تحریر: شیخ خالد زاہد

دنیا کو تصادم کی جانب دھکیلنے کی کوئی نا کوئی وجہ موجود رہتی ہے، گزشتہ دو دہائیوں سے مشرق اور مغرب کے مابین تصادم کرانے اور اسے بڑھانے کی ہر ممکن کو ششیں کی جاتی رہی ہیں۔ یہاں اولین ترجیح درپردہ اسلام اور دیگر مذاہب کے مابین تصادم کی ہر ممکن کوشش کی جاتی رہی ہے اور کچھ نہیں تو اسلامی ریاستوں کو آپس میں لڑانے کا بھی کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جاتا۔ ان کوششوں کو تاریخ میں مختلف نامو ں سے یاد رکھا جائے گا، جن میں سب سے اول نمبر پر اقتدار یا پھر سوچ کی تبدیلی کے حوالے سے کی جانے والی سازشیں۔اس کی کیا ضرورت تھی، اس کی ضرورت اسے تھی جو طاقت کومتوازن نہیں رکھنا چاہتے اور  اپنی طرف رکھنا چاہتے ہیں اور ایک ملک کی بجائے ساری دنیا پر حکومت کے خواہ ہیں۔ لیبیا میں کرنل قذافی، عراق میں صدام حسین اوراردن میں شاہ حسین اسی طرح سے دیگر مسلم ممالک میں اقتدار کو منتقل کرنے کی کوششوں میں ملکوں کوہر ممکن طور پر تباہ و برباد کردیا اور اب وہ ممالک اپنی ناتواں معیشت کو بچانے کیلئے پھر سے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کیلئے اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں جو بظاہر اب ممکن ہوتا نہیں دیکھائی دیتااس سارے عمل میں یہاں طاقتور اور طاقتور ہوتا چلا جا رہا ہے۔

بڑی ہی عجیب منطق ہے کہ جنگیں امن کیلئے لڑی جاتی ہیں گویا امن کسی خاص کو مقصود ہو اور وہ اپنا امن قائم رکھنے کیلئے دوسرے پر جنگ مسلط کردے۔ غزہ کے معصوم بچوں کو کس بے رحمی سے شہید کیا گیا کیونکہ وہ اسرائیل کے مستقبل کیلئے خطرہ بن سکتے تھے اور اسرائیل کے بچوں کو امن فراہم کرنے کیلئے فلسطین کو یکطرفہ جنگ میں دھکیل دیا گیا۔ایران میں جنگ جہاں سے شروع ہوئی وہ بھی بچیوں کے ایک اسکول پر کیا جانے والا حملہ تھا، جہاں معصوموں کو شہید کر دیا گیا۔دنیا نے طاقت کے اس توازن کو ایران کے ساتھ شروع کی گئی جنگ سے پہلے تک تسلیم کرلیا تھا لیکن جب ایران نے بھرپور مذاہمت کا مظاہرہ کیا اور بڑھ چڑھ کر دشمن پر حملے کئے تو دنیا کو محسوس ہوا کے ایران کو تر نوالا سمجھنا بہت بڑی بھول تھی۔ یہاں بین الاقوامی طاقتوں نے بھی اس مسلط کی گئی جنگ کی مخالفت کی اور شائد یہ پہلی دفعہ ہوا کہ امریکہ اور اسرائیل کو اکیلے ہی اس محاظ پر لڑنا پڑا۔ آج جہاں ہم ذرائع ابلاغ کے دور میں زندہ ہیں، حقائق کو پھر بھی منظر عام پر نہیں لانے دیا جاتا اور نئی نسل کو سطحی معلومات میں الجھا کر خوب گھسیٹا جاتا ہے یعنی حالات کہیں سے کہیں نکل جاتے ہیں۔

نویں صدی عیسوی میں اسلحہ کی ایجاد کا آغاز ہوا اور باقاعدہ موجودہ طرز کی بندوقیں سولویں صدی عیسوی میں معرض وجود میں آئیں۔ اسلحہ ہمیشہ اپنے حفاظت یا دفاع کیلئے بنایا جاتا ہے۔ جب اسلحہ ایجادکیا گیا ہوگا تو ایجاد کرنے والے نے طاقت کے توازن کا سمجھیں ایک پیمانہ ترتیب دے دیا۔ پھر ایٹم بم کی تخلیق نے اس پیمانے کی حد کردی، اس سے آگے اس صلاحیت کی مقدار ہے یعنی کس ملک کے پا س کتنا طاقتور اور موثر ایٹم بم ہے۔اول تو یہ معاملہ تھا کہ کس کے پاس کون سا اسلحہ ہے پھر یہ مشکل آگئی کہ کس کے پاس کتنا اسلحہ ہے۔ پھر ایک باضابطہ اقوام عالم نے ایک بین الاقوامی ادارہ بنایا جو اسلحہ کی روک تھام کیلئے سرگرم کیا گیا کہ اب اسلحے کی اس بڑھتی ہوئی دوڑ کو روکنے کیلئے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اقوام عالم کو مزید اسلحہ بنانے یا جمع کرنے سے روکے۔ لیکن جو طاقتور تھے وہ مزید طاقتور ہوتے چلے گئے۔

پاکستان دنیا کا وہ ملک ہے جو مسلسل امن و امان کی بقاء کیلئے داخلی اور بیرونی دشمنوں سے عرصہ دراز سے لڑ رہا ہے۔پاکستان اور پاکستانی امن و آشفتی سے محبت کرنے والے لوگ ہیں یہی وجہ ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کی اس انتہائی گھمبیر جنگ کواپنی سفارتی بصیرت،  تدبر اور بردباری سے بغیر حلیف یا حریف بنے امن میں بدل کر رکھ دیا ہے۔جسکے لئے ۰۱ اپریل بروز جمعہ کا متبرک دن چنا گیا ہے۔یہ تاریخ سنہری حروف میں رقم ہونے جارہی ہے اور اللہ کی مدد سے پاکستان کی ان نتھک کوششوں کی بدولت ایک نئے دور کا آغاز ہونے جارہا ہے، جہاں دنیا کی تاریخ ایک اور بہت بڑا معاہدہ ہونے والا ہے۔ اس دن پاکستان نے اپنی سفارتی اوردفاعی قوت کی بدولت ساری دنیا میں اپنا لوہا منوایا۔یہ تاریخی معاہدہ پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں ہونے جا رہا ہے جس میں ایران اور امریکہ کے وفودباقاعدہ جنگ نا کرنے اور مل بیٹھ کر مسائل کا حل کرنے کی مفاہمتی یاداشت پر دستخط کریں گے۔یہاں چین، ترکی اور مصر کی کوششوں کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ انہوں نے پاکستان کو ہر ممکن سفارتی تعاون فراہم کیا۔ اب یہاں یہ سوال بھی اٹھے گا کہ دنیا جو عرصہ دراز سے یک قطبی طاقت کا مظہر تھی اب سے طاقت کا توازن برابر ہوجائے گا۔ ابھی یہ سوال قبل از وقت ہے۔کیا دشمن واقعی دنیا میں امن کا خواہاں ہے یا پھر کچھ اور۔

