تحریر:وقار اسلم

عالمی بساط پر عمومی تاثر یہی ہے کہ ریاستوں کا وقار اور ان کی خارجہ پالیسی کی اڑان ان کی معاشی مضبوطی سے مشروط ہوتی ہے، لیکن تاریخِ عالم گواہ ہے کہ بعض اوقات قوموں کا عزم اور ان کی جیو اسٹریٹجک بصیرت معاشی اعداد و شمار کو مات دے دیتی ہے۔ آج سوال یہ ہے کہ کیا تاریخ میں کبھی ایسا ہوا ہے کہ 82 ہزار ارب روپے کے ہوشربا قرض میں جکڑا کوئی ملک، عالمی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی شرائط پر خارجہ پالیسی مرتب کر رہا ہو؟ دورِ حاضر میں پاکستان کا سفارتی محاذ اس سوال کا نہایت نپا تلا اور مدلل جواب دے رہا ہے۔ اگر ماضی کے اوراق پلٹیں تو پاکستان ہمیشہ عالمی طاقتوں کی ضرورت رہا ہے؛ 1971 کے بحران میں جب رچرڈ نکسن امریکہ کے صدر تھے، تب ذوالفقار علی بھٹو نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں نام نہاد “پولش ریزولوشن” کو پرزے پرزے کر کے قومی وقار کا پرچم بلند کیا تھا۔ اسی طرح سرد جنگ کے عروج پر امریکی صدر رونالڈ ریگن اور پاکستان کے صدر جنرل ضیاء الحق کا تزویراتی گٹھ جوڑ تاریخ کا حصہ ہے، مگر ان ادوار میں پاکستان کو اہمیت تو ملی لیکن یہ تعلق برابری سے زیادہ سپر پاور کی وقتی اور علاقائی ضرورتوں کے تابع تھا۔ اس کے بعد ایک وہ دور بھی آیا جب پاکستان کی خارجہ پالیسی کو سب سے زیادہ رگیدا گیا؛ نائن الیون کے بعد جارج ڈبلیو بش اور پھر باراک اوباما کے ادوارِ صدارت میں پاکستان پر جو دباؤ ڈالا گیا، وہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے جس میں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی، مگر واشنگٹن سے صرف “ڈو مور” کی اذیت ناک گردان سنائی دیتی رہی۔ یہ وہ وقت تھا جب ڈکٹیشن کے آگے سر تسلیمِ خم کرنے کو ہی خارجہ پالیسی کی کامیابی سمجھ لیا گیا تھا۔

خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا وہ پہلا حقیقی جھونکا ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں محسوس ہوا، جب ابتدا میں پاکستان کی امداد بند کرنے والے ٹرمپ کو بالآخر افغانستان سے انخلا کے لیے پاکستان کی ناگزیر اہمیت کا اعتراف کرنا پڑا؛ ماضی کے کسی امریکی صدر نے اس طرح کھلے عام پاکستان کے کلیدی کردار کی تعریف نہیں کی تھی جس نے “ڈو مور” کے بیانیے کو منطقی انجام تک پہنچایا۔ آج پاکستان کی سفارتی پختگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی شدید ترین کشیدگی میں اسلام آباد نے نہایت جرات مندی سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کا مقدمہ لڑا ہے اور عالمی دباؤ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے برادر اسلامی ملک کے حق میں جو دو ٹوک موقف اپنایا، وہ بھٹو دور کی یاد تازہ کرتا ہے۔ اسی اصولی سفارت کاری کا نتیجہ ہے کہ آج ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور رہبرِ معظم کے دفتر کی جانب سے پاکستان کی کاوشوں کا برملا اعتراف کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی اس مربوط خارجہ پالیسی کا ایک اور روشن پہلو عرب دنیا، بالخصوص متحدہ عرب امارات کے ساتھ حالیہ سفارتی طرزِ عمل میں نظر آتا ہے؛ جب یو اے ای کی جانب سے ویزا پابندیوں یا دیگر معاملات میں پاکستان کو آنکھیں دکھانے کی کوشش کی گئی، تو اسلام آباد نے روایتی معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے کے بجائے نہایت واضح اور سفارتی وقار کے ساتھ جواب دے کر ثابت کیا کہ برادرانہ تعلقات ڈکٹیشن پر نہیں بلکہ باہمی احترام پر استوار ہوتے ہیں۔ آج عالمی اور علاقائی اسٹیک ہولڈرز حیران ہیں کہ 82 ہزار ارب روپے کے بوجھ تلے دبی معیشت کے باوجود پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اتنا ربط اور خود مختاری کیسے آ گئی؟ حقیقت یہ ہے کہ جب فیصلہ سازوں میں یکسوئی ہو اور قومی مفاد مقدم ہو، تو معاشی کمزوریاں بھی ریاست کے وقار کا راستہ نہیں روک سکتیں؛ پاکستان آج تاریخ کے صحیح دھارے پر کھڑا ہے جہاں وہ نہ کسی کیمپ کا حصہ ہے اور نہ ہی “ڈو مور” کا اسیر، بلکہ اپنے خطے کا ایک باوقار فیصلہ ساز ہے۔

تحریر:شاہد عباس کاظمی

شہرِ اقتدار اسلام آباد میں چار اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا مشاورتی اجلاس ایسے موقع پر ہوا، جب پورا مشرق وسطیٰ جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے اور ایران کے جوابی وار نے اس وقت پوری دنیا کو عالمی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اسی پس منظر کی وجہ سے پوری دنیا نے پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی اس وزرائے خارجہ کانفرنس اور بیٹھک سے بہت سی امیدیں وابستہ کر لی ہیں اور آخری اطلاعات آنے تک اس بیٹھک کی ابتدائی کارکردگی امریکہ اور ایران کے ساتھ شیئر کی جا چکی ہے اور اعشاریے مثبت ہیں۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ جاری جنگ کے دوران ایسے امکانات کا جائزہ لیا جائے کہ جس سے اس جنگ کو روکنے میں مدد ملے اور حوصلہ افزاء پہلو یہ ہے کہ ان مذاکرات کو نہ صرف امریکہ بلکہ ایران کی حمایت بھی حاصل ہے اور اسحٰق ڈار صاحب امریکہ اور ایران دونوں سے مکمل رابطے میں رہے ہیں اور امید یہی کی جا رہی ہے کہ مذاکرات کے ابتدائی خدوخال واضح ہو چکے ہیں۔

