila Siddiqui

May 3 is observed globally as World Press Freedom Day, a solemn occasion dedicated to honoring the courage and sacrifice of journalists who have risked—and, in many cases, laid down—their lives in the unwavering pursuit of truth and justice. This day stands as a tribute to their resilience, integrity, and enduring commitment to informing humanity.

 

The purpose of this day is to recognize and reaffirm the essential principles of press freedom, the rights of journalists, and the universal right to express truth without fear or repression. It offers a moment to acknowledge those members of the press who continue to uphold these ideals despite intimidation, censorship, and adversity.

 

The origins of this observance trace back to the landmark Windhoek Declaration of 1991, adopted in the African city of Windhoek, which underscored the indispensable need for a free, independent, and pluralistic press. In recognition of its significance, the United Nations formally proclaimed May 3 as World Press Freedom Day in 1993.Journalism and freedom of expression are inextricably linked. A free press serves as the conscience of society, illuminating truths that might otherwise remain obscured. It is not merely a conduit for information, but a powerful instrument for amplifying marginalized voices, exposing injustice, and fostering accountability. The freedom of the press remains a fundamental right of every journalist devoted to truth and ethical responsibility.

In the contemporary information landscape, the principle of press freedom is widely acknowledged, yet its practical realization often remains fraught with challenges. Journalists who dare to speak candidly frequently encounter opposition, scrutiny, and orchestrated misinformation. Nevertheless, many persist with remarkable courage, steadfast in their mission to uphold truth and transparency.
In an age characterized by an overwhelming influx of information, the discernment between fact and falsehood has become increasingly complex. While digital platforms and social media have democratized access to information, they have simultaneously accelerated the proliferation of misinformation. In such an environment, the role of responsible journalism becomes ever more critical—journalism grounded in verification, rigorous research, and unwavering transparency.

This day serves as a powerful reminder that journalism transcends the boundaries of a mere profession; it is a profound responsibility. The pen, when guided by truth and integrity, possesses the transformative power to shape societies and inspire reform. Equally, the public bears a responsibility to seek information from credible sources and refrain from disseminating unverified narratives.
In conclusion, a free, robust, and responsible press is the cornerstone of an enlightened and informed society. On this World Press Freedom Day, let us collectively reaffirm our commitment to truth, uphold the sanctity of free expression, and honor the noble mission of journalism.

As George Orwell profoundly stated:

“Journalism is printing what someone else does not want printed; everything else is public relations.”

A tribute to all those journalists whose sacrifices continue to illuminate the path of truth and justice.