پاکستان اللہ رب العزت کی طرف سے عطاء کردہ اس کرہ عرض پر کسی عظیم نعمت سے کم نہیں ہے اور نعمت کو اس وقت تک کچھ نہیں ہوسکتا جب تک اس نعمت کا خالق نا چاہے، اس نعمت کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے قدرت نے کس کے ذمے کیا کام لگایا ہے یہ ہم اسی وقت جان پاتے ہیں جب وہ کام سرانجام پا جاتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی، دفاعی قیادت اور وہ تمام افراد جن کی ہمہ جہت جدوجہد کی بدولت امریکہ، اسرائیل اور ایران کی جنگ کو جو تیزی سے تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہونے جا رہی تھی، رکوادیا۔ پاکستان کا نام آج دنیا کہ ہر ذرائع ابلاغ پر نمایاں طور پر پڑھا جاسکتا ہے، تقریباً دنیا نے اس جنگ کے رکنے کو نا امریکہ اور نا ہی ایران کی فتح قرار دیا بلکہ سب پاکستان کی جیت کی بات کر رہے ہیں۔ دشمنوں کے سینے میں آگ کا آتش فشاں پھٹا پڑا ہوگا، ہم ہمیشہ سے دشمن کی ہر ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں لیکن ہمیں اور بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے، ہم پاکستان کی اس قائم کی گئی بالادستی کو کسی قیمت پر گنوانا نہیں چاہتے۔اللہ ہمیشہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔

تحریر: شیخ خالد زاہد

امریکی صدر ڈولڈ ٹرمپ کچھ روز قبل تک ساری دنیا میں اپنے امن پسند ہونے کا ڈھول دونوںہاتھوں سے پیٹتے سنائی دے رہے تھے(اور اپنے آپ کو دنیا کی خوشحالی کا ٹرمپ کارڈبتارہے تھے) جس کی وجہ پاکستان پر بھارتی جارحیت کے باعث  پیدا ہونے والی سنگین صورتحال تھی(کیونکہ دونوںممالک ایٹمی طاقت ہیں)۔ اس صورتحال میں بھارت کو اپنی جان بچانے کیلئے امریکہ کاسہارا لینا پڑا، جس کا تذکرہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریباًاپنی ہر تقریرمیں کیا کہ کس طرح سے انہوں نے دونوں ممالک میں بیچ ثالثی کا کردار ادا کیا اوردنیا کو دو ایٹمی طاقتوں کے ٹکراؤ سے بچایا۔ اس ساری صورتحال کو بھارتی ذرائعابلاغ نے ساری دنیا میں جھوٹ کا لبادہ پہنا کربڑھا چڑھا کر اپنی افواج کی کارگردگیکو پیش کیا، لیکن جھوٹ تو جھوٹ ہوتا ہے جیسے جیسے وقت گزرتا گیا جھوٹ کا رنگ اترتاگیا اور بھارتی ذرائع ابلاغ کو بھی اپنی فوج کی طرح منہ کی کھانی پڑی اور ساریدنیا میں جگ ہنسائی کا سبب تقریباً پورا بھارت ہی بن کر رہ گیا، کسی نے کیا خوبکہا ہے کہ انسان کو بغیرت ہونا چاہئے عزت تو آنی جانی چیز ہے۔دوسری طرف پاکستانیافواج نے اپنی کارگردگی کا لوہا ساری دنیا میں ثبوتوں کے ساتھ پیش کر کے منوایا،جس پر دنیا نے افواج پاکستان کی صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کیا۔یہاں ہم اپنےذرائع ابلاغ کا بھی بھرپور مثبت کردار کو بھی سراہائیں گے کہ جنہوں نے حالات کوانتہائی تدبر اور فہم کے ساتھ عوام تک پہنچایا۔ پاکستانیوں نے ہمیشہ سنگین نوعیتکی معاملات(خارجی ہوں یا داخلی) میں انتہائی بردباری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیاہے۔عوام ہو یا پھر سیاسی قیادت ملک کی بقاء کیلئے سب سرجوڑ کرایک ساتھ بیٹھ جاتےہیں، یہی وجہ ہے کہ ہمارا ایسا گٹھ جوڑ (ہم آہنگی)دیکھ کر کالی بھیڑوں کی بھی ہمتجواب دے جاتی ہے کہ وہ کسی ایسی حرکت کی مرتکب ہوں جس سے وہ نمایاں ہوجائیں اورکیفر کردار کو پہنچ جائیں۔ یہاں اس بات کو بھی تسلیم کرنا چاہئے کہ ہم سبپاکستانیوں کے دل اپنی فوج کے ہر قدم کے ساتھ دھڑکتے ہیں جو ملک کی سلامتی کیلئےنا صرف سرحدوں پر کمر بستہ ہوتے ہیں، داخلتی امن و آمان کو یقینی بناتےہوئے،سفارتی محاذ پر بھی حکومت کی ہر ممکن مدد کرتے دیکھائی دیتے ہیں۔ ہمپاکستانیوں نے ہر ہر مشکل وقت میں ایک ذمہ دار قوم ہونے کا بھرپور ثبوت دیا ہے اوردشمن پر اپنی یکجہتی سے خوفناک تاثر چھوڑا ہے۔

آجذرائع اور سماجی ابلاغ کی بنیاد پرساری دنیا میں کیا کچھ ہو رہا ہے، کسی کو انصافکے کٹھرے میں لانے سے لے کر کسی کو اس کے برے کام کی سزا دلوانے تک کی ذمہ داری انہی ذرائع کی مرہون منت سجھائی دیتا ہے۔ ہم پاکستانیوں کی زندگیوں میں بہت سارےایسے امور اچانک سے شامل کر دئیے جاتے ہیں جن کی نا تو ہم نے کوئی تربیت حاصل کیہوتی ہے اور نا ہی اس کا تذکرہ درسگاہوں سے میسر ہوتا ہے، سماجی ابلاغ اس کا منہبولتا ثبوت ہے جس کی بہتات سے ہمارا معاشرہ عدم توازن کا شکار ہوتا چلا جارہا ہے۔اس کا سب سے بڑا نقصان معاشرتی اقدار کو پہنچا ہے، ہماری نئی نسل اجتماعی زندگیوںسے نکل کر انفرادی ہوتی چلی جارہی ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ایک ہی کمرےمیں موجود لوگ ایک دوسرے سے گفتگو کرنے کی بجائے اپنے اپنے موبائل میں مصروف دیکھےجاسکتے ہیں اور تقریباً فیصلے سماجی ابلاغ پر ہی کرلئے جاتے ہیں۔