اس بات میں ہرگز دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ جنگیں مسائل کا نہ ہی حل ہوتی ہیں اور نہ ہی جنگ کی وجہ سے ہم اپنی سوچ نافذ کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کا بغور مشائدہ کیا جائے تو اس خطے میں جنگ کی آگ اس طرح بڑھک رہی ہے کہ وہ کبھی بھی ایک عالمی جنگ کی سی صورتحال اختیار کر سکتی ہے۔ مختلف فریقین نئے اتحادیوں کی تلاش میں ہیں۔ روس یوکرین تنازعہ بھی اس لیے ایک نیا موڑ لے سکتا ہے کہ یوکرینی صدر اس جنگ میں کودنے کا عندیہ دے چکے ہیں اور ایسا ہوا تو روس خاموش تماشائی بننا ہرگز گوارا نہیں کرئے گا۔ خطے میں یمن کی صورتحال، لبنان میں بڑھکتی آگ اور سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا تنازعہ مل جل کر اس پورے خطے کو راکھ کا ڈھیر بنانے کے لیے کافی ہیں۔

جو صورتحال اس وقت عالمی سطح پر بن چکی ہے اور بالخصوص جو حالات اس خطے کے بنتے جا رہے ہیں اس میں تمام اہم ممالک جیسے روس اور چین کے علاوہ بھارت کی نظر خاص طور پر پاکستان پر جمی ہوئی ہے کہ آپریشن سیندور کی ناکامی کے بعد بھارت کی حتٰی الوسع کوشش ہو گی کہ پاکستان اس میزبانی کی دوڑ اور مصالحت کی مرکزیت سے باہر نکل جائے۔ لیکن پاکستان نے حیران کن طور پر اس جنگ کا حصہ بننے کے بجائے خود کو ایک مضبوط مصالحت کار کے طور پر منوایا ہے جس کا اقرار خود امریکہ اور ایران بھی کر رہے ہیں۔ اسلام آباد میں بنیادی طور پر یہ ایک صرف ملاقات نہیں تھی بلکہ پاکستان کا وقار تھا جو پوری دنیا میں اپنا لوہا منوا چکا ہے۔ یہ معاملات اس بات کے غماز ہیں کہ عالمی صف بندی میں اس وقت پاکستان اپنی دھاک نہ صرف بٹھا چکا ہے بلکہ مستقبل میں بھی پاکستان کا کردار اہم ہو گیا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ علاقائی اور عالمی طاقتوں کا اعتماد پاکستان پر بڑھتا جا رہا ہے۔

لیکن اس مصالحت کی صورتحال میں خلیجی ممالک ایک عجیب سے مخمصے کا شکار ہیں اور کوئی فیصلہ کرنے میں تامل سے کام لے رہے ہیں۔ پاکستان اگر فیصلہ لینے میں خلیجی ممالک کی مدد کر پاتا ہے تو یہ یقینی طور پر پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہو گی۔ کم و بیش تمام خلیجی ممالک میں امریکہ کے اڈے ہیں اور ایران ان پہ جوابی کاروائی کرنا اپنا حق سمجھتا ہے جب کہ خلیجی ممالک اس کو اپنی سرزمین پر ایران کی جانب سے حملے تصور کتے ہیں۔ اور گاہے بگاہے دھکمی آمیز بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ یہ اڈے نہ تو فوری طور پر ختم ہو سکتے ہیں کیوں کہ امریکہ کے ساتھ ان ممالک کی گاڑھی ساجھے داری اور مختلف معاملات میں شراکت داری ہے اور دوسری جانب اگر خلیجی ممالک اس جنگ میں براہ راست شامل ہو جاتے ہیں تو ایران کے پاس تو واحد حل ہی مارو یا مر جاؤ ہے۔

ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر کیے جانے والے جوابی حملوں سے بھی خلیجی ممالک براہ راست نہ صرف متاثر ہو رہے ہیں بلکہ ان کے معاشی استحکام کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے اور تیل کے بجائے سیاحت پہ انحصار کے پروگرام کو بھی ایران کے حملوں کی وجہ سے شدید نقصان پہنچا ہے۔ عالمی میڈیا میں یہ قیاس آرائیاں کہ سعودی ولی کا ٹرمپ پہ جنگ جاری رکھنے پہ اصرار اپنی دانست میں دلچسپ ہے۔ کیوں کہ خلیجی ممالک اس جنگ کے خاتمے کو ایران کی مضبوطی سے تعبیر کر رہے ہیں اور وہ یہ سوچے بیٹھے ہیں کہ اگر ایران مضبوط بن کر ابھرا تو ان کے مفادات پر کاری ضرب لگے گی۔ اسی وجہ سے پاکستان کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہو چکا ہے۔ بطور میزبان پاکستان تمام فریقین کے ساتھ اعتماد سازی کی فضاء قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا اور سعودی عرب اور ایران کے درمیان بھی پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اسحٰق ڈار عباس عراقچی اور امریکہ کو بھی اس معاملے پہ اعتماد میں لے چکے ہیں اس لیے آنے والے دنوں میں پاکستان کی اہمیت مسلم ہے۔

پاکستان جہاں اہک طرف ایران کی جانب سے تحریری ضمانت لینے میں مددگار ہو سکتا ہے کہ وہ خلیجی ممالک کے خلاف اپنی کاروائیاں روک دے تو دوسری جانب خلیجی ممالک کو بدلے میں اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی ضمانت دینا پڑ سکتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈے ایک حقیقت ہیں، اور ان اڈوں کا استعمال امریکی پالیسی کے تحت ہوتا ہے۔ بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات اور کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اس بات کی علامت ہیں کہ خطے میں امریکہ کا اثر و رسوخ کتنا گہرا ہے۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال ہونے سے کیسے روک سکتے ہیں، جبکہ ان کے اپنے دفاعی نظام کا ایک بڑا حصہ انہی اڈوں پر منحصر ہے۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب آسان نہیں، اور یہی اس بحران کی اصل پیچیدگی ہے۔ ایک طرف خلیجی ممالک اپنی سلامتی کے لیے امریکہ پر انحصار کرتے ہیں، اور دوسری طرف وہ ایران کے ساتھ براہ راست تصادم سے بھی بچنا چاہتے ہیں۔ اس توازن کو برقرار رکھنا ایک نہایت مشکل کام ہے۔

ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر شک کرتے ہیں، اور یہی شک کشیدگی کو بڑھاتا ہے۔ اگر اس شک کی دیوار کو گرا دیا جائے تو خطے میں امن کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں سعودی عرب کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب نہ صرف خلیجی ممالک کا ایک اہم رکن ہے بلکہ اس کا اثر و رسوخ بھی کافی وسیع ہے۔اگر سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات میں بہتری آتی ہے تو اس کے مثبت اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان کچھ پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے، لیکن موجودہ کشیدگی نے ان کوششوں کو متاثر کیا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کوششوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے اور اعتماد سازی کے عمل کو آگے بڑھایا جائے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر خطے میں موجود امریکی اڈوں سے ایران پر حملے جاری رہتے ہیں اور ایران ان کا جواب دیتا رہتا ہے تو یہ کشیدگی ایک نہ ختم ہونے والے چکر میں بدل سکتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان خلیجی ممالک کو ہوگا، کیونکہ یہ اڈے ان کی سرزمین پر واقع ہیں۔ اس صورتحال میں نہ صرف ان کی سلامتی بلکہ ان کی معیشت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ اس کشیدگی کو فوری طور پر کم کیا جائے۔ جنگ کا دائرہ اگر مزید پھیلا تو اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی تجارت میں رکاوٹیں، اور مہنگائی جیسے مسائل پوری دنیا کو متاثر کر سکتے ہیں۔

پاکستان، ترکی، مصر اور سعودی عرب کی جانب سے کی جانے والی یہ سفارتی کوشش اسی لیے نہایت اہم ہے۔ یہ ایک ایسا موقع ہے جسے ضائع نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگر اس موقع کو صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے تو نہ صرف اس جنگ کو روکا جا سکتا ہے بلکہ خطے میں ایک دیرپا امن کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ مشرق وسطیٰ اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ جنگ اور تباہی کی طرف جاتا ہے، جبکہ دوسرا امن اور استحکام کی جانب۔ فیصلہ ان ممالک کے ہاتھ میں ہے جو اس خطے کے مستقبل کا تعین کر رہے ہیں۔ اگر انہوں نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا تو یہ خطہ ایک روشن مستقبل کی طرف بڑھ سکتا ہے، بصورت دیگر تاریخ خود کو ایک بار پھر دہرا سکتی ہے۔

یہ وقت ہے کہ عقل و تدبر سے کام لیا جائے، اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے، اور اس خطے کو ایک نئی جنگ کے دہانے سے واپس لایا جائے۔ کیونکہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں، اور امن ہی وہ راستہ ہے جو سب کے لیے بہتر ہے۔

تحریر: عامر کاکازئی

پاکستان کی سفارتکاری 2026 کی خلیجی بحران یا جنگ میں کچھ اس طرح سے ہے کہ وہ کسی کا ساتھ دینے کے بجائے غیر جانبدار ہے، مسلسل رابطوں (شٹل سفارتکاری) کے ذریعے معاملات سلجھانے کی کوشش کر رہا ہے اور خود کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کر رہا ہے جو فریقین کے درمیان صلح کروا کر خود کو امن کا ثالث کہلوا سکے۔

اگر ہم پاکستان کی امن کے لیے کوششوں پر نظر ڈالیں تو مندرجہ زیل چار پوئینٹس پر پاکستان نے پیش قدمی کی ہے۔
۱۔ حملوں کی مذمت : پاکستانی سرکار نے نا صرف امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر حملوں کی مذمت کی بلکہ ، اسکے ساتھ ساتھ ایرانی جوابی حملوں (جو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور قطر سمیت خلیجی ریاستوں پر ہوئے) پر بھی شدید تنقید کی ہے۔ خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے گہرے تعلقات (خاص طور پر پاکستان-سعودی باہمی دفاع کے حالیہ معاہدے) کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے ساتھ یکجہتی کا کھلے الفاظ میں اظہار کیا گیا، لیکن کسی فوجی اتحاد میں شامل ہونے یا فوجیں بھیجنے سے بھی انکار کیا۔
۲۔ ثالثی بزریعہ خفیہ سفارت کاری : پاکستان نے اپنی منفرد جغرافائی اور دوستانہ حیثیت کا بھرپور فائدہ اٹھایا، وہ ایسے کہ ایران کے ساتھ 900 کلومیٹر مشترکہ سرحد، خلیجی عرب ریاستوں سے قریبی تعلقات، اور امریکہ کے ساتھ بہتر روابط نے امن کی طرف پیش قدمی میں مدد دی۔ اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان خفیہ پیغامات ٹرانسفر کیے ، بشمول امریکہ کے مبینہ 15 نکاتی سیز فائر فریم ورک کی ترسیل اور ایرانی صدر مسعود پیزشکیان اور امریکی حکام سے براہ راست ٹیلی فونک رابطے بھی کرواۓ۔
۳۔ علاقائی سفارتکاری کانفرنس: مارچ 2026 کے آخر میں پاکستان نے اسلام آباد میں سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کروایا، تاکہ تنازعہ کی شدت کو کم کیا جا سکے۔ وزیر خارجہ اسحاق دار نے بار بار اسلام آباد کو امریکہ-ایران براہ راست یا سہولت کار بات چیت کے لیے مقام پیش کیا ہے اور کہا کہ “ایران اور امریکہ دونوں نے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے”۔ دوسری طرف چین نے پاکستان کی ان کوششوں کی حمایت کی۔
۴۔ اقوام متحدہ اور پاکستان : اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے سفیر نے خلیج تعاون کونسل کو “علاقائی استحکام کا ستون” قرار دیا،ُ ایک طرف خلیجی ممالک پر حملوں کی مذمت کی تو دوسری طرف خبردار بھی کیا کہ ایران پر امریکی-اسرائیلی حملے ایک انٹرنیشنل بحران کو جنم دے سکتے ہیں۔ یہ مطالبہ بھی کیا کہ فوری جنگ بندی کی جاۓ اور جامع امن مذاکرات شروع کئے جائیں۔ پاکستان نے فوری آپسی مذاکرات پر زور دیا اور ساتھ میں کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تمام ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتے ہوے مزید تباہی سے گریز کیا جاۓ۔