بظاہرحالات کی سنگینی میں کسی قسم کی کمی محسوس نہیں کی جارہی، البتہ مذاکرات کا چرچاضرور سنائی دے رہا ہے اورغیر مصدقہ اطلاعت کے مطابق امریکہ نے ایران کو اپنا پندرہرنقاطی امن معاہدہ بھیج دیا ہے اور ایران نے اپنے چھ مطالبے ساری دنیا کے سامنےرکھ دئیے ہیں۔ ان حالات کی سنگینی کو انتہائی تدبر کیساتھ ہمارے ذرائع ابلاغ نےسنبھالا ہوا ہے اورہر قسم کی ہنگامی صورتحال کو بہت خوبی سے سنبھالا ہوا ہے اور یہکردار قابل ستائش ہے۔خبروں کا ایسا توازن کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے کیونکہ جوطاقتور ہوتا ہے اسی کی خبریں اور اسی کی کامیابی دیکھائی اور بتائی جاتی ہیں۔اسرائیل اور امریکہ جو بظاہر زمین پر طاقت کا منبہ سمجھے جاتے ہیں اور جہاں چاہتےرہے ہیں اپنی مرضی سے حملہ آور ہوجاتے رہے ہیں، اسی متکبر سوچ کے اپنے ناپاک عزائمکی تکمیل کیلئے ایران پر چڑھائی کردی، ایک اندازے کے مطابق ان کا سمجھنا تھا دودنیا پھر زیادہ سے زیادہ تین دن میں ایران گھٹنے ٹیک دیگا اور ان سے امن کی بھیکمانگے گایا پھر ایران میں اندرونی خلفشار پیدا ہوجائے گا(جس طرح عراق، لیبیا اوردیگر ممالک میں ہوتا آیا ہے) لیکن وقت گواہی دے گا کہ ایک ایسا ملک جس پر تقریباتین دہائیوں سے زیادہ سے بے شمار پابندیاں لگی ہوئیں تھیں ایسامقابلہ کر رہا ہے کہحملہ آوروں کی نیندیں حرام کردی ہیں اور انہیں اب اپنے ملک میں چھپنے کی جگہ نہیںمل رہی ہے۔ ایران نے عزم شہادت کا ایسا علم بلند کر رکھا ہے کہ ان کے رہنما شہیدہورہے ہیں لیکن علم کو نیچے نہیں گرنے دیا جا رہا ہے اور ایک سے بڑھ کر ایکاولولازم میدان میں تیار کھڑا دیکھائی دیتا ہے۔ایران کا نظریہ شھادت ہے جس کیبدولت کوئی خوف انہیں جھکنے پر آمادہ نہیں کرسکتا۔ ایران کے عزم اور حوصلے کیبدولت آمریکہ اور اسرائیل کو دنیا نے ان کی اس مسلط کی ہوئی جنگ میں پہلی دفعہتنہا چھوڑ دیا ہے اوردنیا کے امن کی خاطر غیر جانبدار رہنے کا واضح فیصلہ کر لیاہے۔اب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ کو ختم کرنا چارہے ہیں انہیں اسرائیل کیپسپائی دیکھائی دینا شروع ہوگئی ہے، لیکن اب ایران جو عرصہ دراز سے اس فیصلہ کنمعرکہ کے انتظار میں تھا،جسکی وجہ سے ایران اس مسلط شدہ جنگ کو لمبا کرنا چاہتاہےاورانجام کیلئے اپنی شرائط منوانے تک جنگ کو جاری رکھنے کا عندیہ دیا جا چکاہے۔ایران دنیاکو واضح پیغام دینا چاہتا ہے کہ ایران نا تو کسی کے خوف میں مبتلاءرہا ہے اور نا ہی کسی کے ساتھ کا محتاج ہے۔آبنائے ہرمز نے دنیا کی شہہ رگ کا کامکیا ہے جس کا تعلق ایران سے ہے یہاں ایران نے اپنی طاقت کا لوہا منوایا ہے اورامریکہ اور اسرائیل پر بھرپور دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہاں یہ بھی سمجھنا چاہئے کہصورتحال کو کس خوبی اور بہترین جنگی حکمت عملی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔شائد اسیحکمت عملی کو سمجھنے کیلئے امریکی صدر نے کچھ وقت کیلئے حملے روکنے کا اعلان کیاہے۔

آمریکہکا یہ دعوی کے ایران اس جنگ کو روکنا چاہتا ہے کہاں تک درست ہے آنے والے کچھ دنوںمیں پتہ چل جائے گا۔ کیا یہ جنگ امریکہ کے دئے گئے پندرہ نکاتی معاہدے کے تحت اپنےمنطقی انجام کو پہنچے گی یا پھر ایران کے دئیے گئے چھ نکات اس جنگ پر اثر اندازہونگے۔دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ امریکہ نے جاپان پر جب ایٹم بم مارا تھا اس وقتجاپان مستحکم و منظم حکمت عملی کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا، امریکہ اگر ایٹم بمنا مارتا تو آج دنیا کی صورتحال مختلف ہوتی اور طاقت کا توازن بھی۔ دنیا کو یہضرور ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ اگر ایران جیسا ملک پسپائی کی طرف جائے گا تو وہاپنی پوشیدہ بھرپور صلاحیت کے ساتھ جہاں تک ممکن ہوسکے گا حملہ کرے گا(ہم تو ڈوبےہیں صنم، تم کو بھی لے ڈوبییں گے)۔ ایران کیلئے سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ آج تکمسلم دنیا اپنا ایک موقف واضح کرنے سے قاصر ہے کہ وہ کہاں اور کس کے ساتھ کھڑےہیں۔کیا یہ جنگ تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہوجائے گی، کیا قرب قیامت کی نشانیاںپوری ہوچکی ہیں، اسرائیل نے تو اپنی اس جنگ کو مذہبی لڑائی قرار دے دیا ہے اور وہاسے اپنے نجات دہندہ (دجال) کے آنے تک جاری رکھنا چاہتے ہیں۔آمریکہ اس جنگ میں تیلپر قبضہ کرنے کی خواہش لے کر کھڑا ہوا ہے جبکہ اسرائیل کو گریٹر اسرائیل بننے میںجن جن ممالک سے خطرہ ہے وہ ان سے لڑرہے ہیں۔ یعنی دواتحادی (امریکہ اوراسرائیل)پوشیدہ طور پر دو الگ الگ مقاصد کے حصول کیلئے دنیا کے امن کو داؤ پرلگائے ہوئے ہیں۔

تحریر: عمر خطاب

جب خلیج کی لہریں بارود کی بو سے بوجھل ہوں اور واشنگٹن سے تہران تک جنگ کے بادل اس قدر گہرے ہو جائیں کہ عالمی معیشت کا دم گھٹنے لگے، تو ایسے میں امن کی کسی فاختہ کا اڑنا کسی معجزے سے کم نہیں لگتا۔ اپریل دوہزار چھبیس کی ان تپتی دوپہروں میں جب مشرقِ وسطیٰ ایک ہمہ گیر جنگ کے دہانے پر کھڑا تھا، اسلام آباد سے اٹھنے والی سفارتی آواز نے دنیا کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا۔ پاکستان نے، جسے اکثر داخلی مسائل کا شکار ریاست سمجھا جاتا رہا، امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کروا کر ثابت کر دیا کہ تزویراتی تنہائی کے اس دور میں بھی وہ ایک ناگزیر ریاست ہے۔ یہ محض ایک اتفاقی کامیابی نہیں تھی، بلکہ دہائیوں پر محیط اس ہیجنگ یعنی متوازن خارجہ پالیسی کا نچوڑ تھا، جس کے تحت پاکستان نے ایک طرف امریکہ کے ساتھ اپنے دفاعی اور سٹریٹیجک تعلقات کو بحال رکھا تو دوسری جانب ایران کے ساتھ اپنی ایک ہزار کلومیٹر طویل سرحد اور مذہبی و ثقافتی رشتوں کی لاج بھی رکھی۔ عملی اور سٹریٹیجک تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کا یہ کردار کسی خاردار تار پر چلنے کے مترادف تھا۔ ایک طرف واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر متوقع پالیسیاں تھیں اور دوسری جانب تہران کا اپنے تزویراتی دفاع پر اصرار، لیکن پاکستان کی منفرد حیثیت یہ ہے کہ وہ واشنگٹن میں ایران کے سفارتی مفادات کی نمائندگی کرتا ہے، جو اسے دونوں دارالحکومتوں کے بند کمروں تک ایک ایسی رسائی فراہم کرتا ہے جو کسی دوسرے ملک کے پاس نہیں۔ اس سفارتی شطرنج میں پاکستان نے خاموش بروکر کا لبادہ اوڑھ کر پیغامات کی ترسیل ہی نہیں کی بلکہ ایک ایسا فریم ورک فراہم کیا جس نے دونوں حریفوں کو چہرہ بچانے کا موقع دیا۔ پاکستان کی سول اور فوجی قیادت کے درمیان مثالی ہم آہنگی نے اس عمل کو وہ مہمیز بخشی کہ عالمی ماہرین اسے حالیہ برسوں کی سب سے بڑی سفارتی فتح قرار دینے پر مجبور ہو گئے۔اس ثالثی کے پیچھے جہاں عالمی امن کا جذبہ تھا، وہیں پاکستان کے اپنے معاشی اور داخلی محرکات بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں تھے۔ پاکستان بخوبی جانتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں لگی آگ اس کے اپنے چولہے ٹھنڈے کر سکتی ہے، کیونکہ توانائی کی ترسیل میں تعطل اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ اس کی نوزائیدہ معاشی بحالی کو نگل سکتا تھا۔ دوسری جانب ایران کے ساتھ کسی بھی براہ راست تصادم کے اثرات پاکستان کی اپنی بڑی شیعہ آبادی اور داخلی فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر بھی پڑ سکتے تھے۔ لہٰذا، اسلام آباد نے سعودی عرب، ترکی، مصر اور خاص طور پر چین کے ساتھ مل کر ایک ایسا علاقائی بلاک متحرک کیا جس نے جنگ کے شعلوں کو فی الوقت سرد کر دیا ہے۔
اب جبکہ دس اپریل سے اسلام آباد میں باقاعدہ مذاکرات کا ڈیرہ لگنے والا ہے، دنیا بھر کی نظریں اس شہر پر جمی ہیں جو کبھی افغان امن عمل کا مرکز تھا اور آج امریکہ ایران کشیدگی کے خاتمے کی امید بن کر ابھرا ہے۔ اگرچہ اسرائیل کی مخالفت اور فریقین کے درمیان دہائیوں پرانی بداعتمادی اب بھی بڑے چیلنجز ہیں اور اسرائل ہر ممکن حد تک اس ثالثی کی ناکامی کی کوشش بھی کریں گے، لیکن پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر نیت اور حکمتِ عملی درست ہو تو طوفان کے مرکز میں بھی مصلح کا خیمہ گاڑا جا سکتا ہے۔ سفر اب بھی طویل ہے اور راستہ دشوار گزار، مگر اس عارضی جنگ بندی نے دنیا کو یہ پیغام ضرور دے دیا ہے کہ امن کی راہیں ہمیشہ بندوق کی نالی سے نہیں بلکہ اسلام آباد جیسے سفارتی پلوں سے ہو کر گزرتی ہیں۔

تحریر:وقار اسلم

عالمی بساط پر عمومی تاثر یہی ہے کہ ریاستوں کا وقار اور ان کی خارجہ پالیسی کی اڑان ان کی معاشی مضبوطی سے مشروط ہوتی ہے، لیکن تاریخِ عالم گواہ ہے کہ بعض اوقات قوموں کا عزم اور ان کی جیو اسٹریٹجک بصیرت معاشی اعداد و شمار کو مات دے دیتی ہے۔ آج سوال یہ ہے کہ کیا تاریخ میں کبھی ایسا ہوا ہے کہ 82 ہزار ارب روپے کے ہوشربا قرض میں جکڑا کوئی ملک، عالمی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی شرائط پر خارجہ پالیسی مرتب کر رہا ہو؟ دورِ حاضر میں پاکستان کا سفارتی محاذ اس سوال کا نہایت نپا تلا اور مدلل جواب دے رہا ہے۔ اگر ماضی کے اوراق پلٹیں تو پاکستان ہمیشہ عالمی طاقتوں کی ضرورت رہا ہے؛ 1971 کے بحران میں جب رچرڈ نکسن امریکہ کے صدر تھے، تب ذوالفقار علی بھٹو نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں نام نہاد “پولش ریزولوشن” کو پرزے پرزے کر کے قومی وقار کا پرچم بلند کیا تھا۔ اسی طرح سرد جنگ کے عروج پر امریکی صدر رونالڈ ریگن اور پاکستان کے صدر جنرل ضیاء الحق کا تزویراتی گٹھ جوڑ تاریخ کا حصہ ہے، مگر ان ادوار میں پاکستان کو اہمیت تو ملی لیکن یہ تعلق برابری سے زیادہ سپر پاور کی وقتی اور علاقائی ضرورتوں کے تابع تھا۔ اس کے بعد ایک وہ دور بھی آیا جب پاکستان کی خارجہ پالیسی کو سب سے زیادہ رگیدا گیا؛ نائن الیون کے بعد جارج ڈبلیو بش اور پھر باراک اوباما کے ادوارِ صدارت میں پاکستان پر جو دباؤ ڈالا گیا، وہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے جس میں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی، مگر واشنگٹن سے صرف “ڈو مور” کی اذیت ناک گردان سنائی دیتی رہی۔ یہ وہ وقت تھا جب ڈکٹیشن کے آگے سر تسلیمِ خم کرنے کو ہی خارجہ پالیسی کی کامیابی سمجھ لیا گیا تھا۔

خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا وہ پہلا حقیقی جھونکا ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں محسوس ہوا، جب ابتدا میں پاکستان کی امداد بند کرنے والے ٹرمپ کو بالآخر افغانستان سے انخلا کے لیے پاکستان کی ناگزیر اہمیت کا اعتراف کرنا پڑا؛ ماضی کے کسی امریکی صدر نے اس طرح کھلے عام پاکستان کے کلیدی کردار کی تعریف نہیں کی تھی جس نے “ڈو مور” کے بیانیے کو منطقی انجام تک پہنچایا۔ آج پاکستان کی سفارتی پختگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی شدید ترین کشیدگی میں اسلام آباد نے نہایت جرات مندی سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کا مقدمہ لڑا ہے اور عالمی دباؤ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے برادر اسلامی ملک کے حق میں جو دو ٹوک موقف اپنایا، وہ بھٹو دور کی یاد تازہ کرتا ہے۔ اسی اصولی سفارت کاری کا نتیجہ ہے کہ آج ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور رہبرِ معظم کے دفتر کی جانب سے پاکستان کی کاوشوں کا برملا اعتراف کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی اس مربوط خارجہ پالیسی کا ایک اور روشن پہلو عرب دنیا، بالخصوص متحدہ عرب امارات کے ساتھ حالیہ سفارتی طرزِ عمل میں نظر آتا ہے؛ جب یو اے ای کی جانب سے ویزا پابندیوں یا دیگر معاملات میں پاکستان کو آنکھیں دکھانے کی کوشش کی گئی، تو اسلام آباد نے روایتی معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے کے بجائے نہایت واضح اور سفارتی وقار کے ساتھ جواب دے کر ثابت کیا کہ برادرانہ تعلقات ڈکٹیشن پر نہیں بلکہ باہمی احترام پر استوار ہوتے ہیں۔ آج عالمی اور علاقائی اسٹیک ہولڈرز حیران ہیں کہ 82 ہزار ارب روپے کے بوجھ تلے دبی معیشت کے باوجود پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اتنا ربط اور خود مختاری کیسے آ گئی؟ حقیقت یہ ہے کہ جب فیصلہ سازوں میں یکسوئی ہو اور قومی مفاد مقدم ہو، تو معاشی کمزوریاں بھی ریاست کے وقار کا راستہ نہیں روک سکتیں؛ پاکستان آج تاریخ کے صحیح دھارے پر کھڑا ہے جہاں وہ نہ کسی کیمپ کا حصہ ہے اور نہ ہی “ڈو مور” کا اسیر، بلکہ اپنے خطے کا ایک باوقار فیصلہ ساز ہے۔