اگر ہم پورے مضمون کو مختصرً بیان کریں تو وہ کچھ اس طرح سے ہو گا کہ “ پاکستان اس وقت ایک جرأت مندانہ، سفارتی حکمت عملی اپنا رہا ہے۔ خلیجی ممالک، چین، ایران اور امریکہ کے ساتھ بہت مشکل سے توازن برقرار رکھ رہا ہے۔ یوں سمجھیں کہ پلِ صراط سے گزرتے ہوۓ اور علاقے کی سلامتی کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی سفارتی حیثیت کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاکہ جو حیثیت وہ پچھلی حکومت میں کھو چکا تھا اب امن ساز کی حیثیت سے اپنا کردار کو دنیا کے آگے منوا سکے۔
شاید مستقبل میں پاکستان کو Ambassador of Peace کا خطاب مل سکے۔ انشاء اللہ

تحریر: عمر عبدالراحمن جنجوعہ

موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں اگر پاکستان کی پوزیشن کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ملک سفارتی سطح پر ایک مضبوط اور متوازن مقام حاصل کر چکا ہے۔ یہ استحکام کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ موجودہ قیادت کی مربوط حکمتِ عملی، فعال سفارت کاری اور ریاستی اداروں کے باہمی تعاون کا ثمر ہے۔
پاکستان کی اس مضبوط پوزیشن کے پس منظر میں سب سے اہم کردار موجودہ قیادت کا ہے۔ بالخصوص فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں افواجِ پاکستان نے نہ صرف داخلی استحکام کو یقینی بنایا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں بھی اضافہ کیا۔ اسی طرح اسحاق ڈار کی بطور وزیر خارجہ مؤثر اور متحرک سفارت کاری نے پاکستان کو ایک بار پھر عالمی منظرنامے میں اہم کھلاڑی کے طور پر پیش کیا ہے۔
اگر خطے کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے اہم ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات نہایت مستحکم ہیں۔ یہ ممالک خطے میں جاری کشیدگی، خصوصاً ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی تناؤ سے متاثر ضرور ہیں، مگر اس کے باوجود پاکستان ایک متوازن اور قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
بین الاقوامی تھنک ٹینکس جیسے Carnegie Endowment for International Peace، Brookings Institution اور Chatham House بھی اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں اپنی سفارتی حکمتِ عملی کو بہتر بنایا ہے اور ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا مثبت تشخص قائم کیا ہے۔
ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پہلی بار ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ عالمی طاقتیں، خاص طور پر امریکہ، جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے معاملات میں پاکستان کے کردار کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہیں۔ بعض سفارتی حلقوں کے مطابق اہم علاقائی معاملات میں پاکستان کو مشاورتی حیثیت حاصل ہو رہی ہے، جو کہ اس کی 77 سالہ تاریخ میں ایک نمایاں پیشرفت ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی میں بھی پاکستان نے ہمیشہ امن اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ خطے میں جنگ کی فضا کو کم کیا جائے اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کیے جائیں۔ یہی پالیسی پاکستان کو ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست کے طور پر پیش کرتی ہے۔
جہاں تک متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات میں مبینہ تناؤ کی بات ہے، تو حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ محض افواہیں ہیں جنہیں سوشل میڈیا پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ زمینی حقیقت میں دونوں ممالک کے تعلقات بدستور مضبوط اور مستحکم ہیں۔
نتیجتاً، یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اس وقت نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مضبوط اور مثبت پوزیشن میں کھڑا ہے۔ اس کامیابی کا سہرا مؤثر قیادت، بہترین سفارت کاری اور ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو جاتا ہے۔ اگر یہی پالیسی تسلسل کے ساتھ جاری رہی تو پاکستان مستقبل میں مزید مضبوط عالمی کردار ادا کر سکتا ہے۔

تحریر: فرید رزاقی

دنیا ایک بار پھر طاقت کے نئے توازن کی طرف بڑھ رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی رقابت، اور خطے میں بدلتے اتحاد اس بات کا تقاضا کر رہے ہیں کہ ممالک اپنی سفارتی حکمت عملی کو نئے سرے سے ترتیب دیں۔ اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں پاکستان ایک بار پھر ایک اہم اور مؤثر کردار کے طور پر ابھر رہا ہے—اور اس بار یہ محض جغرافیہ نہیں بلکہ حکمت عملی کی کامیابی بھی ہے۔

حالیہ مہینوں میں پاکستان نے جس انداز میں خود کو ایک ذمہ دار اور متوازن ریاست کے طور پر پیش کیا ہے، وہ قابلِ توجہ ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ہو یا مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل، پاکستان نے نہ صرف غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا بلکہ امن کے لیے عملی تجاویز بھی پیش کیں۔ چین کے ساتھ مل کر امن منصوبہ پیش کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام آباد اب عالمی مسائل کے حل میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کی نظر میں بھی پاکستان کا تاثر مثبت سمت میں تبدیل ہو رہا ہے۔
برطانوی اخبار The Guardian نے پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے سرگرم قوت کے طور پر پیش کیا۔
عالمی خبر رساں ادارے Reuters نے پاکستان کی سفارتی واپسی کو ایک “remarkable makeover” قرار دیا۔
امریکی جریدے Foreign Policy نے پاکستان کو ابھرتا ہوا سفارتی کھلاڑی کہا، جبکہ The Diplomat کے مطابق پاکستان دوبارہ عالمی اسٹیج پر نمایاں ہو رہا ہے۔

یہ شہ سرخیاں اس حقیقت کی غمازی کرتی ہیں کہ پاکستان نہ صرف اپنی کھوئی ہوئی جگہ واپس حاصل کر رہا ہے بلکہ ایک نئے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کا سب سے نمایاں پہلو اس کا متوازن رویہ ہے۔ ایک طرف چین کے ساتھ دیرینہ اور مضبوط تعلقات ہیں، جو سی پیک جیسے بڑے منصوبوں کی صورت میں ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، تو دوسری طرف امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری ایک مثبت پیش رفت ہے۔ یہ توازن پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک منفرد حیثیت دیتا ہے—ایک ایسا ملک جو مختلف طاقتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیاں بھی امید افزا ہیں۔ سعودی عرب، ترکی، ایران اور دیگر ممالک کے ساتھ بیک وقت تعلقات نہ صرف پاکستان کے اثر و رسوخ کو بڑھا رہے ہیں بلکہ اسے اسلامی دنیا میں ایک متوازن اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر بھی پیش کر رہے ہیں۔ دفاعی تعاون اور اقتصادی شراکت داری کے نئے مواقع پاکستان کے لیے ترقی کے دروازے کھول رہے ہیں۔