تحریر:شاہد عباس کاظمی

شہرِ اقتدار اسلام آباد میں چار اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا مشاورتی اجلاس ایسے موقع پر ہوا، جب پورا مشرق وسطیٰ جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے اور ایران کے جوابی وار نے اس وقت پوری دنیا کو عالمی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اسی پس منظر کی وجہ سے پوری دنیا نے پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی اس وزرائے خارجہ کانفرنس اور بیٹھک سے بہت سی امیدیں وابستہ کر لی ہیں اور آخری اطلاعات آنے تک اس بیٹھک کی ابتدائی کارکردگی امریکہ اور ایران کے ساتھ شیئر کی جا چکی ہے اور اعشاریے مثبت ہیں۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ جاری جنگ کے دوران ایسے امکانات کا جائزہ لیا جائے کہ جس سے اس جنگ کو روکنے میں مدد ملے اور حوصلہ افزاء پہلو یہ ہے کہ ان مذاکرات کو نہ صرف امریکہ بلکہ ایران کی حمایت بھی حاصل ہے اور اسحٰق ڈار صاحب امریکہ اور ایران دونوں سے مکمل رابطے میں رہے ہیں اور امید یہی کی جا رہی ہے کہ مذاکرات کے ابتدائی خدوخال واضح ہو چکے ہیں۔

اس بات میں ہرگز دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ جنگیں مسائل کا نہ ہی حل ہوتی ہیں اور نہ ہی جنگ کی وجہ سے ہم اپنی سوچ نافذ کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کا بغور مشائدہ کیا جائے تو اس خطے میں جنگ کی آگ اس طرح بڑھک رہی ہے کہ وہ کبھی بھی ایک عالمی جنگ کی سی صورتحال اختیار کر سکتی ہے۔ مختلف فریقین نئے اتحادیوں کی تلاش میں ہیں۔ روس یوکرین تنازعہ بھی اس لیے ایک نیا موڑ لے سکتا ہے کہ یوکرینی صدر اس جنگ میں کودنے کا عندیہ دے چکے ہیں اور ایسا ہوا تو روس خاموش تماشائی بننا ہرگز گوارا نہیں کرئے گا۔ خطے میں یمن کی صورتحال، لبنان میں بڑھکتی آگ اور سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا تنازعہ مل جل کر اس پورے خطے کو راکھ کا ڈھیر بنانے کے لیے کافی ہیں۔

جو صورتحال اس وقت عالمی سطح پر بن چکی ہے اور بالخصوص جو حالات اس خطے کے بنتے جا رہے ہیں اس میں تمام اہم ممالک جیسے روس اور چین کے علاوہ بھارت کی نظر خاص طور پر پاکستان پر جمی ہوئی ہے کہ آپریشن سیندور کی ناکامی کے بعد بھارت کی حتٰی الوسع کوشش ہو گی کہ پاکستان اس میزبانی کی دوڑ اور مصالحت کی مرکزیت سے باہر نکل جائے۔ لیکن پاکستان نے حیران کن طور پر اس جنگ کا حصہ بننے کے بجائے خود کو ایک مضبوط مصالحت کار کے طور پر منوایا ہے جس کا اقرار خود امریکہ اور ایران بھی کر رہے ہیں۔ اسلام آباد میں بنیادی طور پر یہ ایک صرف ملاقات نہیں تھی بلکہ پاکستان کا وقار تھا جو پوری دنیا میں اپنا لوہا منوا چکا ہے۔ یہ معاملات اس بات کے غماز ہیں کہ عالمی صف بندی میں اس وقت پاکستان اپنی دھاک نہ صرف بٹھا چکا ہے بلکہ مستقبل میں بھی پاکستان کا کردار اہم ہو گیا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ علاقائی اور عالمی طاقتوں کا اعتماد پاکستان پر بڑھتا جا رہا ہے۔

لیکن اس مصالحت کی صورتحال میں خلیجی ممالک ایک عجیب سے مخمصے کا شکار ہیں اور کوئی فیصلہ کرنے میں تامل سے کام لے رہے ہیں۔ پاکستان اگر فیصلہ لینے میں خلیجی ممالک کی مدد کر پاتا ہے تو یہ یقینی طور پر پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہو گی۔ کم و بیش تمام خلیجی ممالک میں امریکہ کے اڈے ہیں اور ایران ان پہ جوابی کاروائی کرنا اپنا حق سمجھتا ہے جب کہ خلیجی ممالک اس کو اپنی سرزمین پر ایران کی جانب سے حملے تصور کتے ہیں۔ اور گاہے بگاہے دھکمی آمیز بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ یہ اڈے نہ تو فوری طور پر ختم ہو سکتے ہیں کیوں کہ امریکہ کے ساتھ ان ممالک کی گاڑھی ساجھے داری اور مختلف معاملات میں شراکت داری ہے اور دوسری جانب اگر خلیجی ممالک اس جنگ میں براہ راست شامل ہو جاتے ہیں تو ایران کے پاس تو واحد حل ہی مارو یا مر جاؤ ہے۔

ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر کیے جانے والے جوابی حملوں سے بھی خلیجی ممالک براہ راست نہ صرف متاثر ہو رہے ہیں بلکہ ان کے معاشی استحکام کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے اور تیل کے بجائے سیاحت پہ انحصار کے پروگرام کو بھی ایران کے حملوں کی وجہ سے شدید نقصان پہنچا ہے۔ عالمی میڈیا میں یہ قیاس آرائیاں کہ سعودی ولی کا ٹرمپ پہ جنگ جاری رکھنے پہ اصرار اپنی دانست میں دلچسپ ہے۔ کیوں کہ خلیجی ممالک اس جنگ کے خاتمے کو ایران کی مضبوطی سے تعبیر کر رہے ہیں اور وہ یہ سوچے بیٹھے ہیں کہ اگر ایران مضبوط بن کر ابھرا تو ان کے مفادات پر کاری ضرب لگے گی۔ اسی وجہ سے پاکستان کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہو چکا ہے۔ بطور میزبان پاکستان تمام فریقین کے ساتھ اعتماد سازی کی فضاء قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا اور سعودی عرب اور ایران کے درمیان بھی پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اسحٰق ڈار عباس عراقچی اور امریکہ کو بھی اس معاملے پہ اعتماد میں لے چکے ہیں اس لیے آنے والے دنوں میں پاکستان کی اہمیت مسلم ہے۔

پاکستان جہاں اہک طرف ایران کی جانب سے تحریری ضمانت لینے میں مددگار ہو سکتا ہے کہ وہ خلیجی ممالک کے خلاف اپنی کاروائیاں روک دے تو دوسری جانب خلیجی ممالک کو بدلے میں اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی ضمانت دینا پڑ سکتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈے ایک حقیقت ہیں، اور ان اڈوں کا استعمال امریکی پالیسی کے تحت ہوتا ہے۔ بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات اور کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اس بات کی علامت ہیں کہ خطے میں امریکہ کا اثر و رسوخ کتنا گہرا ہے۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال ہونے سے کیسے روک سکتے ہیں، جبکہ ان کے اپنے دفاعی نظام کا ایک بڑا حصہ انہی اڈوں پر منحصر ہے۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب آسان نہیں، اور یہی اس بحران کی اصل پیچیدگی ہے۔ ایک طرف خلیجی ممالک اپنی سلامتی کے لیے امریکہ پر انحصار کرتے ہیں، اور دوسری طرف وہ ایران کے ساتھ براہ راست تصادم سے بھی بچنا چاہتے ہیں۔ اس توازن کو برقرار رکھنا ایک نہایت مشکل کام ہے۔

ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر شک کرتے ہیں، اور یہی شک کشیدگی کو بڑھاتا ہے۔ اگر اس شک کی دیوار کو گرا دیا جائے تو خطے میں امن کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں سعودی عرب کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب نہ صرف خلیجی ممالک کا ایک اہم رکن ہے بلکہ اس کا اثر و رسوخ بھی کافی وسیع ہے۔اگر سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات میں بہتری آتی ہے تو اس کے مثبت اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان کچھ پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے، لیکن موجودہ کشیدگی نے ان کوششوں کو متاثر کیا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کوششوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے اور اعتماد سازی کے عمل کو آگے بڑھایا جائے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر خطے میں موجود امریکی اڈوں سے ایران پر حملے جاری رہتے ہیں اور ایران ان کا جواب دیتا رہتا ہے تو یہ کشیدگی ایک نہ ختم ہونے والے چکر میں بدل سکتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان خلیجی ممالک کو ہوگا، کیونکہ یہ اڈے ان کی سرزمین پر واقع ہیں۔ اس صورتحال میں نہ صرف ان کی سلامتی بلکہ ان کی معیشت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ اس کشیدگی کو فوری طور پر کم کیا جائے۔ جنگ کا دائرہ اگر مزید پھیلا تو اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی تجارت میں رکاوٹیں، اور مہنگائی جیسے مسائل پوری دنیا کو متاثر کر سکتے ہیں۔