علاقائی سطح پر بھی مثبت امکانات موجود ہیں۔ افغانستان کے ساتھ مذاکرات اور تعاون کے دروازے کھلے ہیں، جبکہ چین کی ثالثی سے استحکام کی نئی راہیں تلاش کی جا رہی ہیں۔ اگر یہ عمل کامیاب ہوتا ہے تو پاکستان نہ صرف اپنے مغربی سرحدی مسائل حل کر سکتا ہے بلکہ وسطی ایشیا تک رسائی کے نئے مواقع بھی حاصل کر سکتا ہے۔

پاکستان کی سفارتی طاقت کا ایک اور اہم پہلو اس کی جغرافیائی حیثیت ہے۔ ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے پاکستان عالمی تجارت، توانائی کے منصوبوں اور علاقائی روابط میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں پاکستان کو نظر انداز نہیں کر سکتیں۔

یقیناً چیلنجز ہر ملک کے ساتھ ہوتے ہیں، لیکن اصل کامیابی اس بات میں ہے کہ ان چیلنجز کو مواقع میں کیسے بدلا جائے۔ پاکستان اس وقت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں اس کے پاس عالمی سطح پر اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے کا سنہری موقع موجود ہے۔

اگر پاکستان اپنی موجودہ متوازن خارجہ پالیسی کو جاری رکھتا ہے، علاقائی روابط کو فروغ دیتا ہے اور عالمی تنازعات میں تعمیری کردار ادا کرتا ہے تو وہ نہ صرف ایک مؤثر سفارتی طاقت بن سکتا ہے بلکہ ایک مستحکم اور باوقار عالمی کردار بھی حاصل کر سکتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان اب محض حالات کا شکار نہیں بلکہ حالات کو اپنے حق میں موڑنے کی صلاحیت حاصل کر رہا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں درست فیصلے پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک نمایاں اور بااثر مقام دلوا سکتے ہیں—اور بظاہر، پاکستان اس سمت میں درست قدم اٹھا رہا ہے۔

تحریر: فرید رزاقی

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر بارود کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ خلیجی ریاستیں دباؤ میں ہیں، عالمی تجارت سست روی کا شکار ہے، اور آبنائے ہرمز—جہاں سے دنیا کے لگ بھگ بیس فیصد تیل گزرتا ہے—ایک مستقل خطرے کی علامت بنتی جا رہی ہے۔ ایسے میں دنیا ایک ایسے کردار کی تلاش میں ہے جو تصادم کی اس آگ کو ٹھنڈا کر سکے، اور حیرت انگیز طور پر اس بار نظریں اسلام آباد پر مرکوز ہیں۔

یہ وہی پاکستان ہے جسے گزشتہ برسوں میں بھارت نے عالمی سطح پر بدنام کرنے کے لیے ہر ممکن حربہ آزمایا۔ اربوں ڈالر کی لابنگ، یورپ میں جعلی بیانیہ سازی، فیک میڈیا نیٹ ورکس اور منظم پراپیگنڈا—سب کچھ اس مقصد کے لیے تھا کہ پاکستان کو عالمی تنہائی میں دھکیل دیا جائے۔ مگر وقت نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ جھوٹ کا سفر مختصر اور سچ کی جڑیں گہری ہوتی ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ آج جب خطہ ایک بڑے بحران کے دہانے پر ہے، پاکستان نہ صرف سفارتی محاذ پر سرگرم ہے بلکہ اسے معاشی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔ خلیجی ممالک سے توانائی کا انحصار، ترسیلاتِ زر—جو پچاس فیصد سے زائد حصہ رکھتی ہیں—اور بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ، یہ سب پاکستان کو ایک نازک پوزیشن میں رکھتے ہیں۔ ایسے حالات میں اکثر ممالک کسی ایک بلاک کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں، مگر پاکستان نے اس کے برعکس ایک متوازن اور باوقار راستہ اختیار کیا ہے۔

یہی پاکستان کی اصل طاقت ہے۔
اسلام آباد میں بیک ڈور ڈپلومیسی جاری ہے، رابطے بڑھ رہے ہیں، اور ایک سنجیدہ کوشش کی جا رہی ہے کہ خطے کو مزید تباہی سے بچایا جائے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے اہم ممالک بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو نئی جہت دے رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان پر اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے—وہ بھی ایسے وقت میں جب خود پاکستان معاشی چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔

دوسری طرف بھارت کی صورتحال خاصی معنی خیز ہے۔
جو ملک خود کو خطے کا فیصلہ کن کھلاڑی سمجھتا تھا، آج وہ سفارتی منظرنامے میں کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ نہ اسے کسی اہم امن عمل میں شامل کیا جا رہا ہے، نہ ہی اس کی آواز کو وہ اہمیت دی جا رہی ہے جس کا وہ دعویدار تھا۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا یہ کہنا کہ “ہم دلال ملک نہیں ہیں” دراصل ایک سفارتی مایوسی کا اظہار ہے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ کردار نہ ہونے پر جملے ہی باقی رہ جاتے ہیں۔

یہی بھارت ماضی میں روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کا کریڈٹ لینے کے لیے بے چین تھا، مگر آج جب پاکستان عملی طور پر امن کی کوششوں میں مصروف ہے تو اسے طنز کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ دوہرا معیار اب دنیا سے پوشیدہ نہیں رہا۔

اعداد و شمار بھی اس بدلتے منظرنامے کی تصدیق کرتے ہیں۔ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، دفاعی و سیکیورٹی تعاون میں وسعت آئی ہے، اور اسٹریٹیجک پارٹنرشپ کی باتیں اب محض بیانات تک محدود نہیں رہیں بلکہ عملی شکل اختیار کر رہی ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ پاکستان نے ایک مشکل راستہ چنا ہے
دباؤ کے باوجود توازن، اور مفادات کے باوجود اصول۔
یہی وہ فرق ہے جو پاکستان کو دیگر ممالک سے ممتاز بنارہا ہے۔