پاکستان، ترکی، مصر اور سعودی عرب کی جانب سے کی جانے والی یہ سفارتی کوشش اسی لیے نہایت اہم ہے۔ یہ ایک ایسا موقع ہے جسے ضائع نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگر اس موقع کو صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے تو نہ صرف اس جنگ کو روکا جا سکتا ہے بلکہ خطے میں ایک دیرپا امن کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ مشرق وسطیٰ اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ جنگ اور تباہی کی طرف جاتا ہے، جبکہ دوسرا امن اور استحکام کی جانب۔ فیصلہ ان ممالک کے ہاتھ میں ہے جو اس خطے کے مستقبل کا تعین کر رہے ہیں۔ اگر انہوں نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا تو یہ خطہ ایک روشن مستقبل کی طرف بڑھ سکتا ہے، بصورت دیگر تاریخ خود کو ایک بار پھر دہرا سکتی ہے۔

یہ وقت ہے کہ عقل و تدبر سے کام لیا جائے، اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے، اور اس خطے کو ایک نئی جنگ کے دہانے سے واپس لایا جائے۔ کیونکہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں، اور امن ہی وہ راستہ ہے جو سب کے لیے بہتر ہے۔

تحریر: عامر کاکازئی

پاکستان کی سفارتکاری 2026 کی خلیجی بحران یا جنگ میں کچھ اس طرح سے ہے کہ وہ کسی کا ساتھ دینے کے بجائے غیر جانبدار ہے، مسلسل رابطوں (شٹل سفارتکاری) کے ذریعے معاملات سلجھانے کی کوشش کر رہا ہے اور خود کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کر رہا ہے جو فریقین کے درمیان صلح کروا کر خود کو امن کا ثالث کہلوا سکے۔

اگر ہم پاکستان کی امن کے لیے کوششوں پر نظر ڈالیں تو مندرجہ زیل چار پوئینٹس پر پاکستان نے پیش قدمی کی ہے۔
۱۔ حملوں کی مذمت : پاکستانی سرکار نے نا صرف امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر حملوں کی مذمت کی بلکہ ، اسکے ساتھ ساتھ ایرانی جوابی حملوں (جو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور قطر سمیت خلیجی ریاستوں پر ہوئے) پر بھی شدید تنقید کی ہے۔ خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے گہرے تعلقات (خاص طور پر پاکستان-سعودی باہمی دفاع کے حالیہ معاہدے) کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے ساتھ یکجہتی کا کھلے الفاظ میں اظہار کیا گیا، لیکن کسی فوجی اتحاد میں شامل ہونے یا فوجیں بھیجنے سے بھی انکار کیا۔
۲۔ ثالثی بزریعہ خفیہ سفارت کاری : پاکستان نے اپنی منفرد جغرافائی اور دوستانہ حیثیت کا بھرپور فائدہ اٹھایا، وہ ایسے کہ ایران کے ساتھ 900 کلومیٹر مشترکہ سرحد، خلیجی عرب ریاستوں سے قریبی تعلقات، اور امریکہ کے ساتھ بہتر روابط نے امن کی طرف پیش قدمی میں مدد دی۔ اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان خفیہ پیغامات ٹرانسفر کیے ، بشمول امریکہ کے مبینہ 15 نکاتی سیز فائر فریم ورک کی ترسیل اور ایرانی صدر مسعود پیزشکیان اور امریکی حکام سے براہ راست ٹیلی فونک رابطے بھی کرواۓ۔
۳۔ علاقائی سفارتکاری کانفرنس: مارچ 2026 کے آخر میں پاکستان نے اسلام آباد میں سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کروایا، تاکہ تنازعہ کی شدت کو کم کیا جا سکے۔ وزیر خارجہ اسحاق دار نے بار بار اسلام آباد کو امریکہ-ایران براہ راست یا سہولت کار بات چیت کے لیے مقام پیش کیا ہے اور کہا کہ “ایران اور امریکہ دونوں نے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے”۔ دوسری طرف چین نے پاکستان کی ان کوششوں کی حمایت کی۔
۴۔ اقوام متحدہ اور پاکستان : اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے سفیر نے خلیج تعاون کونسل کو “علاقائی استحکام کا ستون” قرار دیا،ُ ایک طرف خلیجی ممالک پر حملوں کی مذمت کی تو دوسری طرف خبردار بھی کیا کہ ایران پر امریکی-اسرائیلی حملے ایک انٹرنیشنل بحران کو جنم دے سکتے ہیں۔ یہ مطالبہ بھی کیا کہ فوری جنگ بندی کی جاۓ اور جامع امن مذاکرات شروع کئے جائیں۔ پاکستان نے فوری آپسی مذاکرات پر زور دیا اور ساتھ میں کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تمام ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتے ہوے مزید تباہی سے گریز کیا جاۓ۔

اگر ہم پورے مضمون کو مختصرً بیان کریں تو وہ کچھ اس طرح سے ہو گا کہ “ پاکستان اس وقت ایک جرأت مندانہ، سفارتی حکمت عملی اپنا رہا ہے۔ خلیجی ممالک، چین، ایران اور امریکہ کے ساتھ بہت مشکل سے توازن برقرار رکھ رہا ہے۔ یوں سمجھیں کہ پلِ صراط سے گزرتے ہوۓ اور علاقے کی سلامتی کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی سفارتی حیثیت کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاکہ جو حیثیت وہ پچھلی حکومت میں کھو چکا تھا اب امن ساز کی حیثیت سے اپنا کردار کو دنیا کے آگے منوا سکے۔
شاید مستقبل میں پاکستان کو Ambassador of Peace کا خطاب مل سکے۔ انشاء اللہ

تحریر: عمر عبدالراحمن جنجوعہ

موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں اگر پاکستان کی پوزیشن کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ملک سفارتی سطح پر ایک مضبوط اور متوازن مقام حاصل کر چکا ہے۔ یہ استحکام کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ موجودہ قیادت کی مربوط حکمتِ عملی، فعال سفارت کاری اور ریاستی اداروں کے باہمی تعاون کا ثمر ہے۔
پاکستان کی اس مضبوط پوزیشن کے پس منظر میں سب سے اہم کردار موجودہ قیادت کا ہے۔ بالخصوص فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں افواجِ پاکستان نے نہ صرف داخلی استحکام کو یقینی بنایا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں بھی اضافہ کیا۔ اسی طرح اسحاق ڈار کی بطور وزیر خارجہ مؤثر اور متحرک سفارت کاری نے پاکستان کو ایک بار پھر عالمی منظرنامے میں اہم کھلاڑی کے طور پر پیش کیا ہے۔
اگر خطے کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے اہم ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات نہایت مستحکم ہیں۔ یہ ممالک خطے میں جاری کشیدگی، خصوصاً ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی تناؤ سے متاثر ضرور ہیں، مگر اس کے باوجود پاکستان ایک متوازن اور قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
بین الاقوامی تھنک ٹینکس جیسے Carnegie Endowment for International Peace، Brookings Institution اور Chatham House بھی اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں اپنی سفارتی حکمتِ عملی کو بہتر بنایا ہے اور ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا مثبت تشخص قائم کیا ہے۔
ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پہلی بار ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ عالمی طاقتیں، خاص طور پر امریکہ، جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے معاملات میں پاکستان کے کردار کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہیں۔ بعض سفارتی حلقوں کے مطابق اہم علاقائی معاملات میں پاکستان کو مشاورتی حیثیت حاصل ہو رہی ہے، جو کہ اس کی 77 سالہ تاریخ میں ایک نمایاں پیشرفت ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی میں بھی پاکستان نے ہمیشہ امن اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ خطے میں جنگ کی فضا کو کم کیا جائے اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کیے جائیں۔ یہی پالیسی پاکستان کو ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست کے طور پر پیش کرتی ہے۔
جہاں تک متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات میں مبینہ تناؤ کی بات ہے، تو حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ محض افواہیں ہیں جنہیں سوشل میڈیا پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ زمینی حقیقت میں دونوں ممالک کے تعلقات بدستور مضبوط اور مستحکم ہیں۔
نتیجتاً، یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اس وقت نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مضبوط اور مثبت پوزیشن میں کھڑا ہے۔ اس کامیابی کا سہرا مؤثر قیادت، بہترین سفارت کاری اور ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو جاتا ہے۔ اگر یہی پالیسی تسلسل کے ساتھ جاری رہی تو پاکستان مستقبل میں مزید مضبوط عالمی کردار ادا کر سکتا ہے۔

تحریر: فرید رزاقی

دنیا ایک بار پھر طاقت کے نئے توازن کی طرف بڑھ رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی رقابت، اور خطے میں بدلتے اتحاد اس بات کا تقاضا کر رہے ہیں کہ ممالک اپنی سفارتی حکمت عملی کو نئے سرے سے ترتیب دیں۔ اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں پاکستان ایک بار پھر ایک اہم اور مؤثر کردار کے طور پر ابھر رہا ہے—اور اس بار یہ محض جغرافیہ نہیں بلکہ حکمت عملی کی کامیابی بھی ہے۔

حالیہ مہینوں میں پاکستان نے جس انداز میں خود کو ایک ذمہ دار اور متوازن ریاست کے طور پر پیش کیا ہے، وہ قابلِ توجہ ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ہو یا مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل، پاکستان نے نہ صرف غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا بلکہ امن کے لیے عملی تجاویز بھی پیش کیں۔ چین کے ساتھ مل کر امن منصوبہ پیش کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام آباد اب عالمی مسائل کے حل میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کی نظر میں بھی پاکستان کا تاثر مثبت سمت میں تبدیل ہو رہا ہے۔
برطانوی اخبار The Guardian نے پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے سرگرم قوت کے طور پر پیش کیا۔
عالمی خبر رساں ادارے Reuters نے پاکستان کی سفارتی واپسی کو ایک “remarkable makeover” قرار دیا۔
امریکی جریدے Foreign Policy نے پاکستان کو ابھرتا ہوا سفارتی کھلاڑی کہا، جبکہ The Diplomat کے مطابق پاکستان دوبارہ عالمی اسٹیج پر نمایاں ہو رہا ہے۔

یہ شہ سرخیاں اس حقیقت کی غمازی کرتی ہیں کہ پاکستان نہ صرف اپنی کھوئی ہوئی جگہ واپس حاصل کر رہا ہے بلکہ ایک نئے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کا سب سے نمایاں پہلو اس کا متوازن رویہ ہے۔ ایک طرف چین کے ساتھ دیرینہ اور مضبوط تعلقات ہیں، جو سی پیک جیسے بڑے منصوبوں کی صورت میں ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، تو دوسری طرف امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری ایک مثبت پیش رفت ہے۔ یہ توازن پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک منفرد حیثیت دیتا ہے—ایک ایسا ملک جو مختلف طاقتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیاں بھی امید افزا ہیں۔ سعودی عرب، ترکی، ایران اور دیگر ممالک کے ساتھ بیک وقت تعلقات نہ صرف پاکستان کے اثر و رسوخ کو بڑھا رہے ہیں بلکہ اسے اسلامی دنیا میں ایک متوازن اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر بھی پیش کر رہے ہیں۔ دفاعی تعاون اور اقتصادی شراکت داری کے نئے مواقع پاکستان کے لیے ترقی کے دروازے کھول رہے ہیں۔

علاقائی سطح پر بھی مثبت امکانات موجود ہیں۔ افغانستان کے ساتھ مذاکرات اور تعاون کے دروازے کھلے ہیں، جبکہ چین کی ثالثی سے استحکام کی نئی راہیں تلاش کی جا رہی ہیں۔ اگر یہ عمل کامیاب ہوتا ہے تو پاکستان نہ صرف اپنے مغربی سرحدی مسائل حل کر سکتا ہے بلکہ وسطی ایشیا تک رسائی کے نئے مواقع بھی حاصل کر سکتا ہے۔

پاکستان کی سفارتی طاقت کا ایک اور اہم پہلو اس کی جغرافیائی حیثیت ہے۔ ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے پاکستان عالمی تجارت، توانائی کے منصوبوں اور علاقائی روابط میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں پاکستان کو نظر انداز نہیں کر سکتیں۔

یقیناً چیلنجز ہر ملک کے ساتھ ہوتے ہیں، لیکن اصل کامیابی اس بات میں ہے کہ ان چیلنجز کو مواقع میں کیسے بدلا جائے۔ پاکستان اس وقت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں اس کے پاس عالمی سطح پر اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے کا سنہری موقع موجود ہے۔

اگر پاکستان اپنی موجودہ متوازن خارجہ پالیسی کو جاری رکھتا ہے، علاقائی روابط کو فروغ دیتا ہے اور عالمی تنازعات میں تعمیری کردار ادا کرتا ہے تو وہ نہ صرف ایک مؤثر سفارتی طاقت بن سکتا ہے بلکہ ایک مستحکم اور باوقار عالمی کردار بھی حاصل کر سکتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان اب محض حالات کا شکار نہیں بلکہ حالات کو اپنے حق میں موڑنے کی صلاحیت حاصل کر رہا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں درست فیصلے پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک نمایاں اور بااثر مقام دلوا سکتے ہیں—اور بظاہر، پاکستان اس سمت میں درست قدم اٹھا رہا ہے۔

تحریر: فرید رزاقی

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر بارود کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ خلیجی ریاستیں دباؤ میں ہیں، عالمی تجارت سست روی کا شکار ہے، اور آبنائے ہرمز—جہاں سے دنیا کے لگ بھگ بیس فیصد تیل گزرتا ہے—ایک مستقل خطرے کی علامت بنتی جا رہی ہے۔ ایسے میں دنیا ایک ایسے کردار کی تلاش میں ہے جو تصادم کی اس آگ کو ٹھنڈا کر سکے، اور حیرت انگیز طور پر اس بار نظریں اسلام آباد پر مرکوز ہیں۔