آج کا پاکستان نہ صرف ایک ایٹمی طاقت ہے بلکہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ابھر رہا ہے، جو جنگ کی آگ میں تیل ڈالنے کے بجائے اسے بجھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اور یہی وہ کردار ہے جسے دنیا آج سراہ رہی ہے۔

حقیقت اب کسی وضاحت کی محتاج نہیں رہی:
جو پاکستان کو تنہا کرنے نکلے تھے، آج خود تنہائی کا شکار ہیں۔
جو پاکستان کو غیر ذمہ دار کہتے تھے، آج اسی کے کردار کو تسلیم کر رہے ہیں۔
اور جو خود کو خطے کا لیڈر سمجھتے تھے، وہ آج محض تماشائی بن کر رہ گئے ہیں۔
اسلام آباد آج صرف ایک دارالحکومت نہیں بلکہ یہ ایک سوچ ہے، ایک توازن ہے، اور ایک ایسے پاکستان کی پہچان ہے جو دباؤ کے باوجود جھکا نہیں، بلکہ دنیا کو راستہ دکھارہا ہے اور وہ امن کا راستہ ہے۔ یعنی جس پاکستان کو دنیا کے لیے بھارتی لابی نے خطرہ بنا کر پیش کیا وہ پاکستان اب دنیا میں امن کا پیامبر بن کر کھڑا ہے۔

تحریر: عمر خطاب

موجودہ عالمی اور علاقائی تناظر میں پاکستان کی سفارتی پوزیشن کے حوالے سے بین الاقوامی ادارے اور ماہرین مختلف لیکن گہرے جائزے پیش کرتے ہیں۔ امریکی جریدے فارن پالیسی (Foreign Policy) نے اپنی حالیہ رپورٹ میں پاکستان کو خطے کا سفارتی فاتح قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد نے امریکہ، چین، سعودی عرب اور ایران کے درمیان ایک متوازن خارجہ پالیسی اپنا کر اپنی سفارتی تنہائی کا بڑی حد تک خاتمہ کر دیا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مؤثر فکسر (Fixer) یا پیغام رساں کے طور پر پاکستان کا کردار اسے خطے کے دیگر ممالک، خاص طور پر بھارت کے مقابلے میں ایک نمایاں پوزیشن دے رہا ہے جس کی وجہ سے واشنگٹن میں اسے ایک مفید شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس سفارتی پیش رفت کے ساتھ ساتھ پاکستان اپنی قومی حکمتِ عملی میں بھی بڑی تبدیلی لا رہا ہے، جہاں امریکہ میں متعین پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ کے مطابق ملک اب جغرافیائی سیاست سے ہٹ کر جغرافیائی معاشیات (Geoeconomics) پر توجہ مرکوز کر رہا ہے تاکہ توانائی، معدنیات اور آئی ٹی جیسے شعبوں میں طویل مدتی اقتصادی تعاون حاصل کیا جا سکے۔ اسی سلسلے میں سی پیک (CPEC) فیز 2 کے تحت چین کے ساتھ صنعتی ترقی، جدت اور تکنیکی تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ نجی شعبے کے لیے ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ تاہم، ان کامیابیوں کے ساتھ ساتھ کچھ سنگین خدشات بھی موجود ہیں، جیسا کہ الجزیرہ (Al Jazeera) کے تجزیہ کار ایرک شاہزار اس سفارتی تیزی کو کسی معجزے کے بجائے دباؤ کے تحت لیا گیا فیصلہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد پیدا ہونے والے خلا اور معدنی سفارت کاری کی ضرورت نے پاکستان کو دوبارہ مرکزِ نگاہ بنایا ہے، لیکن بلوچستان میں مقامی آبادی کو شامل کیے بغیر معدنی وسائل کی پالیسیاں بنانا داخلی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستان کی سفارتی ساکھ کے لیے ایک اور بڑا چیلنج اس کی اپنی سرحدوں پر جاری کشیدگی ہے، فروری 2026 سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان باقاعدہ مسلح تصادم جاری ہے جس کے نتیجے میں دونوں جانب جانی نقصان اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی ہے۔ اسپیشل یوریشیا (SpecialEurasia) کی رپورٹ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتی ہے کہ ایک طرف پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف اس کی داخلی سکیورٹی کی غیر یقینی صورتحال اور سرحدوں پر جاری جنگ اس کی بین الاقوامی ساکھ اور غیر جانبدار ثالث کی حیثیت پر سوالیہ نشان کھڑے کر رہی ہے۔

میرے خیال میں مجموعی طور پر ماہرین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ پاکستان کی موجودہ سفارتی پوزیشن بہتر ضرور ہوئی ہے لیکن یہ ایک بھربھری بنیاد پر کھڑی ہے اور جب تک ریاست اپنے اندرونی سیاسی بحرانوں، معاشی کمزوریوں اور داخلی سکیورٹی کو مستحکم نہیں کرتی، یہ بین الاقوامی فوائد عارضی ثابت ہو سکتے ہیں۔ 😊

تحریر: مہوش فضل جٹ
عالمی  سطح پر پاکستان 2025-2026 کے لیے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوا ہے، جو عالمی سطح پر اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی علامت ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان 2026 سے تین سال کے لیے انسانی حقوق کونسل کا ممبر بھی منتخب ہو چکا ہے۔
دسمبر 2025 میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کی نشاندہی پاکستان کی ایک بڑی سفارتی جیت تصور کی جا رہی ہے۔
ستمبر 2025 میں پاکستان اور سعودی عرب نے ایک تزویراتی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت
ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
چین کے ساتھ تعلقات مزید گہرے ہوئے ہیں خاص طور پر سی پیک کے دوسرے مرحلے اور علاقائی امن کے لیے مشترکہ اقدامات کے حوالے سے
ایران اور امریکہ/اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی میں پاکستان ایک ثالث اور امن پسند قوت کے طور پر ابھرا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے تہران، ریاض اور واشنگٹن کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
ا کنامک ڈپلومیسی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بڑا محور  ہے تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔
بھارت کے ساتھ تعلقات تاحال منجمد ہیں، جبکہ افغانستان کے ساتھ سرحد اور دہشت گردی کے معاملات بدستور ایک چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
مجموعی طور پر پاکستان کی سفارتی پوزیشن پچھلے چند سالوں کے مقابلے میں بہتر اور مستحکم ہوئی ہے۔ تاہم، ملکی سیاسی استحکام اور معاشی اصلاحات اس سفارتی کامیابی کو طویل مدتی نتائج میں بدلنے کے لیے ضروری ہیں۔  مشرقِ وسطیٰ کے بحرانوں (جیسے ایران اسرائیل کشیدگی) میں پاکستان کو اپنا توازن برقرار رکھنے میں سخت محنت کرنی پڑ رہی ہے۔ اگرچہ سفارتی پوزیشن بہتر ہوئی ہے، لیکن کچھ رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں ملک کے اندر سیاسی تناؤ اور امن و امان کی صورتحال (خاص طور پر دہشت گردی کے حالیہ واقعات) بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے امیج کو متاثر کرتے ہیں۔۔ ورنہ مئی وار میں جس طرح پاکستان نے بھارت کو دن میں تارے دکھائے ہیں اس اقدام نے پاکستان کو پوری دنیا میں ثابت کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان  نا صرف سفارتی محاز پر مستحکم نظر آتا ہے بلکہ اسرائیل ، ایران، امریکہ جنگ روکنے کے لیے بھی کاوش کرنا نظر آ رہا ہے۔ اب بات کر لی جائے جنگی صورتحال کی تو امریکہ کو تو ویسے ہی شاید اپنی پاور دکھانے کا  بخار چڑھ جاتا ہے لیکن یہ جلد ہی اتر بھی جاتا ہے۔
تین اپریل دو ہزار چھبیس۔۔۔ جنگ کے چھتیس ویں روز۔۔۔
   ایرانی میزائل  ٹیکنالوجی    نے   ۔۔۔  چھیتر ملین ڈالر    کا  ایف  ایٹین  ہارنٹ  فضا میں اڑا دیا ۔۔
ایک سو دس ملین  ڈالر کا ایف  ففٹین  ایگل بھی      ایرانی میزائل کا نشانہ بنا ۔۔۔بے جان پرندے کی طرح زمین پر آ گرا
 اور پھر ۔۔۔ امریکا کا غرور۔۔  سو ملین ڈالر کا ایف   تھرٹی فائیو بھی شکار ہوا
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق تین جنگی طیاروں کے علاوہ دو ریسکیو ہیلی کا پٹر بھی تباہ ہوئے
 ایران نے  تین امریکی  فائٹر جیٹس        تباہ نہیں کیے ،،،امر یکی  فوجی  طاقت  کا بیانیہ خلیج میں غرق کردیا
جنگ کے دوران سعودی عرب میں امریکی اڈے پر ایرانی حملے نے
تین سوملین ڈالر  کا امریکی    ای ۔ تھری   سینٹری   وارننگ طیارہ    جلا کر راکھ کردیا
کویتی افواج نے  فرینڈلی فائرنگ میں  تین  امریکی  ایف   ففٹین تباہ کردیے۔۔۔
امریکا  ابتک    دس ان مینڈ    ڈرونز سمیت  بیس  سے زیادہ فائٹر  جیٹس   گنوا چکا
خلیج میں امریکا کے  تمام   تیرہ ایئر بیسز پر   حملے ،،  ابراہام لنکن  اور جیرالڈ فورڈ  پر میزائل حملے،، اورآبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ۔ ایران    کی اہم کامیا بیاں ہیں  ۔۔
 دوسری جانب ،،  سیز فائر کے لیے ٹرمپ کی بے چینی ،         ایرانی  رجیم سے   رابطوں کے سچے جھوٹے  دعوے،، امریکا کی  جنگ سے  باہر آنے کی خواہش    اور   آبنائے ہرمز کھلوانے میں ناکامی بھی دنیا کے سامنے ہے
لیکن پھر بھی امریکا       جنگ میں برتری کا دعوے دارہے ۔۔۔
 ٹرمپ نے   یکم اپریل کو       دعویٰ کیا  ۔۔۔ ایران کی نوے فیصد فوجی طاقت   توڑی دی ،  جوہری صلاحیت ختم کردی ،،
 دواپریل کو  امریکی انٹیلی جنس   رپورٹ نے         انکشاف کیا ” ایران      کی     فوجی  طاقت          تاحال    خطرناک حد تک فعال ہے “
 تین اپریل کی رات  ۔۔ ایرانی میزائلوں نے    امریکا کے تین جدید ترین  فائٹر جیٹس گرا کر اپنی فعالیت کا ثبوت دے دیا ۔۔۔ ایسا  پہلی بار نہیں ہوا ۔۔   امریکاغیر معمولی  فوجی نقصان ۔۔ امریکا کی  ہر  جارحیت کا معروف منظر نامہ ہے
 یہ امریکا کی جنگی تاریخ کا وہ     سچ ہے   ۔۔۔۔  جو پانچ   جھو ٹے بیا نیوں سے  جڑا ہے ،،  اور ان  جھوٹے بیانیوں سے جڑی  ہیں  ۔۔ امریکا کی  پانچ بڑی جنگیں ۔۔۔۔    ان        جنگوں میں سب سے   کامن ہے      امریکا کی  ” اسٹریٹجک   مس کیلکولیشن “۔۔۔