یہ وہی پاکستان ہے جسے گزشتہ برسوں میں بھارت نے عالمی سطح پر بدنام کرنے کے لیے ہر ممکن حربہ آزمایا۔ اربوں ڈالر کی لابنگ، یورپ میں جعلی بیانیہ سازی، فیک میڈیا نیٹ ورکس اور منظم پراپیگنڈا—سب کچھ اس مقصد کے لیے تھا کہ پاکستان کو عالمی تنہائی میں دھکیل دیا جائے۔ مگر وقت نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ جھوٹ کا سفر مختصر اور سچ کی جڑیں گہری ہوتی ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ آج جب خطہ ایک بڑے بحران کے دہانے پر ہے، پاکستان نہ صرف سفارتی محاذ پر سرگرم ہے بلکہ اسے معاشی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔ خلیجی ممالک سے توانائی کا انحصار، ترسیلاتِ زر—جو پچاس فیصد سے زائد حصہ رکھتی ہیں—اور بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ، یہ سب پاکستان کو ایک نازک پوزیشن میں رکھتے ہیں۔ ایسے حالات میں اکثر ممالک کسی ایک بلاک کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں، مگر پاکستان نے اس کے برعکس ایک متوازن اور باوقار راستہ اختیار کیا ہے۔

یہی پاکستان کی اصل طاقت ہے۔
اسلام آباد میں بیک ڈور ڈپلومیسی جاری ہے، رابطے بڑھ رہے ہیں، اور ایک سنجیدہ کوشش کی جا رہی ہے کہ خطے کو مزید تباہی سے بچایا جائے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے اہم ممالک بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو نئی جہت دے رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان پر اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے—وہ بھی ایسے وقت میں جب خود پاکستان معاشی چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔

دوسری طرف بھارت کی صورتحال خاصی معنی خیز ہے۔
جو ملک خود کو خطے کا فیصلہ کن کھلاڑی سمجھتا تھا، آج وہ سفارتی منظرنامے میں کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ نہ اسے کسی اہم امن عمل میں شامل کیا جا رہا ہے، نہ ہی اس کی آواز کو وہ اہمیت دی جا رہی ہے جس کا وہ دعویدار تھا۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا یہ کہنا کہ “ہم دلال ملک نہیں ہیں” دراصل ایک سفارتی مایوسی کا اظہار ہے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ کردار نہ ہونے پر جملے ہی باقی رہ جاتے ہیں۔

یہی بھارت ماضی میں روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کا کریڈٹ لینے کے لیے بے چین تھا، مگر آج جب پاکستان عملی طور پر امن کی کوششوں میں مصروف ہے تو اسے طنز کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ دوہرا معیار اب دنیا سے پوشیدہ نہیں رہا۔

اعداد و شمار بھی اس بدلتے منظرنامے کی تصدیق کرتے ہیں۔ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، دفاعی و سیکیورٹی تعاون میں وسعت آئی ہے، اور اسٹریٹیجک پارٹنرشپ کی باتیں اب محض بیانات تک محدود نہیں رہیں بلکہ عملی شکل اختیار کر رہی ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ پاکستان نے ایک مشکل راستہ چنا ہے
دباؤ کے باوجود توازن، اور مفادات کے باوجود اصول۔
یہی وہ فرق ہے جو پاکستان کو دیگر ممالک سے ممتاز بنارہا ہے۔

آج کا پاکستان نہ صرف ایک ایٹمی طاقت ہے بلکہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ابھر رہا ہے، جو جنگ کی آگ میں تیل ڈالنے کے بجائے اسے بجھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اور یہی وہ کردار ہے جسے دنیا آج سراہ رہی ہے۔

حقیقت اب کسی وضاحت کی محتاج نہیں رہی:
جو پاکستان کو تنہا کرنے نکلے تھے، آج خود تنہائی کا شکار ہیں۔
جو پاکستان کو غیر ذمہ دار کہتے تھے، آج اسی کے کردار کو تسلیم کر رہے ہیں۔
اور جو خود کو خطے کا لیڈر سمجھتے تھے، وہ آج محض تماشائی بن کر رہ گئے ہیں۔
اسلام آباد آج صرف ایک دارالحکومت نہیں بلکہ یہ ایک سوچ ہے، ایک توازن ہے، اور ایک ایسے پاکستان کی پہچان ہے جو دباؤ کے باوجود جھکا نہیں، بلکہ دنیا کو راستہ دکھارہا ہے اور وہ امن کا راستہ ہے۔ یعنی جس پاکستان کو دنیا کے لیے بھارتی لابی نے خطرہ بنا کر پیش کیا وہ پاکستان اب دنیا میں امن کا پیامبر بن کر کھڑا ہے۔

تحریر: عمر خطاب

موجودہ عالمی اور علاقائی تناظر میں پاکستان کی سفارتی پوزیشن کے حوالے سے بین الاقوامی ادارے اور ماہرین مختلف لیکن گہرے جائزے پیش کرتے ہیں۔ امریکی جریدے فارن پالیسی (Foreign Policy) نے اپنی حالیہ رپورٹ میں پاکستان کو خطے کا سفارتی فاتح قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد نے امریکہ، چین، سعودی عرب اور ایران کے درمیان ایک متوازن خارجہ پالیسی اپنا کر اپنی سفارتی تنہائی کا بڑی حد تک خاتمہ کر دیا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مؤثر فکسر (Fixer) یا پیغام رساں کے طور پر پاکستان کا کردار اسے خطے کے دیگر ممالک، خاص طور پر بھارت کے مقابلے میں ایک نمایاں پوزیشن دے رہا ہے جس کی وجہ سے واشنگٹن میں اسے ایک مفید شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس سفارتی پیش رفت کے ساتھ ساتھ پاکستان اپنی قومی حکمتِ عملی میں بھی بڑی تبدیلی لا رہا ہے، جہاں امریکہ میں متعین پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ کے مطابق ملک اب جغرافیائی سیاست سے ہٹ کر جغرافیائی معاشیات (Geoeconomics) پر توجہ مرکوز کر رہا ہے تاکہ توانائی، معدنیات اور آئی ٹی جیسے شعبوں میں طویل مدتی اقتصادی تعاون حاصل کیا جا سکے۔ اسی سلسلے میں سی پیک (CPEC) فیز 2 کے تحت چین کے ساتھ صنعتی ترقی، جدت اور تکنیکی تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ نجی شعبے کے لیے ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ تاہم، ان کامیابیوں کے ساتھ ساتھ کچھ سنگین خدشات بھی موجود ہیں، جیسا کہ الجزیرہ (Al Jazeera) کے تجزیہ کار ایرک شاہزار اس سفارتی تیزی کو کسی معجزے کے بجائے دباؤ کے تحت لیا گیا فیصلہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد پیدا ہونے والے خلا اور معدنی سفارت کاری کی ضرورت نے پاکستان کو دوبارہ مرکزِ نگاہ بنایا ہے، لیکن بلوچستان میں مقامی آبادی کو شامل کیے بغیر معدنی وسائل کی پالیسیاں بنانا داخلی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستان کی سفارتی ساکھ کے لیے ایک اور بڑا چیلنج اس کی اپنی سرحدوں پر جاری کشیدگی ہے، فروری 2026 سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان باقاعدہ مسلح تصادم جاری ہے جس کے نتیجے میں دونوں جانب جانی نقصان اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی ہے۔ اسپیشل یوریشیا (SpecialEurasia) کی رپورٹ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتی ہے کہ ایک طرف پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف اس کی داخلی سکیورٹی کی غیر یقینی صورتحال اور سرحدوں پر جاری جنگ اس کی بین الاقوامی ساکھ اور غیر جانبدار ثالث کی حیثیت پر سوالیہ نشان کھڑے کر رہی ہے۔

میرے خیال میں مجموعی طور پر ماہرین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ پاکستان کی موجودہ سفارتی پوزیشن بہتر ضرور ہوئی ہے لیکن یہ ایک بھربھری بنیاد پر کھڑی ہے اور جب تک ریاست اپنے اندرونی سیاسی بحرانوں، معاشی کمزوریوں اور داخلی سکیورٹی کو مستحکم نہیں کرتی، یہ بین الاقوامی فوائد عارضی ثابت ہو سکتے ہیں۔ 😊