    سب سے پہلے  ویت نام جنگ ۔۔ امریکا  کے لیے ڈراؤنا خواب ۔۔۔ بیس سال میں اربوں ڈالر خرچ کر کے   پچاس ہزار امریکی فوجی تابوت اٹھائے ،،ذلت آمیز شکست کو واشنگٹن نے   جھوٹے بیانیہ سے کیمو فلاج   کیا ،،اور،،جنوبی ویتنام  میں جمہوریت کو اپنی فتح بتایا
 پھر آتی ہے دوہزار تین کی   عراق  جنگ۔۔۔ جو    کیمیائی ہتھیاروں کے جھوٹے الزام پر امریکی فوج نے  آٹھ سا ل تک لڑی  ،، ڈیڑھ لاکھ عراقی ماردیئے ،، چار ہزار امریکی فوجی جنگ میں کام آئے ،، لیکن کیمیائی ہتھیار نہ ملے ۔۔۔ آخرکار  جارج بش نے  طیارے کے  ڈیک پر کھڑے ہو کر  عراق  مشن  مکمل ہونے   کا اعلان کیا ۔۔۔اور جنگ ختم کردی
  دوہزار گیارہ میں  لیبیا  میں   رجیم  چینج آپریشن ۔۔۔ امریکا  اور  نیٹو نے بمباری کی ،،  قذافی اوراس   کی ساری اسٹیبلشمنٹ ماردی ،، ہلری کلنٹن نے  تمسخرانہ ہنسی   اڑائی اور کہا  “We came, we saw, he died.”۔۔۔۔۔۔
 لیبیا کا  پرانا  نظام اکھیڑ کر امریکا  چلتا بنا ،، لیبیا  خانہ جنگی میں اجڑ گیا ، قبائلی جنگوں نے اقتدار تقسیم ،، اور ،،ملک  غلاموں کی منڈی بنا دیا ،،لیکن امریکا نے  کبھی خود کوذمہ دار نہیں مانا
افغانستان میں وار آن  ٹیرر کے  بیس سال ،،،  امریکا کو دو ٹریلین ڈالر میں پڑے  ،،  دوحہ معاہدہ پر   سیو  کوریڈور ملا تو امریکی میرین۔۔  ووطن لوٹے ۔۔لیکن خالی ہاتھ  ۔۔ صدر بائیڈن نے   بیس سالہ جنگ کو غلطی کے   بجائے  آرڈرلی ٹرانزیشن   کہا
 اور اب  ۔۔۔  ایران جنگ ۔۔۔       NARITIVE  سے  بیٹل فیلڈ تک ۔۔۔۔ سب    کچھ  پہلے جیسا
 اپنی چھیڑی ہر جنگ میں    امریکا نے شکست کھائی  یا مشن فیل ہوا،، لیکن انکل سام نے۔۔۔   کبھی  ناکامی کو لفظوں کا جامہ   پہنایا  تو   کبھی     بیانیہ  کی چادر اوڑ ھ لی ۔۔۔ لیکن د نیا پر اپنا دبدبہ  ۔۔۔اور ۔۔ امریکا میں    اپنا بھرم قائم رکھا
   ۔۔ ایران     کا امریکا  اور اسرائیل کے ساتھ جنگ میں ملوث ہونا ۔۔۔     پاور آف بیلنس کے   اصول پر    کچھ فٹ نہیں  بیٹھتا ،، دیکھا جائے تو ایک  طرف   دنیا کی سپر پاور امریکا  ،، اور اس کا اتحادی ،، اسرائیل،،  جو   دنیا بھر میں           بھرپور   معاشی ، فوجی ، سیاسی  اثر ونفوذ رکھتا ہے
 اور  دوسری جانب  ،،        تیس سالوں سے   معاشی  فوجی  تجارتی  پابندیاں سہنے والا  ایران،،    جو پہلے انقلاب کے  تھپیڑے کھاتا رہا ،،  پھر   آٹھ سالہ  عراق  جنگ   کے ہاتھوں ہلکان ہوا ،،  اور پھر امریکی   پابندیوں نے     ایران کا  گلا گھونٹا ،،لیکن اس کے باوجود    دنیا  ۔۔۔ایران کو    اپنے طاقت ور دشمن کے مقابلے میں          تن کر کھڑا دیکھ رہی ہے ۔۔۔ کیا اس کی وجہ     پچیس سو سالوں سے  ایرانی  قوم کا   ہمیشہ    سپر پاور ز سے    ہونے وا لے ٹکراؤ ہے ۔۔۔ یا ا  یہ          انقلابی رجیم    جذبہ   شہادت ۔۔   سب سے اہم ۔۔   ایران کا  Calibrated Escalation      ہے ،،  سادہ الفاظ میں  نپے تلے  اور   کیلکو لیٹڈ            جواب پر مبنی جنگی  پالیسی    بھی ایران کی جنگی  تاریخ  سے  آئی ہے  یا ۔۔    پاسداران انقلاب کے   اسٹریٹجک دماغوں  کا       خراج  ہے
ایران  تو   چاہتا ہی ہے  کہ امریکا کو مغربی ایشیا سے باہر نکالے ،، لیکن اسرائیل کیوں چاہتا ہے کہ امریکا اب     مشرق وسطیٰ سے  نکل جائے ؟؟ کیا  ایران   کے   ہاتھوں           جنگی نقصان  ،،  جنگوں سے تھکے امریکا  کو  جنگ سے ہی نہیں     مشرق وسطیٰ سے بھی نکال    لے جائے گا ؟؟    اسرائیل   کے خیال میں    امریکی فوجی  چھتری ہٹنے پر   عرب ملکوں   سے نمٹنا  ، گریٹر اسرائیل   کی جانب بڑھنا  آسان ہوگا ۔۔   ۔۔یہ جیو پولیٹیکل تھیوری  ہے،، جو    مشرق وسطیٰ میں پاکستان کے آئندہ کردار کا عکس   دکھا رہی ہے ،، اب سوال یہ ہے  کہ       یہ کس حد تک حقیقت سے قریب ہے
اگر امریکہ واقعی مشرق وسطیٰ میں اپنا کردار کم کرتا ہے تو یقینی طور پر یہ اسرائیل کے ایک موقع ہوگا ،،لیکن         پاک سعودی دفاعی  معاہدہ پاکستان کو    مشرق وسطیٰ سے  جوڑ رہا  ہے ،،  ممکنہ اسرائیلی پیش  قدمی یا   طاقتی توازن بگاڑنے کی کوشش   پر    پاکستان  کا ردعمل  اور     مڈل ایسٹ میں ممکنہ     کردار کتنا موثر ہوگا؟
ایران نے امریکہ کے بعض مطالبات کو “غیر منطقی” قرار دے کر فی الحال اسلام آباد میں ملاقات سے انکار کیا ہے، جس کی وجہ سے مذاکراتی عمل میں تعطل پیدا ہوا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ کردار صرف سفارتی نہیں بلکہ بقا کا مسئلہ بھی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش اور جنگ کی وجہ سے ملک میں ایندھن کی قیمتیں اور معاشی بحران شدید ہو رہا ہے۔
پاکستان اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں “سفارت کاری کا مرکز بنا ہوا ہے اگرچہ مذاکرات ابھی تک کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے، لیکن پاکستان کی جانب سے مسلسل رابطے اور علاقائی طاقتوں کو یکجا کرنا اسے اس بحران کا سب سے اہم    وصیلہ بناتا ہے۔۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